سورہ لقمان، سورہ السجدہ کا آئینہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
سورہ لقمان 31 + سورہ السجدہ32
اس زمانے میں نازل ہوئی جب کفار کی طرف سے مخالفت جبر و ظلم کی حد تک نہیں پہنچی تهی . اس سورت میں توحید کی صداقت شرک کی مزمت میں دلائل ہیں. باپ دادا کی اندھی تقلید سے منع کیا گیا ہے عربوں میں لقمان نام کا ایک عقل مند حکیم مشہور تها جس کی دانشمندی اس کے اقوال ضرب المثل تهے . الله تعالی نے اس کے اقوال کا حوالہ دے کر کفا ر کو توجہ دلائی ہے کہ وہ بهی شرک سے بےزار تها توحید کی تعلیم دیتا تها . شکر کی تلقین کرتا تها. اچهے اخلاق کا علمبردار تها .شروع سورت میں راہ راست پہ چلنے والوں کی صفات بتائی گئ ہیں نماز قئم کرتے زکوه دیتےاور آخرت پہ یقین رکهتے ہیں.. راہ راست سے دور کرنے والوں کی نشان دہی کی گئ ہے یہ وہ ہیں جو لهو الحدیث کا کاروبار کرتے ہیں. لهو الحدیث سے مراد گانا بجانا فواحش و منکرات کی ترغیب و ترویج ہے..جب کسی قوم میں لهو الحدیث کو سرکاری سرپرستی حاصل ہوجائے تو معاشرے میں حیا کا نور نہیں رہتا، جب کسی میں حیا نہ رہے تو پهر ہر عیب آسان ہو جاتا ہے.کیونکہ بے حیائی کےماحول میں سانس لینے والے بهی برائی دیکهنے کے عادی ہو جاتے ہیں. جو خود تو برائی نہیں کرتے لیکن برائی روکنے کی کوشش بهی نہیں کرتے ان کی بهی باز پرس ہوگی. اس لئے کہ معاشرہ بهلائی پہ اسی وقت قائم رہ سکتا ہے جب اس میں نیکی کی تلقین کرنے والے ہوں اور برائی سے منع کرنے والے ہوں اور یہ دونوں کام مستقل بنیادوں پہ صبر کے ساتھ جاری رہے. ..”لوگو؛اپنے رب کے غضب سے ڈرا دن سے جب کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ نہ دےگا اور نہ ہی بیٹا باپ کی طرف سے کچه بدلہ دینے والا ہوگا،بے شک الله کا وعدہ بر حق ہے پس یہ دنیا کی زندگی تمہیں دهوکے میں نہ ڈالے اور نہ دهوکے باز (شیطان )تمہیں الله کے معاملے میں دهوکا دینے پائے "آیت33
ہم سوچتے ہیں کاش ہمیں کوئی دهوکے بازوں کے بارے میں پہلے سے خبردار کردے نقصان سے بر وقت بچ جائیں ،ان جانے میں ان سے دوستی نہ کرلیں. ..الله سبحانه وتعالى جیسی عظیم الشان ،حق بات کرنے والی ہستی ہمیں بروقت سب دهوکے بازوں کے بڑے سردار سے خبردار
کررہی ہے اور اس کے دشمن ہونے کی اطلاع دے رہی ہے اور ہم ہیں کہ غفلت میں مبتلا ہیں.اسی دشمن کو دوست بنائے ہوئے ہیں. کیا اپنے رب کی باتوں پہ ہمارا یہ ایمان و یقین ہے؟؟
اللهم إنا نعوذبک من الشیطان الرجیم من همزه و نفخه ونفثه.اللهم انا نعوذ بک من ابلیس و جنوده .. اللهم إنا نسئلک ایمانا کاملا و یقینا صادقاً آمین
سورہ السجدہ 32
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اس سورہ کا موضوع توحید آخرت اور رسالت کے متعلق شبہات کو دور کرنا ہے.خوشخبری ہے.ان کے لئے جو اپنے رب کی محبت میں اپنی نیند راحت چهوڑ دیتے ہیں محبوب سے ملاقات کرتےہیں جب سب لوگ سورہے ہوتے ہیں.تو جوابا الله نے بهی أن کے لئے خاص نعمتیں چهپارکهی ہیں جو صرف سحر خیز لوگوں کو ملیں گی ایسی نعمتیں جن کا تصور بهی کوئ نہیں کر سکتا.اس خاص طور پہ تیار کی گئی سرپرائزڈ نعمتیں جس کو درکار ہوں وہ آج ہی سے اپنے محبوب حقیقی سے ملاقاتوں کا پلان بنائیں. .اللهم اجعل حبک أحب الینا من نفوسنا واهلنا ومن المآء البارد یا مقلب القلوب ثبت قلوبنا علی دینک وطاعتک…آمین
طالب دعا بشری تسنیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s