رمضان قران سے تعلق کا مہینہ

قرآن حکیم اور ہماری ذمہ داری

اللہ رب العزت نے دنیا کی ابتدا ایک ایسے بشر سے کی جو نبی بھی تھا۔ زندگی کے تمام اسرار و رموز اور مقاصد جلیلہ اس نبی کے ساتھ ہی اتارے گئے۔ انسان کی پیدائش اور اس کو خلافت کا تاج پہنانے میں جو خاص مقصد اور مشن تھا وہ آخری نبی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ بعینہ زندہ تابندہ رہا اور امت مسلمہ اس اعلیٰ مقصد کی تشکیل کے لئے قائم و دائم ہے۔ اللہ رب العزت نے کوئی بھی عبادت بغیر کسی مقصد کے فرض نہیں کی۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ حج اور جہاد سب ایک ہی مقصد کی تکمیل کے سلسلہ وار مرحلہ وار اجزاٰ ہیں وہ کیا مقصد جلیلہ ہے۔ جس کی تکمیل امت مسلمہ کا فریضہ ہے؟ قرآن حکیم کے اپنے الفاظ ہیں جو سورہ البقرہ کی آیت نمبر143 میں درج ہیں۔ جس میں ’’شہادت علی الناس‘‘ کا سلوگن امت مسلمہ کو دیا گیا۔

سورہ آل عمران میں اسی مقصد کو ان الفاظ میں فرمایا گیا کہ ’’تم وہ بہترین امت ہو جسے لوگوں پر ﴿اتمام حجت﴾ کی خاطر برپا کیا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو۔ بدی سے روکتے ہو۔ اللہ پر پختہ یقین رکھتے ہو۔ یعنی امت مسلمہ کا مقصد وحید ہی یہ ہے کہ وہ دنیا میں نیکی کا پرچار کرے اور برائی کے سدباب کے لیے کمر بستہ رہے۔ بلاشبہ یہ ایک نہایت عظیم مشن ہے جو امت مسلمہ کو سونپا گیا اور مقصد و مشن جتنا عظیم ہوتا ہے۔ فرد ہو یا قوم اس کی تربیت بھی ہمہ پہلو سے کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسلام کے تمام ارکان کو اسی ہمہ پہلو سے مزین فرمایا ہے کہ ایک رکن دوسرے رکن کی ادائیگی اور تکمیل کے لیے ناگزیر ہو جاتا ہے۔ نماز ’’عماد الدین‘‘ ہے تو روزہ کے بارے میں ’’الصوم جُنَّۃ’‘فرمایا گیا اور ہر رکن کے بارے میں قرآن حکیم کا انداز بیاں منفرد ہے۔ روزے کے بارے میں سورہ البقرہ میں ایک مکمل اور لمبی تقریر ہے، جبکہ باقی ارکان کے متعلق ہر سورۃ میں مختلف انداز میں آیات ملتی ہیں۔

سورہ البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا اور اس روزے کا مقصد بیان فرمایا گیا کہ ’’تاکہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو جائے۔‘‘ گویا روزے کی عبادت اس لیے فرض کی گئی کہ امت مسلمہ بحیثیت ایک قوم اور ایک فرد کے ’’تقویٰ کی صفت سے متصف ہو جائے اور یہی وہ چیز ہے جو نیکی اور خیر کے تمام کاموں کے لیے بنیاد ہے۔ انسان کی روحانی ترقی کا دارومدار صرف اور صرف تقویٰ پر ہی ہوتا ہے۔

انسانی وجود کے دو جُزئ ہیں۔ ایک جُزئ روحانی وجود ہے جس کو ’’احسن تقویم‘‘ کا نام دیا گیا۔ دوسرا جز حیوانی وجود ہے۔ جس کو ’’اسفل سافلین‘‘ کا نام دیا گیا۔ ایک کا تعلق ’’عالم امر‘‘ سے ہے تو دوسرے کا تعلق ’’عالم خلق‘‘ سے ہے۔ ایک خاکی ہے تو ایک نوری ہے۔ انسانی وجود کے دونوں جُزئ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ان دونوں میں اعتدال اور نفس کے منہ زور گھوڑے کو لگام دیئے رکھنا ہی انسانیت کی معراج ہے۔ نفس کو قابو رکھنے کے لیے تقویٰ کی شرط لازم ہے اور تقویٰ کی یہ صفت روزے سے بدرجہ اُتُمّ پوری ہوتی ہے۔

روزے کو قرآن حکیم سے کو نسبت دوسری عبادات کے مقابلہ میں زیادہ حاصل ہے کہ روزہ انسان کو روحانی مدارج کی طرف مائل کرتا ہے اور ان مدارج کو طے کرنے کے لیے قرآن حکیم سے بڑھ کر کوئی اور نسخہ کیمیا نہیں مل سکتا۔ روزے کے ذریعے انسان کے روحانی وجود پر سے اس کے حیوانی وجود کی گرفت کمزور پڑ جاتی ہے۔

ماہ رمضان المبارک کی اہمیت ہی اس وجہ سے بیان کی گئی ہے کہ اس میں قرآن پاک نازل ہوا اور اس مہینے کی عبادت قرآن کی تلاوت اور اس کو سمجھنا اور دوسروں تک پہنچانا ہے۔ جس طرح حج کے دوران منیٰ کے پانچ دن کا عمل نوافل پڑھنا نہیں ہوتا بلکہ آپ کا میل جول ہوتا ہے۔ اس طرح رمضان المبارک کا عمل قرآن مجید کو سمجھنا اور کثرت سے تلاوت کرنا ہے۔ قرآن مجید کو سمجھنا اور کثرت سے تلاوت کرنا ہے۔ قرآن مجید کی چھوٹی سی چھوٹی سورت کو سمجھ کر پڑھ لینا پورے قرآن مجید کو بغیر سمجھے پڑھ لینے سے بہترہے اور ایک آیت پر غور و فکر کرنے کے لیے وقت صرف کرنا 100 نفل ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔

رمضان المبارک میں ہر مسلمان کی تمنا ہوتی ہے کہ وہ ایک مرتبہ ضرور قرآن مجید کی تلاوت کر لے اور یہ سنت بھی ہے۔ اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ روزہ دار جتنی تلاوت کرے اس کا کم از کم ترجمہ بھی ضرور مطالعہ کر لیا کرے اور اب تو ایسی مختصر حواشی اور ضروری نکات والی کتب دستیاب ہیں۔ جن سے ہر سورت یا ہر پارے کے ضروری احکامات درج ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی اپنی پستی اور ذلت کو ترقی اور عزت میں بدلنا ہے تو خود کو ’’قاری کے پردے میں قرآن‘‘ بن کر دکھانا ہو گا۔یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم قرآن کے ہر حکم اس کی ہر آیت پر غور و خوض کریں اور اپنا محاسبہ بھی کریں۔ قرآن دراصل روح کی تقویت کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔ اس کے انوار کا فیضان جب روح انسانی پر پڑتا ہے تو روح کو حیات تازہ عطا ہوتی ہے۔اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ماہ رمضان کو روزے کی عبادت کے ساتھ مختص کرنے کا اصل منشا اور یہ مقصود ہے کہ دن کو روزہ ہو اور راتیں قرآن مجید کے ساتھ بسر ہوں۔

گویا یہ روحانی و حیوانی وجود کی تربیت و اصلاح کے لئے ایک دو آتشہ پروگرام ہے۔ اس کے پیش نظر وہ حدیث اپنی اہمیت خود اجاگر کرتی ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے روایت کیا’’ نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا! جس نے روزے رکھے رمضان المبارک میں ایمان و احتساب کے ساتھ اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے گئے اور جس نے رمضان المبارک کی راتوں کو قیام کیا۔ایمان واحتساب کے ساتھ اس کے لئے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے گئے۔ ’’گویا روز ہ دن کو رکھنا ایک عبادت اور راتوں کو قرآن کی تلاوت اور اس پر غور و خوض دن کی عبادت کو مزید حسن بخشتی ہے۔ اس کا اجر علیحدہ ہے اور روزے کی عبادت کو تقویت دینے والا عمل ہے۔

اگرامت مسلمہ کا ہر فرد خواہ وہ مرد ہو یا عورت اپنے معمولات کو قرآن سے منسلک نہیں کرے گاتویہ پر آشوب اور آزمائشوں کا دور ختم نہ ہو گا۔ قرآن سے تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے کیا عملی اقدامات کر سکتے ہیں۔ یہ ہر مرد و عورت اپنے روز مرہ کے اوقات کار طریق کار کو سامنے رکھ کر ترتیب دے سکتے ہیں۔

وہ خواتین و مرد جو ناظرہ قرآن بھی نہیں پڑھ سکتے۔ وہ شب بیداری کر کے تلاوت قرآن پاک کی کیسٹ سن سکتے ہیں۔ صبح کے وقت ٹی وی پر جس بہترین طریقے سے تلاوت و ترجمہ پیش کیا جاتا ہے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ورنہ کام کاج کے دوران تلاوت و ترجمہ کی کیسٹ لگا کر دل کے کانوں سے اس کو سنایا جا سکتا ہے۔ رات یا دن کا کچھ حصہ صرف کر کے ایک دو تین آیات ہی کسی عالم کے پاس بیٹھ کر سمجھ لی جائیں تو مؤثر ہو سکتا ہے۔ محلے میں وہ خواتین جو قرآن پاک کی تلاوت کر سکتی ہیں اور اردو ترجمہ بھی پڑھ سکتی ہیں۔ مل جل کر اجتماعی مطالعہ کر سکتی ہیں۔ صبح 10 سے 12 بجے کا وقت فراغت کا ہوتا ہے۔ سارے قرآن مجید کا نہ سہی چند خاص سورتوں کی تلاوت و ترجمہ بھی مفید ثابت ہو گا۔ بازاروں میں مرد حضرات یہ سلسلہ صبح کے فارغ ٹائم میں شروع کر سکتے ہیں۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک ہی ماہ میں رمضان المبارک کے مہینے میں روزے رکھنے کا حکم دیکر یکجہتی اور روحانی طور پر یکسوئی عطا فرمائی ہر شہر کے خواتین اور مرد ایک خاص اوقات میں ترجمہ و تلاوت سے مستفید ہوں تو پورا علاقہ انوار ربانی سے منور ہو جائے۔ گھروں میں خواتین ذکر و تلاوت میں مشغول ہوں تو دکانوں، دفتروں میں ایک ایک گھنٹہ اجتماعی مطالعہ قرآن کے لئے مخصوص ہوں۔ ہر گھر کا سربراہ تراویح کے بعد اپنے اہل خانہ کے ساتھ قرآن کی معیت میں وقت گزارے۔ وہ قرآن جو تراویح میں سنا گیا۔ اس کے پہلوؤں پر غور و خوض کیا جائے۔ ہر گھر قرآن گھر بن جائے۔ پڑھے لکھے قرآن کے عالم خواتین و حضرات اپنے ان پڑھ بہنوں بھائیوں کو قرآن سے وابستگی سے مالا مال کریں۔ اگر حکومت اس طرح کے پروگرام ہر سطح پر متعارف کروائے تو سونے پر سہاگہ ہو۔ ورنہ ہر درد مند مسلمان خود سے اس معاملے میں پیش قدمی کرے۔ کونسلرز اور ناظم و ناظم اعلیٰ سب مل کر اپنے رب کے عنایت کردہ اس عظیم تحفے کی قدر کرنے کے لیے نیت کریں۔ اللہ تعالیٰ خود راہیں آسان فرما دیں گے۔ ابھی رمضان المبارک میں کچھ دن ہیں۔ سب مل کر اس پر سنجیدگی سے غور کریں اور ایک لائحہ عمل طے کریں۔

یہ حقیت ہے کہ مسلمان تارک قرآن ہو کر ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ ابھی بھی وقت ہے امت مسلمہ کا ہر فرد قرآن کا دامن تھام لے۔ دنیا کے تمام اصول و قواعد کو ترک کر دے۔دنیا والوں کی نظروں میں کیا عزت اور کیا ذلت کا معیار ہے۔ بھول جائے۔ صرف یہ یاد رکھے کہ اس کے رب کی نظروں میں وقعت کس چیز کی ہے۔ عزت و وقار کا منبع و سرچشمہ کیا ہے؟ اس کے روحانی و حیوانی وجود کی اصلیت کو برقرار رکھنے کا نسخہ کیمیا کیا ہے؟ بحیثیت ایک فرد اور قوم کے ’’احسن تقویم‘‘ کیسے بننا ہے؟ اور یہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ قرآن کو تھامے بغیر مسلمان نہیں بن سکتے۔اور ہم قرآن کا پرچم لے کر اٹھیں گے تو ساری دنیا پر چھا جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا کہ ’’اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا۔ اور پھر کوئی تم پر غالب نہیں آ سکے گا۔‘‘

آیئے ہم سب مل کر اللہ کی رسی کو تھام لیں اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالیں۔

ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s