حدیث نمبر 5

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد رحمۃ للعالمین

مجموعہ احادیث زاد راہ میں حدیث نمبر 170 ترغیب و ترہیب کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان درج ہے

"قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے تم جنت میں نہ جا سکو گے جب تک مومن نہ ہو جاؤ، مومن نہیں بن سکتے جب تک تم آپس میں میل ملاپ اور محبت نہ رکھو اور کیا میں بتاؤں کہ آپس میں محبت کیسے پیدا ہوگی؟آپس میں سلام کو  پھیلاو (رواج  دو)۔”

اخلاص نیت الله تعالى سے تعلق کا مظہر ہے اور نماز اس تعلق کی عملی شکل ہے۔ دن میں پانچ بار اللہ سبحانہ وتعالٰی سے ملاقات مومن کے ظاہری وباطنی پاکیزگی کے احساس زندہ رکھتی ہے۔ الله کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی فرماںبرداری کے ثبوت پیش کرنے والا اپنے معاملات سے کیسے غافل ہو سکتا ہے۔

ایمان مکمل نہیں ہوتا جب تک اللہ کے بندوں سے معاملات درست نہ ہوں۔  باہم مومنوں کے ایمانی اخلاق، غیرمسلم افراد اور اقوام کے لیے ایک مثبت پیغام ہوتے ہیں۔ اسی لیے مسلمانوں کو آپس کے تعلقات مثالی بنانے کے لیے پہلا عمل یہ سکھایا گیا ہے کہ” آپس میں سلام کو رواج دو یا کثرت سے سلام کرو "۔

سلام کی اہمیت، اس کی عظمت اور بھی بہت سی احادیث سے ثابت ہے۔ پہل کرنے والے کو زیادہ نیکیاں ملتی ہیں۔ فرشتے دعا کرتے ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا طرز عمل سلام کی کثرت اور اس کو پھیلانے کے معاملے میں یہ تھا کہ دو لوگ ساتھ چلتے چلتے کسی درخت یا دیوار کی وجہ سے الگ ہوتے تو دوبارہ ساتھ ملنے پہ ایک دوسرے کو سلام کرتے۔ چونکہ وہ جانتے تھے کہ سلام کرنے سے ایک دوسرے سے محبت بڑھتی ہے۔ دنیا نے دیکھا کہ صحابہ کرام جیسی محبت تاریخ کے کسی دور میں نہیں ملتی۔۔۔ صحابہ کرام امت مسلمہ کے سامنے طاعت و فرماں برداری کے نمونے تھے۔۔۔ تاکہ امت مسلمہ جان لے کہ اس دنیا کے ہی انسان ہر فرمان رسول پہ عمل کر سکتے ہیں۔۔۔ سلام کرنے میں ایسا کیا جادو ہے کہ آپس میں شیر و شکر کی طرح گھل مل جائیں۔۔۔

پہلی بات یہ کہ دل میں اخلاص ہے۔۔ کھوٹ نہیں ہے۔ الله کی محبت میں ملنا ہے الله کے فرمان پہ عمل کرنے کا جذبہ ہے۔۔۔ سلامتی کی ایسی دعا ہے کہ السلام علیکم صرف لفظ نہیں ہیں بلکہ قلب کی گہرائیوں سے دعا ہے کہ میری طرف سے آپ بے فکر رہیں، مجھ سے آپ کی عزت آبرو جان مال کو کوئی خطرہ نہیں میری آنکھوں کان زبان ہاتھ اور میرے ارادے صرف آپ کی خیر اور سلامتی چاہتے ہیں الله کی رحمت اور برکت سے آپ کی دنیا اور آخرت کامیاب ہو۔۔۔ میرے قلب و ذہن میں آپ کے لیے خیر خواہی کے سوا کچھ نہیں ہے۔۔۔ جب مسلمان زیادہ سے زیادہ یہ دعا معاشرے میں پھیلا دیں گے تو شیطان اپنے سارے حربے استعمال کر کے بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ آج ہمارے دل ایک دوسرے سے دور ہیں۔ محبتوں اور خلوص کا فقدان ہے۔ خیرخواہی کا جذبہ ختم ہے۔ اگر کہیں ہے تو یک طرفہ ہے دوسرا خیر خواہی قبول نہیں کرتا۔۔۔ نفسا نفسی کا عالم ہے۔۔۔ محبتوں کو پروان چڑها نے والا عمل خلوص سے خالی ہے، محض الفاظ ہیں جو عادتاً ایک دوسرے کے سامنے دہرا دیے جاتے ہیں۔ محض زبان سے لفظ ادا کرنے سے دل میں حرارت کیسے پیدا ہو؟ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کی گہری بصیرت حاصل کرنا ضروری ہے۔ الله تعالى کے نبی محمد صل اللہ علیہ وسلم جو کہ چلتا پھرتا قرآن تھے اور صحابہ کرام اس قرآن ناطق کے سچے پیروکار تھےسلام کو رواج دے کر محبت کی معراج کو پا گئے اور یہ اعزاز حاصل کر لیا کہ "رضی الله عنهم کی خوشخبری دنیا میں ہی سن لی۔

ہم اپنے دلوں کی حالت کا جائزہ لیں کہ سلام کرنا ہمارا محض رواج اور کلچر ہے یا سلام کرنا دل کی گہرائیوں سے دعا دینے کا رواج ہے۔۔۔

والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s