حدیث نمبر 6

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد رحمۃ للعالمین

مجموعة احادیث ” زاد راہ ” میں ترغیب و ترہیب کے حوالے سے درج ہےکہ نبی اکرم محمد صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "قیامت کے روز آدمی کے پاس اس کا کھلا ہوا اعمال نامہ لایا جائےگا وہ اس کو پڑھے گا تو پوچھے گا ” اے میرے رب! میں نے دنیا میں فلاں فلاں نیک کام کیے تھے وہ اس میں درج نہیں ہیں۔” الله تعالى جواب دیں گےکہ لوگوں کی غیبت کرنے کی وجہ سے وہ نیکیاں تمہارے نامہ اعمال سے مٹا دی گئ ہیں”۔

ایک اور حدیث کے مطابق یہ گناہ کبیرہ ہے اور زنا جیسے گناہ سے بھی بدتر ہے۔ الله تعالی نے سورہ الحجرات میں اس برائی کی شدید الفاظ میں مزمت کی ہے۔۔۔ مردہ بھائی کی لاش کو نوچ نوچ کر کھانے کا تصور ہی رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ یہ وہ برا فعل ہے جس میں لوگ سب سے زیادہ مبتلا ہوتے ہیں اور اس کو ہلکا سمجھتے ہیں۔ ایک وباء کی مانند یہ اخلاقی بیماری ایک سے دوسرے تک پہنچتی جاتی ہے۔ زبان کی وجہ سے ہی انسان کو دنیا وآخرت میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور پیٹھ پیچھےعیب بیان کرنا ان سب میں نمایاں ہے۔۔۔ قرآن پاک میں جس طرح الله تعالی نے مثال دے کر سمجھایا ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اپنے معاشرے کا تصور کریں تو لاشوں کو نوچتے کھاتے ہوئے لوگ نظر آئیں گے۔ کچھ لوگ اس کام سے بچنے کی کوشش کریں تو دوسرے زبردستی ان کو شریک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔ کچھ بھی معاملہ ہو معاشرے میں اولادِ آدم مردہ بہن بھائیوں کی لاشوں کو کھانے میں مصروف ہے اوراس کو گپ شپ، بہترین وقت گزاری، لطف اندوزی اور بے تکلف دوستی کا نام دیا جاتا ہے۔ غیبت کرنے والے کا دل سخت ہو جاتا ہے۔ نیکی کر کے دل کوخوشی کا احساس چھن جاتا ہے۔ اک ان جاناخوف کا احساس قلب و روح پہ چھا یا رہتا ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہئےکہ جو ہم سےکسی کی برائی بیان کرتا ہے لازم وہ ہمارے بارے میں بھی کسی اور کے پاس جا کر ہماری برائی کرتا ہے۔ غیبت جیسے گناہ سے بچنے کے لیے ہمیں اپنے نفس سے باقاعدہ جنگ کرنی ہوگی۔  اور یہ جنگ جیتنے کے لیے پوری تیاری کرنی ہوگی۔ اپنی عبادتیں اور تمام نیکیاں اگر محفوظ رکھنی ہیں تو اس کے لیے خاص اہتمام کرنا ہوگا۔

روزانہ اپنا محاسبہ کیا جائے کہ آج کتنے لوگوں کی غیبت کی اور اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ اگلے روز اس میں کمی لانی ہے روزانہ اگر یہ تعداد ایک نمبر  بھی کم ہوتی ہے تو اچھی کامیابی ہے۔ مسلسل کوشش سے پہاڑ بھی سر کیا جاسکتا ہے۔

جس فرد  کی کوئی ہم سے برائی کرے تو اس کا دفاع کیا جائے اس کی کوئی خوبی ضرور بیان کرکے گفتگو کا رخ موڑنے کی کوشش کی جائے۔

اپنی ذہنی تربیت کے ساتھ ساتھ جس کی برائی کی ہے اس کے لیے دعائے خیر کی جائے۔۔۔ بار بار ایسا کرنے سے دل کی سختی دور ہوتی ہے۔

زبان کی حفاظت کے لیے یہ عادت بنانے کی مشق کی جائے کہ بات کرنے سے پہلے سوچ لیں کہ اس بات کو کرنے سے فائدہ زیادہ ہے یانقصان ؟ کام کی بات ہو تو کی جائے،محض بات برائے بات کرنا احمقوں کا طریقہ ہے۔

جس محفل میں یا جس ملاقات میں لوگ زیر بحث ہو تے ہوں ان سے دور رہا جائے۔ اپنی نیکیوں کو ضائع کرنے سے بہتر ہے تنہائی اختیار کی جائے۔

سائنس نے رابطے آسان کر دیے ہیں گناہ اور ثواب کے راستے بھی کشادہ ہوگئے ہیں یہ ہمارا انتخاب ہے کہ ہم ا پنے لیے کیا پسند کرتے ہیں۔

لوگوں کے بارے میں باتیں ہی کرنے کی عادت ہے تو انبیاء، امہات المومنین، صحابہ و صحابیات، سلف صالحین کی باتیں کی جائیں ہر بری عادت کو تبدیل کرنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ مل جاتا ہے شرط صرف اپنے نفس کو نیک نیتی سے سیدھے راستے پہ لانے کا عزم ہے "والذین جاهدوا فینا لنهدینهم سبلنا۔۔۔”

الله تعالى تو منتظر ہے کہ اس کے بندے اپنے گناہوں سے  باز آجائیں اور اپنے رب کی طرف پلٹ آئیں۔ اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہیں۔۔۔

اللھم ألف بین قلوبنا و أصلح ذات بیننا واھدنا سبل السلام و نجنا من الظمات الی النور آمین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s