سورہ یوسف کا آئینہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
سورہ یوسف 12
اس سورت میں سیدنا یوسف علیہ السلام کا قصہ تفصیل سےذکر کیا گیا ہے اور اس کو احسن القصص بهی کہا گیا ہے..اس قصہ سے ہر شخص اپنی زہنیت کے مطابق سبق حاصل کرتا ہے اور اپنے مزاج کے لحاظ سے دلچسپی رکهتا  اور اپنی زہنی افتاد کے مطابق اس میں رنگ بهرتا ہے.
سیدنا یوسف علیہ السلام کی زندگی خاص طور پر مرد حضرات کے لئے  ایک نمونہ ہے . اوراس میں اچهے،برےانسانی رویوں کی  نشان دہی کی گئی ہے..جو ہر دور کے معاشرے کا حصہ  رہتے ہیں…
گهر میں ایک بچہ اپنی قابلیت کی بناء پہ والدین کو عزیز ہو تو دوسرے اس سے حسد کی نگاہ سے دیکهتے ہیں..خود اپنی اصلاح کرنے کی بجائے اس کو ایذا پہنچاتے ہیں..اس کے خلاف  تدبیر کرتے ہیں.آخرکار الله تعالی اچهے انسان کی  خوبیوں کا صلہ عطا کرتے  ہیں .یہی معاملہ ہر قوم اپنے درمیان کسی مصلح کے  ساته کرتی ہے اور اسی طرح آس وقت نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم کے ساته ان کی قوم کر رہی تهی.جس طرح سیدنا یوسف علیہ السلام کے سامنے ان کےدوسرے حاسد بهائی زیر ہوگئے تهےاور الله تعالى نے اپنے فضل سے یوسف علیہ السلام کو عزت اور اقتدار بخشا.ان کے خلاف بهائیوں کی حاسدانہ چال انجام کار یوسف علیہ السلام کے حق میں بہتر ثابت ہوئی. اسی طرح مکہ کے مشرک نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم کے خلاف جو چالیں چل رہے تهے ان چالوں کو آلله ان کے اوپر ہی الٹ دینے والاتها.. حاسد کو پشیمانی کے سوا کچھ ہاته نہیں آتا
جس انسان کو جوبهی نعمت عطا ہوتی ہے اسی کے زریعے اس کا امتحان لیا جاتا ہے سیدنا یوسف علیہ السلام کو حسن عطا ہوا تو یہی ان کی آزمائش بن گیا،اور انہوں نےاپنی عصمت عزت آبرو کی حفاظت کے لئے  قیدوبندکو قبول کر لیا اور اپنا دامن داغدار نہیں ہونے دیا،، اس احسن القصص میں  ان مردوں کےلئے اعلی کردار کا نمونہ موجود ہے جو دعوت گناہ دیتی عورتوں کے سامنے ہار مان جاتے ہیں. . حالات جیسے بهی ہوں مردانہ صفت یہ ہےکہ اپنےکردار کواعلی اوصاف سےمتصف رکهیں سیدنا یوسف نے جیل  میں  اخلاق کا بہرین نمونہ ہیش کیا..توحید کی تبلیغ کی.بادشاہ کو بے لاگ رائے دی قوم کی بهلائی کو  مد نظررکها انا کا مسئلہ نہیں بنایا. .اپنی عزت نفس کاپاس رکها اور اپنی بے گناہی کا سب سے اعتراف  کروایا. . قومی خدمت کے لئے خود کو پیش کیا اور عزت کے ساته  اقتدار پایا. .بهائیوں کو ان کی غلطی پہ شرمندہ  نہیں کیا معاف کر دیا. سیدنا یعقوب علیہ السلام کی بیٹے سے محبت اور ان کی جدائی پہ انسانی اور پدرانہ جزبات میں  توکل علی الله  اور امید کا رنگ ہمارے لئے ایک بہترین نمونہ ہے،صبر یے بلکہ صبر جمیل ہے.صبر تو کوئی بهی کرسکتا ہے جب انسان بے بس ہو.بے اختیار ہو وقت گزرنے کے ساته ساته انسان صبر کر ہی لیتا ہے لیکن رنج دکه اوراپنے لوگوں کی دی ہوئی تکلیف پہ اشکو بثی و حزنی الی الله  کہنا اور اس کے تقاضے پورے کرنا ہی صبر جمیل ہے..
سیدنا یعقوب علیہ السلام اور ان کےبیٹے سیدنا یوسف علیہ السلام کی زندگی ایک مثبت کردار کی علامت ہے اور اس میں پیغمبر کےدوسرے بیٹے  بحیثیت بهائی کے نامناسب رویہ کے  حامل ہیں.
عزیز مصر کی گهریلو معاشرت اہل اقتدار  کی اخلاقی مجرمانہ سر گرمیوں کی عکاسی کرتی ہے.اور یہ  زہنیت آج بهی  موجود ہے.جس معاشرے میں گهر کے مردعزیزمصرکی طرح   اپنی عورتوں کی عزت و ناموس سے  بے پرواہ ہو جائیں تو وہاں ہوس    ڈیرے ڈال لیتی ہے.. مسلمان معاشرے میں ہر مردانہ رشتے کی زمہ داری ہے کہ وہ اپنے گهر کی عورتوں کے معاملہ میں قوام(ضروریات زندگی کے ساته اخلاق و کردار تعلیم و تربیت  کا نگران) بننے کی زمہ داری پوری کرے..
سورہ یوسف سے الله تعالى کے قدرت کاملہ پہ یقین بڑهتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے وہ ہوکے رہتا ہے غیر محسوس طریقے سے اپنی مشیت پوری کرتا یے.اور اس بات کا احساس زند ہ ہوتا ہے کہ اگر اپنا کردار مضبوط ہو تو انجام بخیر ہوتا ہے.الله کسی کا نیک عمل ضائع  نہیں کرتا..بد خواہ بهی  اخلاقی برتری تسلیم کرنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں.
سیدنا یوسف کی دعا ہم بهی  کرتے ہیں
فاطر السموات والأرض انت ولی فی الدنیا و الآخرة تو فنی مسلما و الحقنی بالصالحین   آمین
دعا کی طالب بشری تسنیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s