’’شیطان کی مسکراہٹ‘‘

کھانا کھا کر میں ہاتھ دھونے کے لئے واش بیسن کی طرف جا رہی تھی کہ گیٹ پر رکشہ رکنے کی آواز آئی۔ انتظار تو صبح سے ہی تھا، لپک کر کھڑکی سے دیکھا۔ خلاف توقع نگہت وقت پر ہی آ گئی تھی۔
کالج میں سالانہ جلسہ تقسیم اسناد و انعامات تھا۔ ہم دونوں کو وہیں جانا تھا۔ یوں تو یہ دن کسی طرح بھی عید سے کم نہیں ہوتا۔ مگر ایسی تقاریب میں میں نماز قضا ہو جانے کا خوف دل و دماغ پر مسلط رہتا ہے۔ایسی تقاریب کے بعد ضمیر کی عدالت میں کھڑا ہو جانا مشکل ہو جاتا ہے۔روح زخمی زخمی ہو جاتی ہے۔
ظہر کی نماز ادا کر کے کالج روانہ ہوئے کالج کی فضا انتہائی رونق افروز تھی۔ خوش باش بے فکر طالبات خوش گپیوں میں مصروف تھیں۔ جلد ہی تقریب کا آغاز ہو گیا۔
تلاوت قرآن پاک۔تقسیم اسناد، تقسیم انعامات وغیرہ وغیرہ………. سارے مراحل بخیر و خوبی انجام پذیر ہوئے تو عصر کی اذان ہوا ہی چاہتی تھی۔ اطمینان کا سانس لیا کہ وقت پر چھٹی ہوئی……..مہمان خصوصی زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس منٹ نہیں تو نصف گھنٹہ لے لیں گی۔ پھر بھی خاصا وقت ہے نماز کے لئے۔
مہمان خصوصی مائک پر تشریف لائیں اور کسی خطیب کی طرح اپنی تقریر کا آغاز آیت الٰہی سے شروع کیا۔ تصور میں تو ان کی تقریر اور انداز تقریر کچھ اور ہی طرح کا تھا۔ مگر ان کے انداز مخاطب سے تو میرا دل گلاب کی نوخیز کلی کی طرح مسکانے لگا۔ انہوں نے اپنے چمنستان خیال کے پھولوں کا نچھاور کرنا شروع کیا تو اپنی کائنات دل مسحور و معطر ہو گئی……..کیا خوب ان کا انداز تھا………وہ درس زندگی دیا کہ اپنی بے کار زندگی پر ندامت ہونے لگی، ان کی تقریر اسلامی تعلیمات پر مبنی تھی۔ ہر لفظ عشق رسول ﷺ کی مے میں ڈوبا ہوا سب اساتذہ، طالبات مودب بیٹھی ان کی حکیمانہ باتوں کو حیرانی اور پریشانی کے عالم میں سن رہی تھیں، ایک پروقار خاموشی محفل پر چھائی ہوئی تھی۔طالبات کے دوپٹوں سے ڈھکے سر اور فرطِ عقیدت سے جھکی نگاہیں اس مقدس فضا میں اضافہ کر رہی تھیں۔
شیطان اس منظر کو کتنی حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔ وہ منہ میں انگلی دیئے کچھ اور سوچ رہا تھا کوئی اپنی چال ادھر وہ مہمان خصوصی کسی مبلغ کی سی حکمت لئے دلائل کے ساتھ حقیقی مسلمان کے کردار کے نقوش میں رنگ بھرنے کے لئے سامان مہیا کر رہی تھیں۔ کتنی خوشی ہو رہی تھی۔ مجھے ان لمحات میں………گلاب کی نوخیز کلی لمحہ بہ لمحہ کھلتی جا رہی تھی۔
پھر!……..اس مقدس فضا کی رعنائیوں کو چار چاند لگ گئے۔مؤذن کی آواز سوچوں کو مزید پاکیزگی اور رفعت عطا کرتی چلی گئی۔اس پروقار خاموشی میں مقدس صدائے لازوال، ایک نئی تڑپ، لگن، شوق اور والہانہ خوشی بخش رہے تھے۔
سوزدروں سے آنکھوں میں نمی تیر گئی۔ معزز خاتون عجز و انکسار کی تصویر بنی اذان کے کلمات کا جواب دیتی جا رہی تھیں۔ فرط عقیدت سے میں نے نگاہیں جھکا لیں…….ادھر شیطان کھڑا تلملا رہا تھا۔
اذان کے بعد انہوں نے نماز پر درس دینا شروع کیا۔یوں معلوم ہو رہا تھا کسی دینی محفل میں درس قرآن ہو رہا ہو۔میرے دل کا گلاب رنگت میں گہرا ہوتا جا رہا تھا…….اب شریک محفل لوگوں کو اللہ کے حضور جھکنا ہی پڑے گا۔ میں تصور ہی تصور میں گورنمنٹ کالج کی ان لاپرواہ، آزاد خیال طالبات کو دربار الٰہی میں کھڑا دیکھ کر خوش ہو رہی تھی………یہی یقین تھا کہ اب انتظامیہ کی طرف سے نماز کا اہتمام کروایا جائے گا۔صدر محفل کے ساتھ سب کو نماز پڑھنا ہی ہو گی۔
ان کی تقریر جاری تھی۔اذان ہوئے کافی دیر ہو چکی تھی۔دل کے کسی گوشے سے آواز آئی ’’بھلا اب کیوں نہیں نماز کیلئے کہہ چکتیں‘‘ کیوں نہیں اپنی تقریر ختم کر کے محمود و ایاز کی مثال قائم کرتیں……..’’ہشت‘‘ بڑوں کے حضور گستاخی نہیں کرتے۔ ابھی کافی وقت ہے………کہیں سے سرگوشی سی سنائی دی۔
میں نادان نہ جان سکی کہ شیطان کھڑا مسکرا رہا ہے………وہی شگفتہ گلاب لمحہ بہ لمحہ کھلنے والا گلاب مرجھانے لگا تھا۔
ان کے بلیغانہ اقوال اب تیروں کی طرح روح میں پیوست ہو رہے تھے۔گلاب کی پتی پتی نوچی جا رہی تھی۔ضمیر میں کچوکے لگنے لگے تھے۔روح زخمی ہو رہی تھی۔
محمد بن قاسم، خالد بن ولید، طارق بن زیاد کی مجاہدانہ زندگی کو تحسین کے پھول پیش کر رہی تھیں۔مگر مجھے محسوس ہو رہا تھا۔یہ سب کچھ ان کے ساتھ مذاق ہو رہا ہو۔ان توہین ہو رہی ہو۔ ان کا سرعام منہ چڑایا جا رہا ہو۔ان کی روح کو لفظوں کے تیروں سے زخمی کیا جا رہا ہو۔
اندھیرا چھانے لگا تھا۔ ہاں واقعی!۔۔۔۔۔ماحول کے ساتھ ساتھ قلب و ذہن بھی اندھیرے میں بھٹک گئے تھے۔مصنوعی روشنی سے ماحول روشن ہو گیا۔مگر قلب و ذہن کی روشنی کہاں سے آتی۔ گفتار کے نمازی اپنے اندر کے ماحول کو کیسے منور کر سکتے ہیں؟
میرا معصوم دل جو شگفتہ گلاب کی مانند ہو گیا تھا اب اس کی ہر پتی پیروں تلے روند ڈالی گئی تھی………شیطان کی گہری مسکراہٹ میں فاتحانہ شان نمایاں تھی…

One Comment Add yours

  1. Azra asif نے کہا:

    Hum sab men yeh hi kami he guftar ke. Ghazi to bun gae kirdar ke na bun sake

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s