حدیث نمبر 32 

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد خاتم النبیین و رحمۃ للعالمین

بخاری و مسلم کی معروف حدیث سے ہم سب واقف ہیں جو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنه سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب رمضان المبارك آتا ہےتو آسمان (جنت) کے دروازے کهول دیے جاتے ہیں۔ اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ شیاطین باندھ دیے جاتے ہیں۔”

استقبال رمضان المبارک کا  یہ پہلا مرحلہ ہے۔ یہ خطاب مسجدِ نبوی میں ان مسلمانوں کے لیے تها جو نمونے کے مسلمان تهے۔ وہ الله کے پسندیدہ بندے شمار کر لئے گئے تهے۔ صالح اور متقی  لوگ تهےجن کو نیکی میں سبقت لے جانے کی ترغیب اور جنت کے سارے دروازے کهلنے کی نوید سنائی گئی۔۔۔ یعنی نیکی کا کوئی موقع ضائع نہ ہونے پائے۔ صاحب اختیار کی طرف سے اذن عام ہو جائے کہ جو حاصل کر سکتے ہو کرلو تو چلنے والے دوڑیں گے، دوڑنے والے رفتار اور تیز کر لیں گے، بیٹهے کهڑے ہوجائیں گے، اونگھنے والے ہوشیار اور سونے والے بهی اتنی ہلچل دیکھ کر جاگ جائیں گے۔۔۔

پہلے ہم اپنا جائزہ لیں کہ ہم کن لوگوں میں شامل ہیں؟

خود کو جنت کے کس دروازے کے قابل بنانا ہے؟ کونسا دروازہ ہمارے حالات، وسائل، صحت کے لحاظ سے قریب تر ہے۔۔۔ خدمت خلق، صدقہ خیرات جیسی نیکیاں روزے کے ساتھ انجام دینا اور”باب الریان” میں داخل ہونا تو نورعلیٰ نور ہے۔۔۔

ہر معمولی سی نیکی بهی روزے کی وجہ سے اعلیٰ ہوجاتی ہے۔ رحمت کے دروازے ہر پہلو سے کهلے ہیں۔ جب ایسی مبارک فضا ہو تو  مومن کی نیک فطرت اسے آمادہ کرتی ہے کہ وہ جس قدر ممکن ہو فیضیاب ہو جائے۔ امکانات و مواقع نیکی کے ہوں تو برائی کے امکانات خودبخود کم ہوجاتے ہیں۔ ایمانی کیفیت میں اضافے والے ماحول میں شیطان کے وار کارگر نہیں ہوتے۔ جس کا جتنا ایمان مضبوط ہوگا اس کے لیے جنت کے کهلے دروازے میں داخل ہونا اتنا ہی آسان ہوگا اور اس کا شیطان اسی قدر جکڑا ہوا ہوگا اور اس کے لئے جہنم کا دروازہ اتنا ہی بند ہوگا۔ ظاہری سی بات ہے کہ جب مومن نیکی کرنے جنت کے قریب ہونے میں سبقت کی کوشش کرے گا تو اس کی دوزخ کا دروازہ خودبخود بند ہوتا جائے گا۔ دوزخ جانے کے سارے دروازے جو مختلف گناہ کرنے کی وجہ سے کهلے ہوئے تهے وہ گناہ سے بچنے، توبہ استغفار کرنے کی وجہ سے اب ایک ایک کرکے بند ہوتے جائیں گے۔۔۔ اور گناہ کی طرف راغب کرنے والے شیطان اپنے آپ کو زنجیروں میں جکڑا دیکهیں گے کہ مومن کی ایمانی قوت کے سامنے کسی کا زور نہیں چلتا۔ رمضان اسی ایمانی قوت کو پورا سال قائم رکهنے کی مشق ہوتی ہے۔

رجوع الی الله کی جو کیفیت مسلسل ایک ماہ مومن پہ طاری رہتی ہے اس کے سامنے شیطان اور نفس امارہ بے بس ہوجاتا ہے۔۔۔ مؤمن معاشرے میں رجوع الی اللہ کا ماحول جس طرح رمضان المبارک میں ہوتا ہے کہ ہر برائی سے مومن رک جاتا ہے، یہ سوچ کر کہ "روزہ رکھ کر یہ برائی؟؟” اور اسے شرم آتی ہے کہ وہ اپنا روزہ خراب کرے یا رب کے سامنے شرمندہ ہو۔۔۔ اسی طرح روزے میں نیکی کی طمع ہوتی ہے کہ "روزہ رکهوں اور کوئی مزید نیک کام نہ کروں؟” یہ سوچ مومن کی روح کو شاداب کرتی ہے اور نیکی ایک اور نیکی کا ہاتھ پکڑے آجاتی ہے۔ مومن ہونے اور الله تعالى کے سامنے کهڑے ہونے کا احساس ساری عمر کے لیے مطلوب ہے۔۔۔ رمضان المبارک  میں ہر مومن اپنی ایمانی کیفیت کا پیمانہ چیک کرسکتا ہے۔ اگر یہ معیار الله تعالى کے مطلوبہ معیار جیسا نہیں ہے تو اس کو”برانڈڈ” بنانے کے لئے موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔۔۔ کہ جنت کے سارے کهلے دروازے دیکھ کر ان میں داخل ہونے والوں میں اپنا نام رجسٹر کروا لیا جائے اور برائیوں گناہوں میں مبتلا رہ کر جہنم کے بند دروازوں پہ دستک دینے سے بچا جائے اور جکڑے شیطان کی زنجیریں اپنی بد اعمالیوں سے ڈهیلی نہ کی جائیں۔۔۔

آئیے ہم اپنی روح اور دل کی آنکهوں سے دیکهیں کہ جنت کے دروازے ہمارے لئے کهولے جارہے ہیں اور ہماری رجسٹریشن ہورہی ہے۔ ہماری توبہ و انابت اور اصلاح عمل کے یقین سے جہنم کے دروازے بند ہونے کی آواز آرہی ہے۔۔۔

اللهم زیّنا بزینة الایمان و کرہ الینا الکفر والفسوق والعصيان

اللهم إنا نسئلک الجنت الفردوس الأعلى بغیرحساب و نعوذبک من عذاب النار

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s