حدیث نمبر 18

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد رحمۃ للعالمین

المستدرک الحاکم کتاب الدعا میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مروی ہے کہ”دعا مومن کا ہتھیار، دین کا ستون اور سب آسمانوں و زمین کا نور ہے۔”

جب سارے ظاہری أسباب وعوامل ہاتھ میں نہ رہیں تو دعا ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے الله تعالى بندے کی ایسے طریقے سے مدد کرتا ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں جاتا۔ (ومایعلم جنود ربک إلا هو)

دین کا ستون اس طرح ہے کہ ایمان بالله، مکمل توحید کا مکمل فلسفہ اسی دعا کے تعلق سے جڑا ہے۔۔۔ شکر کا موقع ہے یا صبر کا مقام الله تعالى سے تعلق دعا کی وجہ سے قائم ہے۔”لئن شکر تم لازیدنکم” کا احساس کچھ مانگنے سے پہلے طاری ہوجانا مزید نعمتیں حاصل ہوجانے کا یقین دلاتا ہے۔ اور” ان الله مع الصابرين” کا احساس قربت ومعیت کے لیے دل کو سراپا دعا بنا دیتا ہے۔ اور یہی پکار یہی جزبہ زمین و آسمان کا نور ہے۔

دعا دراصل الحاح وزاری سے کی جائے تو نافع ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ دعا کے الفاظ میں ہی شاید قبولیت کا راز ہے۔ دل کی وہ کیفیت کہ ماہی بے آب جیسی تڑپ ہو، رب کی رحمت کو جلد متوجہ کر لیتی ہے۔ وہ رب جو دلوں کا حال جانتا ہے اسے لفظ نہیں کیفیت درکار ہوتی ہے۔ اسی لیے مظلوم کی نگاہ آسمان کی طرف اٹھتی ہے تو سیدھی عرش تک جا پہنچتی ہے۔ دل سے نکلی آہ کا کوئی لفظ نہیں ہوتا صرف کیفیت ہوتی ہے۔ یہی وہ قلبی درد ہے جو انسان کسی بھی مقام پہ محسوس کرلے تو دعا کی قبولیت کا یقین دلایا جاتا ہے۔

کسی بت خانے قبر یا مزار پہ یہ کیفیت ہو جائے تو الله اپنے بندوں پہ بہت شفیق و مہربان ہے۔ شیطان انسانوں کو ورغلاتا ہے کہ یہ کسی بت مزار یا قبر کا کمال ہے۔ ساری مخلوق الله کی عیال ہے اوراسے اپنی ساری مخلوق پیاری ہے۔ اور وہ اپنی مخلوق کی حاجتیں فرمائشیں پوری کرنے سے نہیں اکتاتا، وہ مانگنے سے نہیں، نہ مانگنے سے خفا ہوتا ہے۔ اور اگر ان قلبی کیفیات کے ساتھ رزق حلال ہو، خاص بابرکات اوقات یا مقام ہوں اور الفاظ بھی خوب صورت ہوں الله پہ کامل بھروسہ ہو تونورعلی نور ہو کرساری کائنات جھوم جھوم جاتی ہے۔ پھر لمحوں میں صحرا سیراب ہوتے ہیں، آگ پھول بن جاتی ہے، سمندر میں راستہ بن جاتا ہے۔ غار کے باہر کھڑے دشمن اندھے ہوجاتے ہیں۔ مٹھی بھر بے سروسامان لوگ بڑے لشکر کے مقابلے میں فتح یاب ہوتے ہیں۔ حق اپنی پوری شان سے غالب آتا ہے۔

آج امت مسلمہ کی کثیر تعداد بیت اللہ کے ارد گرد دعائیں کرنے کے لیے ہر لمحہ موجود رہتی ہے۔ مگر دعاؤں کے اثرات کسی خطے پہ نظر نہیں آتے۔ مقام بیت اللہ ہو اورلوگ الله کے مہمان ہوں اور الله سبحانه وتعالى کے محبوب کی امت کا حال ناقابل بیان ہو ہر خطے میں امن و امان سے عاری ہو۔ مقام بھی وہی ابراہیم علیہ السلام کا ہے۔ امت بھی ابوالانبیاء کی دعائے مستجاب ہے۔ اور رب العالمین بھی وہی ہے پھر کیوں اس امت پہ صدیوں سے مشکل وقت  آن پڑا ہے جو ٹلتا نہیں ہے۔ یقیناً دل وہ نہیں ہیں جو دعا کے لیے درکار ہوتا ہے۔ دل وہ نہیں مانگتا جو مسلمان کو درکار ہے۔ دلوں میں خواہشاتِ نفس کا ڈیرہ ہے۔ انہی خواہشات کی تکمیل کے لیے ہاتھ اٹھتے ہیں کہ دنیا ہی مقصود ہے۔ دنیا تو بن مانگے بھی مل جاتی ہے کافر ومشرک کو بھی مل جاتی ہے۔ باقی رہ جانے والی تو آخرت کی دنیا ہے۔ الله نے تو عطا کرنا ہے، مانگنے والا جو بھی مانگے۔۔۔ دنیا یا آخرت۔ اور الله دونوں کا مالک ہے، دونوں ہی دینے پہ قادرہے۔

غور کرنے اور سوچنے کا مقام ہے کہ بحیثیت مسلمان انفرادی و اجتماعی طور پہ ہم اپنے رب سے کیا مانگتے ہیں؟ کس طرح کس کیفیت اور کس نیت سے مانگتے ہیں۔ حلال رزق پہ پلے ہوئے جسم میں حلال وطیب أعمال کی سکت ہوتی ہے اور دل حلال اور طیب کے لیے ہی ماہی بے آب کی طرح تڑپتا ہے۔۔۔ زندہ اور مردہ دل میں بھی یہی فرق ہوتا ہے۔

دل مردہ، دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ

اللھم إنا نسئلک علماً نافعا ورزقاً واسعا وقلباً خاشعا ودعاءمستجاباً و تجارة لّن تبور۔ ربنا آتنا في الدنیا حسنه وفی الآخرة حسنه وقنا عذاب النار آمین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s