حدیث نمبر 20

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد رحمۃ للعالمین

ترغیب وترہیب بحوالہ حاکم و بیہقی” زاد راہ ” کی حدیث نمبر113 سیدنا ابن عباس (رض)سے رسول الله صلى الله عليه وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے ” اے قریشی جوانو، تم لوگ زنا کا ارتکاب نہ کرنا جو لوگ عفت و پاکدامنی کے ساتھ جوانی گزاریں گے وہ جنت کے مستحق ہوں گے۔”

الله رب العزت نے انسانوں کی ہدایت کے لیے ان کی راہ نمائی کے سارے انتظامات کیے۔ گناہوں کی روک تھام کے لیے ایسا نظام وضع کیا کہ نیکی کرنا آسان ہو جائے انسان کے لیے گناہ کرنا مشکل ہو۔ جب انسان گناہ سے بچنے کا راستہ اختیار کرتا ہے تو بچنے کے مواقع میسر ہوجاتے ہیں اور جب وہ گناہ کا راستہ منتخب کرتا ہے تو اسی کے وسائل سامنے آنے لگتے ہیں۔  انسان نے جس منزل کا تعین کیا ہوتا ہے اسی راستے جانے والی سواری کا ٹکٹ لیتا ہے اور اسی کے مطابق سفر کا سامان تیار کرتا ہے۔ ویسے ہی بازار میں اور اسی دوکان کی طرف جاتا ہے جہاں اس کی مطلوبہ اشیاء مل سکتی ہیں۔ جوانوں کو نصیحت کی گئی کہ وہ اپنی منزل جنت پانے کے لیے تیاری جوانی میں ہی کرلیں۔ اور اس سفر کا زیادہ فاصلہ جوانی میں ہی طے کر لیں اور منزل تک جو راستہ لے کے جائے گا وہ پاکدامنی کا، عصمت وآبرو کی حفاظت ہے۔ منزل کی راہیں کهوٹی کرنے کے لیے شیطانی اکساہٹیں کچھ کم نہ ہوں گی مگر مؤمن کی نگاہ اپنی منزل سے نہ ہٹے تو ان اکساہٹوں کا بر وقت سد باب ہوجاتا ہے۔

جس نے اپنے نفس کو بے لگام چهوڑ دیا وہ ان راہوں میں گم ہو جائے گا جس کی منزل جنت نہیں ہوگی۔ وہ عبادت الله کو زیادہ پسند ہے جو جوانی میں کی جائے۔ نفس امارہ سے کشمکش کے بعد جواں ہمت ہی نفس مطمئنہ کے حقدار ہو سکتے ہیں۔ وہ کیا جوانمردی کہلائے گی جو نفسانی خواہش سے زیر ہوجائے۔۔۔ اپنے نفس کی نگرانی رکهے بغیرعصمت و پاک دامن نہیں رہا جا سکتا۔  وہ  رب جو نگاہوں کی خیانت کو بهانپ لیتا ہے اسی نے نظروں کی حفاظت کا حکم نازل فرمایا۔ جو اس حکم کو مان لیتا ہے اور اپنی نگاہوں کی حفاظت کرتا ہے اس کے لیے آفات کا راستہ نہیں کهلتا۔ ایک نیکی دوسری نیکی کا ہاتھ پکڑے چلی آتی ہے تو گناہوں کی بهی ایک زنجیربنتی جاتی ہے۔ ایک کے بعد ایک گناہ کا رستہ کهلتا جاتا ہے۔ ابو ہریرہ سے مروی ایک حدیث (زاد راہ 115) کے مطابق شہوت کی نظر سے دیکهنا آنکهوں کا زنا ہے، سننا کانوں کا زنا ہے، باتیں کرنا زبان کا زنا ہے، پکڑنا ہاتهوں کا زنا ہے، چل کے جانا پاؤں کا زنا ہے، خواہش اور تمنا دل کا زنا ہے۔ اس حدیث کے مطابق گناہ کبیرہ کی طرف جانے والے سارے راستے بند کیے گئے ہیں۔ تاکہ لوگ الله کے غضب سے بچ جائیں۔ اور برے خیالات کی پرورش کرنے سے روکا گیا ہے اور یہ تربیت کی جارہی ہے کہ برائی کا خیال آتے ہی اس سے چهٹکارا پانے کی کوشش کی جانی چاہئے۔  برے خیالات کی پرورش کرنے پہ بهی باز پرس ہوگی۔ الله تعالی نے فرمایا:

"ان السمع والبصر والفواد کل اولٰئک کان عنه مسئولا”
بے شک کان آنکھ ا ور دل کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

 سب کا محاسبہ ہوگا۔۔۔ شرعی حدود میں سب سے زیادہ سخت سزا رجم( سنگساری )کی ہے۔  الله تعالى نے معاشرے کو پاک صاف رکهنے کے لیے معاشرتی احکامات کا ایک نظام وضع کیا ان سب  کا حصار توڑتے ہوئے جو اس گندگی کی آخری حد تک پہنچ جاتا ہے اسے زندہ رہنے کا حق نہیں ملتا اور موت  بهی باعث عبرت ہوجاتی ہے۔ اور جو لوگ اس گندگی کی وجہ بنتے ہیں ان کی سزا دنیا آخرت میں رسواکن عذاب ہے۔  شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ فحش پهیلے اور وہ اسی کام میں پوری طرح مشغول ہے۔  اگر ہم مانتے ہیں کہ شیطان ہمارا کهلا دشمن ہے تو امت مسلمہ کیوں اس کی راہوں پہ چل رہی ہے؟ اس کے جوانوں کے شب وروز کیوں شیطانی مشاغل میں گزر رہے ہیں؟ الله سبحانه وتعالى پکار رہا ہے

"اے وہ لوگو جنہوں نے اپنی جانوں پہ ظلم کیا ہے الله کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ بے شک وہ تمہارے سب گناہ معاف فرمائے گا۔ بے شک وہ بہت غفور رحیم ہے۔”

اللهم اغفر لنا ذنوبنا وارحمنا وقنا عذاب النار۔۔۔ اللهم جنبنا الفواحش ما ظهر منها وما بطن۔۔۔  آمین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s