خوابوں کی بستی

                مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلّم میرے خوابوں کی بستی، میرے دل کی رونق، وہ پیارا شہر، جو مسکنِ محبوب صلی اللہ علیہ وسلّم ہے، اور ہر مومن کے لئے وجہ راحتِ جاں، اس شہر کی گلیاں، بابل کی گلیوں سے زیادہ کشش رکھتی ہیں۔ میرے لاشعور میں رچی بسی اس خوشبو نے میرے شعور، فہم و ادراک کو بھی معطر کر رکھا ہے۔

                میرا دل اکثر ہی مدینے کی گلیوں میں شاداں و فرماں گھومتا پھرتا ہے۔ وہ سڑکیں، وہ فضائیں، دوکانیں، آوازیں، راستے، گھر، ہوائیں کتنی سحر انگیز ہیں، میں جس مقام پر بھی رہوں، ان کی یاد دل کی گہرائیوں سے سرمستی و سرخوشی کا احساس جاودانہ لاتی ہے اور روح کو تازگی بخشتی ہے۔

                زندگی کے وہ خوبصورت و خوش بخت شب و روز، ماہ رسال جو دیارِ حبیب صلی اللہ علیہ وسلّم میں گزارے، وجہ طمانیت رہتے ہیں۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلّم میں حاضری کی سعادت کے لمحات اس حیاتِ مستعار کی رونق ہیں۔ اس مسجد عظمیٰ کے میناروں سے گونجتی ’’اللہ اکبر‘‘ کی صدائیں دنیا و مافیہا کی کم تری کو اجاگر کرتی ہیں۔ سبز گنبد پر نظر پڑتے ہی دل کی ویرانی، ہریالی میں بدلنے لگتی ہے۔ روح تروتازہ ہو کر اک نیا جذبہ ایمانی محسوس کرنے لگتی ہے۔قدموں میں سرخوشی اور قلب و ذہن میں روشنی پھیل جاتی ہے۔

                ’’اے محبوب رب العالمین!‘‘ سبز گنبد کے مکین! آپ کی ذاتِ بابرکت کی بدولت مجھے ایمان کی لازوال سچی نعمت میسر آئی اور آپ کی امت کی ایک فرد ہونے کا احسان کس طرح چکا سکتی ہوں۔ یہ حق کبھی ادا نہیں ہو سکتا۔ اللھم لک الحمد کلہ ولک الشکرکلہ وصلی اللہ علی النبی دائماً مسجد نبوی میں قدم رکھنا، اس شہر جمال میں داخل ہونا بھی کس قدر ناقابلِ بیان احساس خوشی و تفاخر ہے۔ خوشی کا سرچشمہ ہاتھ آنے پر روح وجد میں آ جاتی ہے جیسے دنیا کے بکھیڑوں سے آزاد ہو کر محبتوں اور رحمتوں کے اک نئے سیارے میں داخل ہو گئے ہوں۔فضائیں کتنی معطر ہیں کہ یہاں میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلّم اور محبوب رب کائنات نے سانس لئے ہیں۔یہی وہ مقاماتِ مصفاتیں، جہاں حبیب کبریا صلی اللہ علیہ وسلّم کے مبارک قدم ثبت ہیں۔ وہ پاکیزہ ترین آواز جس کو سننے کے لئے جاں نثار نبی صلی اللہ علیہ وسلّم ہمہ تن گوش رہتے تھے۔

                ارے یہی ہاں یہی تو وہ چاند ہے جس کو افضل البشرﷺکی بصیرت افروز نظر نے روشن تر کر دیا ہے۔ مدینہ کا چاند کتنا معتبر نظر آتا ہے۔ وہ کیوں نہ اپنے اس افراز پر پھولا نہ سمائے کہ سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلّم نے شوق سے اس کو بار ہا نظر الفت سے نوازا تھا۔

                مسجد نبوی کا چپہ چپہ کس قدر خوش نصیب ہے’’صفہ‘‘ جس پر نظر پڑتے ہی علم و فرمان کے تمام تر موتی جگمگانے لگتے ہیں۔ دل میں عقیدت و محبت کے لافانی جذبے ابھرنے لگتے ہیں۔ دنیا کی تمام تر یونیورسٹیوں، تعلیم گاہوں، دانش کدوں کا شہنشاہ یہ چبوترہ!کتنی محترم جگہ ہے یہ واللہ !!!

                اور ریاض الجنۃ، تو جنت کا ٹکڑا ہی ہے۔ کسی قدر نساط انگیز احساس ہے کہ ’’ہم جنت میں ہیں‘‘ یہ وہ مقام ہے جہاں دل کی آلائشیں ڈھل جاتی ہے۔ وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوتا۔ دل کی صدا اسی التجا پر ٹھہر جاتی ہے۔’’اے اللہ جنت ہی ہمارا ٹھکانہ بنا دے۔‘‘

                یہ پاس ہی تو حضرت فاطمہ (رض) خواتین جنت کی سردار کا مسکن ہے۔سلام و دعا کا جو جذبہ، جو ہدیہ خلوص اس مقام پر محسوس ہوتا ہے وہ کسی اور کے لئے کہاں منسوب ہوتا ہے۔ حبیب کبریا کی محبوب بیٹی! سلامتی و رحمت کے سارے خزانے آپ کے نصیب میں لکھ دیئے گئے، سبحان اللہ۔

                مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلّم میں حاضری کی سعادت ملنے پہ اے بے قرار دل، حد ادب! ٹھہر! دیکھو، یہ کیسا مقام ہے؟ یہ رحمت اللعالمین  صلی اللہ علیہ وسلّم  کی آرام گاہ ہے۔ میرے محسن، میرے ہادی ، میرے راہبر، میرے خالق کے محبوب کا محل ہے، جہاں بچھانے کو بوریا ہے اور پیٹ بھرنے کو سوکھی روٹی نہیں۔ مگر دنیا اور اس کی ہر چیز اس سادگی اور فقر پہ قربان ہیں۔ یہ مقام، مقامِ ادب و کمالِ احترام ہے۔ کہیںکوئی اونچی آواز نہ نکل پائے اور اس گستاخی کی پاداش میں کچھ تھوڑی سی اعمال کی پونجی سے ضائع نہ ہو جائے۔ ہاں! یہ آنسوؤں کا نذرانہ، دل کی اتھاہ گہرائیوں سے نکلنے والی آہیں، یہ دل کی بے قراری تو عبادت ہے۔ نذرانہ عقیدت بھی ہے۔ کوتاہیوں کا اعتراف بھی اور شکریے کا اظہار بھی، کہاں میں! کہاں یہ مقام اللہ۔اللہ اس مقام پہ جذبہ دل ہزاروں چھوٹے بڑے جگمگاتے تاروں کی مانند ہو جاتا ہے جس کی جگمگاہٹ سے روح روشن تر ہوئی جاتی ہے اور کبھی ہی جذبہ امنڈتا بادل بن جاتا ہے۔ جب برداشت کی حد نہیں پاتا تو آنکھوں کے راستے بہہ نکلتا ہے۔

                مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلّم اور اس مسکن پاک سے واپسی کا احساس، کیسے اس کو قبول کیا جائے؟؟ بھرے بادل کی برسات ختم ہو تو جایا جائے۔ یہ محبت کے موتی اور ندامت کے تارے حضور صلی اللہ علیہ وسلّم کے قدموں پر نچھاور کرنے کے علاوہ اور کیا ہے دامن میں؟ کاش کہ شانِ کریمی جوش میں آئے اور عرق انفعال کو موتی بنا دے، اور اس امید پہ ان پیاری فضاؤں میں دل ایسے پرندے کی طرح مانند اڑا پھرتا ہے، کھلی فضا میں، بے خوف و خطر، کبھی ادھر، کبھی ادھر،اوپر، نیچے پر پھیلائے، خوشیوں کے گیت گاتا، ہر مضمم ہر فکر سے آزاد…….مگر وقتِ رخصت کا احساس، ’’الوداع یا حبیبی  صلی اللہ علیہ وسلّم ‘‘ کے الفاظ خوشی و قربت اور والہانہ شوق کے گلاب کو مرجھا کر رکھ دیتے ہیں۔ جیسے معصوم پرندے پر کسی نے اچانک ہی ڈھیروں ٹھنڈا پانی ڈال دیا ہو…….گیلے بھاری پر لے کر ننھا پرندہ کیسے اڑے؟ سہم کر ، دبک کر ایک کونے میں جا لگا۔ اب کیا ہو؟ جدائی کا لمحہ ؟ کیسے اس احساس کو الفاظ کا روپ دیا جائے؟ کیسے اپنے راہب صلی اللہ علیہ وسلّم ، ہادی صلی اللہ علیہ وسلّم ،محسن صلی اللہ علیہ وسلّم اور محبوب صلی اللہ علیہ وسلّم کے دیار سے جایا جائے؟ یہ راستے۔ یہ گلیاں، یہ بازار ، یہ آوازیں ، سب ایک سوال بن جاتی ہیں۔ دل، ذہن سے پوچھتا ہے ،ذہن دل سے سراپا سوال ہے۔ رخصتی کا مرحلہ کتنا دشوار ہے۔ مدینے سے رخصت ہونا کتنا کٹھن ہے؟ جان دار و بے جان اشیائ سوال کناں ہیں’’مدینہ سے جا رہی ہو؟ یہ راستے ، یہ گلیاں ، یہ بازار، آوازیں ،فضائیں ، ہلکے سفید بادل، نیلا آسمان ، سبز گنبد کی ٹھنڈی میٹھی ضیائ سب باہم سرگوشیوں میں مصروف ہیں۔

                ’’یہ مدینے سے جاتی ہے۔ یہ مدینے سے جا رہی ہے۔ ماحول کی اداسی پہ جدائی کا رنگ غالب آتا جا رہا ہے اور جذبات و احساسات منجمد ہوئے جاتے ہیں۔ کاش کہ یہ مقبول لمحات ہوتے اور زندگی کے آخری لمحات ہوتے تو گردو پیش کی اشیائ کو سوال کا جواب مل جاتا۔ ہر شے مجھے وہیں روک رہی تھی۔ ہر طرف ایک ہی گونج تھی’’ کس دل سے جاؤ گی؟ ‘‘ کیا واقعی چلی جاؤ گی؟‘‘ ساری فضا پر ایک ہی سوال چھا گیا۔ ہر مکان و مکین سوالیہ نگاہوں سے میرے وجود کو تکنے لگا۔ لگتا جسم و جان ادھر ہی کہیں ڈھے جائیں گے۔ کدھر جانا ہے؟ راستہ ہی نظر نہ آ رہا تھا۔ آنکھوں کے آگے دھند اور غبار بڑھتا جا رہا تھا۔ میں نے پلٹ کر مسجد نبوی ﷺ کی طرف دیکھا۔ مینار سے محبت بھری سرگوشی دل میں ہلچل مچانے لگی۔ کیا جا رہی ہو؟‘‘

                کہیں نہیں میں نہیں جا رہی۔ لے جائی جا رہی ہوں۔‘‘

                ایک سسکی میری روح نے لی۔ قدم گھر کی طرف جانے کی بجائے باب جبریل کی طرف چل پڑے۔ ساری دنیا اس کی نعمتیں ہر رشتہ اور ہر جذبہ اور میری جان ان قدموں پر نثار۔ صلی اللہ علیہ وسلّم ۔  صلی اللہ علیہ وسلّم ۔شمع دل قطرہ قطرہ آنکھوں کے راستے پگھل رہی ہے۔ لوگوں کا جم غفیر آتا دیکھ کر تیزی سے آگے قدم بڑھاتی ہوں۔ دامن ہوش تھاما تو دیکھا کہ مواجہ شریف کی بیرونی دیوار سے ٹکی ہوئی ہوں۔ یہ کیسا مقام ہے؟ ۔اللہ اللہ، میرے وجودِ خطاکار اور حضور پاک ﷺکی آرام گاہ کے درمیان ایک دیوار اور چند قدم کا فاصلہ ہے۔ اس دیوار کے دوسری طرف شاہِ انبیائ کا مسکن ہے۔ دیواریں اور فاصلے تو مادی ہیں۔ میرا دل کسی ضدی اور لاڈلے بچے کی طرح خواجہ شریف کی بیرونی دیوار سے چمٹ گیا، نہیں جانا………میں نے نہیں جانا۔ دماغ حالات سے سمجھوتہ کرنے حاضر ہو گیا۔ ’’چلو اب تو جانا ہی ہے۔ ایک مرتبہ تو جانا ہی ہے۔ جا کر پھر آنا ہے۔‘‘ ’’پھر آنا ہے‘‘ کی تسلی نے حوصلہ دیا مگر دوسرے لمحے دل کی بے قراری ’’مگر کیسے جاؤں‘‘ میں نے نہیں جانا………. بے نام سی چیخ رگ و پے میں اترتی چلی گئی۔ دل کے گوشے گوشے میں صدائے درد ناک گونجنے لگی۔ دماغ نے اس گونج کی بازگشت سنی اور بڑے پن کے ساتھ تسلی دی کہ ’’قربتوں کے لئے فاصلہ چاہئے جدائی محبت کو مزید نکھار دے گی۔ دیار حبیب میں حاضری کے انتظار کا بھی تو ایک لطف ہوتا ہے۔‘‘ ’’اچھا‘‘ میں نے خود کو سمجھانے کی کوشش کی اور مڑ کر جنت البقیع کی دیوار کو دیکھا ۔ جس کے پار ’’مومنوں کے گھر‘‘ ہیں۔ ’’السلام علیکم یا قوم دارالمؤمنین‘‘ دل کا دامن پھر اسی مقام پر چند گز زمین کی تمنا میں الجھ گیا۔ ’’انتم سابقون۔ وانشاءاللہ نحن لکم لاحقون‘‘ نہ جانے اس مقامِ جنت میں جانے کے لئے خوش نصیبی ساتھ دیتی ہے یا نہیں؟ کاش کوئی مہربان لمحہ ایسا وارد ہو جائے کہ محبت بھرے اس کوچے سے نہ جانے کی سبیل نکل آئے۔ مدینہ کے باسی نماز کے بعد اپنے گھروں کو جا رہے ہیں۔ ان کا کاسہ دامن امید سے لبالب بھرا ہے کہ صبح پھر آئیں گے مگر ان کو کیا معلوم، ایک بیٹی اپنے بابا کی گلیوں سے دور ہونے لگی ہے۔ ان جانے وقت کے لئے، اس کا دل کس کرب سے گزر رہا ہے۔ کسی بے قرار روح کے ساتھ وہ ہمیشہ یہاں سے رخصت ہوتی ہے۔، دل کی نگری سے کوئی بہت ہی قیمتی شے نکل کر ادھر ہی کہیں اٹک گئی ہے۔ معلوم ہوتا ہے خالی پنجرہ ہے۔ سب اس خالی پنجرے کو ہمدردی سے تک رہے ہیں۔ خاموش زبان سے تسلی دیتے ہیں۔ وہ سب مناظر ضرور مجھے یاد کرتے رہتے ہیں سب فضائیں میرا احساس کرتی رہتی ہیں کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ میں کہیں بھی رہوں خالی پنجرے کو لے کر میرا دل مدینے میں رہتا ہے۔ قلب و جاں کی تسکین بلاوے کی منتظر رہتی ہے۔ کب بلاوا آئے گا؟ کب وہ شہر جمال وہ پاک مٹی میرے وجود کے خالی پنجرے کو قبول کرے گی؟ بس اب تو زندگی کا حسن اسی سوال کے جواب میں پوشیدہ ہے۔

کس کام کی حیات ہے شہر نبی (صلی اللہ علیہ وسلّم) سے دور

خوش   بخت   ہیں   جو     لوگ   مدینے     میں    جا      بسے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s