سورہ النمل کاآئینہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
سورہ النمل 27
اس کا نزول مکہ کے دور متوسط میں ہوا
سورت کے آغاز میں ان لوگوں کی نشان دہی گی گئ ہے جو الله کے کلام سے فائدہ اٹها سکتے ہیں.یہ وہ لوگ ہیں جو کهلے دل سے بات  کو سنتے ہیں کائنات کی بنیادی حقیقتوں کے بارے میں کتاب جو کچه بیان کرتی ہے اس پہ غور کرتے ہیں. دونوں طرح کے نمونے دنیا  میں  موجود رہے  ہیں.ایک طرف سلیمان علیہ السلام کا انداز ہے کہ دولت، حکومت، شوکت و حشمت ایسا  ملا تها کہ پہلے نہ آج تک دنیا میں کسی کو نصیب  ہوا  .اس کے باوجود وہ احساس بندگی اور  احساس جواب دہی سے  غافل نہ  ہوئے دوسرا نمونہ فرعون سرکش  قوم لوط کا ہے جو  نفس کی بندگی اور انکار آخرت کی  وجہ  سے احساس  جواب دہی سے غافل تهے…. ایک نمونہ ملکہ  سباء کا ہے جس پہ حق واضح  ہوا تو وہ ایمان لے آئی. .
انکار  آخرت وہ بنیادی عیب ہے  جس پہ زندگی غلط رخ پہ  چل پڑتی ہے. اسی وجہ سے  انسان اعلی اخلاقی  معیار کی زندگی  سے محروم ہو جاتا ہے..
اس سورت میں لوگوں میں آخرت میں جواب دہی کا احساس جگانے کی پے درپے آئتیں  ہیں..دلائل ہیں.وحدانیت کے دلائل  ان کی فطرت میں  موجود ہیں جا بجا آیات (نشانیاں )موجود ہیں. .آیت یا نشانی ایک مختصر  اشارہ  ہوتا ہے کسی بڑی حقیقت کی طرف..جیسے انسان کے دستخط انگوٹھے کا نشان اس کی  ہستی کے موجود ہونے  اس کے حقیقت میں  ہونے کی دلیل  اور نشانی  ہے..دنیا کی ہر شے ایک نشانی یا آیت ہے جو ایک رب کے ہونے  کی نشانی ہے..اس بات کو  عقل والے ہی سمجه سکتے ہیں. انسان کا اپنا وجود.موسم ہوائیں دن رات  سمندر صحرا پہاڑ ہر سو اس رب کی نشانیاں ہیں. بیماری غم  خوشی کا لانے اور اس سے نجات دینے والی زات  ایک ہی ہے.یہ حقیقتاً   ہر انسان کی  فطرت میں یہ علم موجود ہے کہ ایک ہی ہستی  ہے جو خالق ہے کائنات کی مالک ہے مگر انسان کی  کم فہمی  نے اس رب کے شریک بنا رکهے ہیں .
قیامت  ہوگی  تو صرف  وہی لوگ اس دن کی ہولناکی سے محفوظ ہونگے جو بهلائی لے کر آئے ہون گے.جس کو اس دن حساب دینے کا ڈر ہوگا وہی بهلائی لانے کی کوشش کرے گا.
فمن اهتدی فإنما یهتدی لنفسه
وقت  گزرنے  کے ساته ساته انسان کے علم کے جوں جوں ارتقائی مراحل طے ہو رہے ہیں قرآن حکیم کی حقانیت  اور کهل کر سامنے آرہی ہے.
"ان سے  کہو سب تعریف الله کے لیے ہی ہے عنقریب وہ تمہیں ایسی  نشانیاں  دکها دے گا جسے تم پہچان بهی لوگے اور تیرا رب ان أعمال سے بے خبرنہیں ہے جو  تم کرتے ہو..
اس سورت  میں قابل تقلید  نمونہ سیدنا  سلیمان علیہ السلام کا ہے.جن کی اپنے رب کے حضور یہ دعا تهی.(رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التي أنعمت علی وعلی والدی وأن اعمل صالحاً تراه وأد خلنی برحمتک فی عبادک الصالحین).الله تعالى نے ہر انسان کو  ایک وجود  دے کر عقل و شعور،دیگر نعمتیں دے کر” تخت  سلیمانی” ہی  دیا ہے اگر کوئی اس بات کو سمجهے کہ” جو شکر کرتا ہےاپنے نفس کے بهلے کو کرتا ہے کوئی ناشکری  کرے تو میرا رب بے نیاز اور کریم ہے”آیت40
اللهم  لک الحمد کلہ ولک الشکر کله و صلی الله علی النبی محمد وبارك  وسلم..آمین
بشری تسنیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s