سورہ القصص کا آئینہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
سورہ القصص28
ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ الشعراء النمل اور القصص ایک دوسرے کے بعد نازل ہوئیں.
رسالت پہ جو اعتراضات کفار کرتے تهے ان کا جواب دیا گیا ہے . سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے قصے کو تفصیل سے زکر کیا گیا ہے اور اس میں جو تدبیر الله کی کام کر رہی ہے اس کا احساس دلا یاگیا ہے.
وہ ظالم جو بیٹوں کو قتل کراتا تها اسی کی نگرانی میں اس کے گهر وہ بچہ پرورش کے لئے بهیج دیا. جو اس کا مد مقابل بنانا تها ماں بیٹےکو بهی ملوا دیا ،بے خوف و خطر رہنے کا انتظام کر دیا. محل میں ناز و نعم سے پلے اقتدار کے ایوانوں کی بهول بلیوں سے واقف کرا دیا.روحانی تعلیم وتربیت ترویج و ترقی کے لئے شعیب علیہ السلام تک پہنچایا.بے سروسامانی میں گهر بار روزگار کا انتظام کیا اور پهر نبوت کے لئے چن لیا.الله قادر مطلق ہے اس کی تدبیر بتدریج کام کرتی ہے.نبوت کے لئے اس نے جس بندے کو چن لیا ہوتا ہے وہ اس کے لیے کسی سے مشورہ نہیں کرتا اور نبوت عطا کرنے کا معیار اس کی نظر میں جو ہے وہ دنیا والوں کی سمجه سے بالاتر ہے.اور اس کی تدبیر ہے کہ وہ اپنے دشمن سے ہی اپنا کام لے لیتا ہے. فرعون نے ساری رعایا کو جمع کیا کہ موسی کا تماشا دیکهے گی مگر اس کے سارے انتظام کا فائدہ موسیٰ علیہ السلام کو ہوا.جب الله اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے تو دنیا والوں کی ساری تدبیریں ان پہ ہی الٹ جاتی ہیں مکہ والوں کو عقل دلائی گی ہے کہ وہی رب اپنے اس نبی کی بهی مدد کرنے پہ قادر ہے اور فرعون جیسا انجام تمہارا بهی ہو سکتا ہے.
دنیاوی سیاسی خاندانی جهوٹے وقار کو بچانے کی خاطر جو باطل کا ساته دیتے ہیں ان کو حکیمانہ طریقے سے سمجهایا گیا ہے مغرور متکبر مالدار لوگوں کو انجام بد سے متنبہ کیا گیا ہے.جب الله تعالى أن کو عبرت کا نشان بنانا چاہتا ہے تو ان کو مال و اسباب سمیت زمین میں دهنسا سکتا ہے ایسا انجام جس کا کسی کو گمان تک نہ ہو سکتا ہوگا. الله تعالى نے وعدہ فرمایا "وہ آخرت کا گهر تو ہم ان لوگوں کے لئے مخصوص کریں گے جو زمین میں برآ ئی نہیں چاہتےاور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں اور انجام کی بهلائی متقین کے لئے ہی مخصوص ہے”آیت83 )
اس سے مراد دنیا کا اقتدار بهی ہے آور دوسری دنیا کی کامیابی بهی.جیسا کہ الله نے موسیٰ علیہ السلام کو غلبہ عطا کیا اور اپنے نبی محمد صلی الله عليه وسلم سے بهی وعدہ فرمایا. ومن اصدق من الله قیلا. ..ان الله لا یخلف المیعاد . کہاں ہیں امت محمدی کے وہ لوگ جو متقی ہوں زمین میں برائی اور فساد کے بغیر حکمرانی کرنا چاہتے ہوں ؟؟؟.
ان تنصروالله ینصرکم. ..

ربنا و آتنا ما وعدتنا علی رسلک ولا تخزنا یوم القیامۃ انک لا تخلف المیعاد ربنا أعط نفوسنا تقواها و زکها أنت خیر من زکها انت ولیها و مولها  آمین
دعا کی طالب بشری تسنیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s