وفا کے تقاضے – 18

وفا کے تقاضے

وفا کے تقاضے نبھانا انسانیت کی معراج ہے۔  جس نے جس سے محبت کا دعوی کیا یا  اطاعت کا عہد کیا یا ساتھ نبھانے کا اقرار کیا، اور اس پہ ایمان داری سے قائم رہا  وہ وفا دار ہے۔ اور صبر وہ بنیادی صفت ہے جو انسان کو وفاداری سکھاتی ہے۔ سب سے پہلی وفا رب سے کئے گئے عہد الست  کو نبھانا ہے اور  اس عہد وفاکو  نبھانے کے لئے نفس امارہ سے ہمہ وقت جنگ ہے  اوریہی صابرانہ طرز عمل ہے۔وفا داری بشرط استواری اصل ایماں ہے۔۔اپنے رب سے کئے گئے اس عہد کے بعد  دوانسانوں  کے درمیان پہلا عہد نکاح کا عہد ہے۔اور اس عہد پہ گواہ اللہ رب العلمین ہے۔ اور اس عہد کو وفا کرنے کے سارے قوانین اور طریقے خود اللہ رب الخالق نے وضع کئے ہیں ، تو نتیجہ یہ نکلا کہ جو اللہ سے کئے گئے عہد کا جتنا پاس رکھتا ہے وہ میاں بیوی کے درمیان ہونے والے عہد کو وفا کرنے کا بھی اسی قدر پاس رکھتا ہوگا۔اخلاقیات کے سارے  پہلو میاں بیوی کے رشتے میں پنہاں ہوتے ہیں ۔ جس طرح اللہ کی اطاعت اور  محبت   انسان کو  دنیا  کے معاملات میں بھی صراط مستقیم سے ہٹنے نہیں دیتی اسی طرح میاں بیوی کے درمیان محبت اور عہد نکاح کا پاس ،نسب اور صہر  کے رشتوں میں افراط و تفریط  سےبچائے رکھنے میں ممد ومعاون ہوتا ہے۔ اور جو  ان رشتوں کی پہچان ، ترتیب  وترجیحات کا شعور حاصل کر لیتا ہے دنیا کے باقی سارے رشتوں کے تقاضے بھی احسن طریقے سے نبھانے کا گر سیکھ جاتا ہے۔۔اعتراف حقیقت یہی ہے کہ جو اپنے خالق سے اور اپنی زندگی کے ہمہ وقت ساتھی سے وفا دار نہیں وہ  اپنا خود دشمن ہے ۔اور جو اپنا دشمن آپ  ہی ہو اس کی بد بختی پہ کسی کو دوش نہیں دیا جاسکتا۔۔

جس طرح اللہ رب العلمین کے ساتھ کسی نہج پہ کسی نوعیت کا شرک یا بے وفائی قابل قبول نہیں اسی طرح غض بصر کا حکم دے کرنکاح کے ایفائے عہد کی تربیت شروع کی گئی اور

بے وفائی کی سارے روزن بند کر دئے گئے۔ اور اگر کوئی ان ساری رکاوٹوں ،حصار  اور پابندیوں اور اصولوں کو پامال کرتے ہوئے گندگی کی دلدل میں دھنس جاتا ہے تو اسے زندگی جیسی عظیم نعمت  سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں ۔ یہ اللہ کا قانون ہے۔

ہم جس نام نہاد اسلامی معاشرے میں رہ رہے ہیں وہ منافقت کا ایسا معاشرہ ہےجہاں شریعت کو  اپنے نفس کے تابع رکھنے والے مسلمانوں کی اکثریت ہے،با شعور دیندار گھرانوں میں بھی بحیثیت شوہر کے مردوں کا کردار   قوامیت  کے غلط افکار پہ مشتمل ہے۔ قوام ، اپنے رب کے احکامات سے روگردانی کے اثرات ہی تو اپنے گھر والوں میں دیکھتے ہیں ۔ اپنے اور رب کے درمیان  شجر طیبہ کےتعلق کا بیج جس قدر خالص ہوگا  اور جتنی جڑیں  مضبوط ہوں گی  گھر  میں اسی نسبت سےشجر ثمردار نصیب ہوگا ۔  گھر کےبڑے حوض میں جیسا پانی ہوگا چھوٹے برتن  میں ویسا ہی پانی دستیاب ہوگا۔,،

منافقت اور بے وفائی میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ معاہدہ کوئی بھی ہو اور کسی سے بھی ہو، اس میں بے ایمانی کم ہو یا زیادہ منافقت اور بے وفائی ہے۔ اسی طرح نکاح کے معاہدے  میں ایمان داری اور وفا کا اطلاق دونوں فریق پہ یکساں لاگو ہوتا ہے۔  اللہ تعالی نے  سورہ بقرہ میں فرمایا     ولھن  مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجہ  اس آیت کے پہلے حصے میں  انسانی حقوق کی برابری کی بات کی گئی ہے جو  دونوں فریق کو برابر حاصل ہے اور پھر مرد کو ایک درجہ فضیلت کا ذکر کیا گیا ہے، ہمارے معاشرے کے دیندار گھرانوں میں بھی ایک درجہ فضیلت کا تو  بہت  تذکرہ ہوتا ہے مگر بیوی کے انسانی جزبات واحساسات ،عزت نفس کا احساس تک نہیں کیا جاتا۔مرد کے ایک درجہ فضیلت کا مطلب شوہر عموما یہ اخذ کرتے ہیں کہ عورت ہر خوبی میں ہرطرح سے اس سے ایک درجہ کم ہی رہے، صلاحیت، قابلیت، زہانت حتی کہ تقوی کے معاملے میں بھی ہم سے ایک قدم پیچھے ہی رہے۔ نیکی اور صالحیت میں بیوی کی اتنی ہی کوشش پسند کرتے ہیں کہ شوہر کو اپنی نیکی اور صالحیت پہ آنچ آتی محسوس نہ ہو  اسی لئے وہ بیوی کے خاندان کو اس کے بہن بھائیوں والدین رشتہ داروں کو کسی خاطر میں نہیں لاتے ان کی خوبیوں کو تسلیم نہیں کرتے ان کو اپنا مدمقابل سمجھتے ہیں اور بیوی کے باپ ،بھائی اور بہن کے رشتے کو گالی کے طور پہ رواج دینے کا کارنامہ بھی مردوں کا ہی ہوسکتا ہے۔عزت ،شہرت ،دولت  یا تقوی  والے خاندان میں شادی  کرنےکا شوق  تو بہت پایا جاتا ہے  مگر بعد میں اسی خاندان کو  بے وقعت  کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے  اوربیوی کے لئے باعث وبال بنا دیا جاتا ہے۔   ایک درجہ فضیلت کا یہ تصور رکھنے والے شوہر بیوی کو رفیق زندگی سے زیادہ رقیب زندگی بنا لیتے ہیں  اور خیال کرتے ہیں کہ بیوی ہمارے لئے وبال جان ہے ۔

شریعت نے تمام احکامات چند خاص معاملات کو چھوڑ کر میاں بیوی کے لئے یکساں لاگو کئے ہیں۔ حیا  اور وفاکے تقاضے دونوںکو ایک جیسے ہی نبھانے ہیں ،اور شرعی فرائیض سب پہ یکساں فرض ہیں شرعی سزائیں دونوں  پہ یکساں نافذ ہوتی ہیں ۔وہ سب فطری حقوق جو انسان کے ہیں ان میں کوئی فرق نہیں کیا گیا، دونوں کو محبت ، حوصلہ افزائی ،تعاون حسن سلوک کی ضرورت ہوتی ہے ، اپنی خود داری اور عزت نفس  دونوں کو یکساں عزیز ہوتی ہے۔ ان سب احساسات میں کوئی فرق نہیں ہے جو خوشی ،غمی ،تکلیف ،دکھ درد میں انسان کو ہوتے ہیں ۔مگر بیوی کو  جزبات سے عاری مخلوق سمجھنے والے بھی معاشرے میں کم نہیں ہیں ان میں جاہل ہونا کوئی ضروری نہیں ہے۔ مجازی خدا کے لہجے اور رویے خدائی انداز لئے ہوتے ہیں،وہ توقع رکھتے ہیں کہ  بیوی ان کی سب خواہشات نفس اور  ہر بڑی سے بڑی خطا اور زیادتی کو  بھی   ان کی خوبی سمجھے اوروالہانہ محبت  اور خدمت میں کمی نہ آنے دے ، اس طرح  وفادار بیوی ہونے کا ثبوت دے،  اس وفا داری کا پیمانہ ناپنے کے لئے  اللہ کا حکم ٹوٹے یابیوی کا دل ٹوٹے اس سے غرض نہیں ،  وہ  ایک درجہ فضیلت رکھتا ہے  یہ زعم  ہر بات پہ حاوی رہتا ہے،جس رب نے یہ فضیلت دی ہے اس کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے اختیارات  کا حساب دینا یاد نہیں رہتا۔

جب کسی بھی ادارے کے سربراہ کے پاس ٹھوس پائیدار اور مستقل  نصب العین نہیں ہوتا تو وہ اپنی ذات کے بارے میں بھی پر اعتماد نہیں ہوسکتا ، شوہرکا درجہ حاصل کر لینا ہی کوئی قابل قدر اعزاز نہیں ہے اس کے تقاضے نبھانے کے لئے  وسعت قلبی اور اعلی ظرفی کے ساتھ ساتھ نصب العین کے بارے میں شرح صدر ضروری ہے، شوہر کا مقام عالی پا کر ضمیر کا مطمئن ہونا اسی وقت لازم ہے جب اس کے اخلاقی ،معاشی ،ظاہری و باطنی معاملات  کو شرعی طریقے سے نبھایا جانا مطمح نظر ہوگا،  اگر صرف  معمولی سا حق مہر دے کر  شرعی تقاضے  نبھانا سمجھا گیا [حالانکہ  یہ تصور غلط ]  یا زیادہ حق مہر محض  برادری کو مرعوب کرنے کے لئے لکھوانے کا کارنامہ انجام دیا گیا یا بیوی سے زبردستی یا محبت کے نام پہ ورغلا کر  معاف کرانے کی جسارت کی گئی تو گویا  ازدواجی زندگی کی عمارت کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی ر کھ دی گئی۔ ازدواجی زندگی  گزارنے کے اسلامی آداب مسلم امہ کی تعلیم کا اہم  حصہ ہے اس کی طرف پوری توجہ کی ضرورت ہے تاکہ غیر اسلامی تہذیب کے سب اثرات اور رسوم ورواج ختم ہو سکیں ۔اور اس  عظیم جدوجہد میں  قوام کی ذمہ داری  اہم ہے اس لئے کہ اس کو عورت پہ ایک درجہ اس لئے فضیلت دی گئی ہے کہ وہ مال خرچ کرتے ہیں اور مال خرچ کرنے  یا کروانے کا حساب صاحب مال سے ہی لیا جاتا ہے  ۔اور  رسوم ورواج  مال خرچ کئے بغیر نہیں ہو سکتے۔ کوئی عاقل بالغ ہوشمند  قوام اللہ کے سامنے یہ کہ کر اپنی جان نہیں چھڑا سکتا کہ۰ میں مجبور تھا۰ قوام  ہونے کا منصب  اور  ماتحت  کے سامنے مجبوری  ناقابل فہم ہے ۔ دراصل یہ اپنے   مقام و مرتبے کی عدم پہچان اور  اللہ  کے سامنے جواب دہی کے احساس  کا فقدان ہے۔۔

جب مومن معاشرے میں  شریعت کے معاملات کو اپنی  ضرورت یا خواہش نفس کے مطابق ڈھالنے کی یا اپنے حقوق کو زیادہ فرائض کو کم کرلینے کوشش ہونے لگتی ہے تو عدم توازن  اور خلا پیدا ہو جاتا ہے  اس خلا کو پر کرنے کے لئے  شیطانی تہذیب کے کارندے عمل دخل شروع کر دیتے ہیں  حقوق نسواں کے علمبردار  اس کی ایک مثال ہیں۔ مومن معاشرے میں مومن شوہر اپنے فرائیض ادا کرے تو کسی قسم کی بد نظمی پیدا ہونے کے امکانات نہیں رہتے۔ ہمارا اب تک المیہ یہی رہا کہ قرآن و سنت کےمستند علم سے دوری ہندوانہ تہذیب کے اثرات اور مغربی تعلیم و تہذیب سے مرعوبیت نے   کسی کام کا نہ رہنے دیا ۔ایک طرف یا تو مرد  کی غیر انسانی  برتری کا  ظالمانہ کردار ہے اور دوسری طرف عورت کی آزادی کا  غیر فطری بے رحمانہ نعرہ ہے۔۔ [جاری ہے]

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s