متوازن زندگی (۲)

پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

اگر خوب صورتی کی تعریف کرنا مقصود ہو تو یہی کہنا کافی ہے کہ اس میں ہر شے توازن کے ساتھ موجود ہے۔۔۔ وہ شکل صورت ہو یا سیرت۔۔۔ کوئی عمارت ہو یا باغ۔۔۔ کهانے کی ڈش ہو یا لباس، زندگی کا ہر رخ توازن سے ہی خوب صورت لگتا ہے۔

الله تعالی نے کائنات کی ہر شے کو اسی اصول اور فارمولے کے تحت بنایا ہے۔ انسان کو نک سک سے درست کرنےکا مطلب یہی ہے کہ کہیں جهول نہ رہ جائے۔ پورے بدن کی ساخت ایسی بنائی کہ ظاہری اور اندرونی نظام ایک توازن سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے بحسن و خوبی چلتا رہتا ہے۔۔۔ اس توازن میں جب بهی مداخلت ہوتی ہے تو انسان بیمار کہلاتا ہے۔ اسی طرح احساسات و جذبات میں توازن شخصیت میں حسن پیدا کرتا ہے۔۔۔ حقوق و فرائض کی ادائیگی میں پلڑا برابر ہو تو باہمی تعلقات اور معاشرے میں امن وسکوں کی بہار ہوتی ہے۔ عمارت میں استعمال ہونے والا میٹیریل، مناسب توازن کے ساتھ نہ ہو تو عمارت کی پائداری مشکوک ہوتی ہے۔ کهانے میں مسالے کی مقدار مطلوبہ توازن کے مطابق نہ ہو تو کها نے کا ذائقہ بےمزہ ہو جاتا ہے۔ لباس بدن کے مطابق نہ ہو تو انسان مجهول لگتا ہے۔۔۔ غرض عرش سے فرش تک کی ہر شے یہ اعلان کر رہی ہے کہ

"واقیموا الوزن بالقسط ولا تخسروالمیزان”

آسمان پہ سورج، چاند، ستاروں کی گردش؛ سمندر، پہاڑ، خشکی، نباتات، مخلوقات کی پیدائش؛ زندگی موت کے سارے پیمانے مناسب تعدیل کے ساتھ الله رب العالمین کی طرف سے مقرر کردہ ہیں۔ اس سارے نظام کائنات کے حسن یا توازن میں ایک فرد کی غلط سوچ، قول وعمل میں تضاد بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ اس لئے کہ ہر فرد اس نظام کائنات کا لازمی جزو ہے۔۔۔ وہ نگاہ جو آسمان کی طرف اٹهتی ہے اور اپنے رب کی حمد بیان کرتی ہے وہ آسمان کے حسن کو تسلیم کرتی ہے اور اپنی بصیرت سے اپنی بینائی کو جلاء بخشتی ہے۔

الله تعالى اپنی تخلیقات کےذریعے اپنے بندے کو اپنی پہچان کا موقع عطا فرماتا ہے۔ گویا کہ تینوں کے درمیان ایک حسین ربط قائم ہو جاتا ہے۔ رب کائنات کی خوبصورت کائنات میں حسن جا بجا اسی طرح اپنے جلوے دکهاتا ہے۔

متوازن کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہر شے ایک جیسی ہو. اگر ساری زمین پہ خشکی ہوتی یا صحرا ہوتا یا سارے لوگ ایک شکل و قد کا ٹھ کے ہوتے یا ہر روز ایک ہی کها نا ملتا تو زندگی کا حسن کہیں نہ ملتا اگر انسان عمر کی منزلیں طے نہ کرتا تو زندگی عذاب ہوتی۔ غم نہ ہوتے تو خوشی کا جذبہ کبهی دل میں ترنگ نہ لاتا۔۔۔

متوازن زندگی گزارنے کا ایک بنیادی نکتہ یہ ہے کہ حالات کا رخ کیسا بهی ہو جائے اپنے اخلاق و کردار کو ایک نکتے پہ مرکوز رکها جائے۔ اس لئے کہ اچهے برے حالات سے نبرد آزما ہونے کے لئے اپنا رخ سیدها رکهنا ضروری ہے۔ اگر رخ بدلا گیا تو راستہ بدل جائےگا اور راستہ بدل جائے تو منزل خود بخود بدل جاتی ہے۔۔۔ (ولکل وجة هو مولیها فاستبقوا الخیرات)

 بے شک متوازن شخصیت ایک لچک دار شخصیت ہوتی ہے لیکن درخت کتنا ہی لچکدار کیوں نہ ہو اپنی جڑوں پہ قائم رہنا ہی اس کی بقا ہے۔۔۔ الله سبحانه وتعالى نے شخصیت کی لچکداری کے حسن کو خود بهی واضح کر دیا ہے کہ اضطراری کیفیت ہے تو حرام کی اجازت ہے لیکن مقدار و تعداد کا تعین مومن کے شجر طیبہ کی مضبوط جڑ سے وابستہ ہے۔ اس میں نہ لچک ہے نہ کمزوری، تو پھر ہی شجر کا ثمر دار ہونا ثابت ہوگا۔  نفس امارہ کو متوازن رکهنے کے لئے نفس لوامہ ایک نعمت ہے۔ یہ بهی متوازن اور حسین، مطمئن زندگی( نفس مطمئنہ) کے لیے لازمی امر تها۔ (فالهمها فجورها و تقواها)

معاملات انفرادی ہوں یا اجتماعی، قومی ہوں یا خانگی، کامیاب زندگی کا راز یہی ہے کہ متوازن اور معتدل زندگی گزاری جائے۔ اس حسین کائنات کے حسن کو نہ بگاڑا جائے۔ اس کو اپنی ناپاک سوچ اور گهناونے عمل سے بد صورت نہ بنایا جائے۔۔۔ مومن کا دل اس کائنات کا سب سے خوب صورت مقام ہے۔ جہاں رب کائنات سما جاتا ہے۔۔۔ جو بادشاہ جہاں ٹهہرتا ہے وہیں سے احکامات صادر کیا کرتا ہے۔

مومن کے دل میں رب کائنات تشریف فرما ہو اور مومن اس کائنات کا حسن کیسے خراب کر سکتا ہے؟ مومن اپنے گهر، معاشرے، اس کائنات کا توازن کیسے بگاڑ سکتا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ رب کائنات کی اتنی قربت ہو اور مومن اس کی بنائی ہوئی خوب صورت جنت سے غافل ہو جائے۔۔۔؟

آئیے اپنےدل کا جائزہ لیں۔۔۔ وہاں رب کائنات کے لئے پاکیزہ جگہ موجود بهی ہے یا نہیں؟ اگر ہم مومن ہیں۔۔۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s