حدیث نمبر 38 

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد رحمۃ للعالمین و خاتم المرسلین

مشکوة المصباح کتاب الصوم میں بخاری شریف کے حوالے سے سیدنا أبو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنه سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” اگر کسی شخص نے جهوٹ بولنا اور جهوٹ پہ عمل کرنا نہ چهوڑا تو الله سبحانه وتعالى کو اس بات کی ضرورت نہیں ہےکہ وہ کهانا پینا چهوڑ دے۔”

اس حدیث مبارکہ میں دو با توں کی مذمت کی گئی ہے۔ جهوٹ بولنا اور جهوٹ پہ عمل کرنا۔ سب جهوٹ جیسی برائی سے واقف ہیں۔ پوری انسانیت اس بات پہ متفق ہے کہ جهوٹ ایک بہت بڑاعیب ہے۔ ساری دنیا اس برائی کے خلاف ہے۔ سب یہ چاہتے ہیں کہ ان سے جهوٹ نہ بولا جائے۔ سب کہتے ہیں کہ ہمیں جهوٹے لوگوں سے نفرت ہے۔ مگر المیہ یہی ہے کہ ہر شخص نے جهوٹ کا لبادہ اوڑھ رکها ہے۔ جهوٹ پہ عمل ایک الگ عیب ہے۔ غلط بیانی جهوٹ ہے تو غلط کاری جهوٹ پہ عمل ہے۔۔۔

"حق” سچ ہے اور”باطل” جهوٹ ہے۔۔۔ الله”الحق” ہے اس کی اطاعت حق ہے، سچ ہے۔ الله کی فرماں برداری سچائی ہے سچ پہ عمل ہے۔ انسان اپنے سارے اعضاء سے سچ یا جهوٹ پہ عمل کرتا ہے۔ اگر آنکهوں کانوں اور دل کو الحق کا بندہ بنایا تو یہ سچ پہ عمل ہے۔ اگر اپنے جسم کو الحق کی نافرمانی میں لگایا تو یہ باطل کی اطاعت ہے یعنی جهوٹ پہ عمل ہے، جهوٹی زندگی ہے۔۔۔ روزے میں اگرالله کی فرماں برداری نہیں کی، صرف پیٹ کو کهانے پینے سے باز رکها، تو الله کو ایسا روزہ نہ مطلوب ہے نہ قبول ہے۔۔۔ الله تعالیٰ نے اپنے بندوں سے فرما یا کہ روزہ میرے لئے ہے اور اس کی جزا میں خود ہوں۔۔۔ جو ذات الحق ہو وہ حق ہی قبول کرے گی باطل نہیں۔

حقوق الله اور حقوق العباد کی ادائیگی ایک حق بات ہے ان حقوق سے روگردانی گناہ ہے۔ ہر گناہ جهوٹی زندگی گزارنا ہے، سچی زندگی وہی ہے جس کا انجام کار کامیاب ہو۔۔۔ جس نے زندگی عطا کی ہے وہی جانتا ہے زندگی کا سب سے بڑا سچ کیا ہے اور جهوٹ کیا ہے۔ سب سے بڑا سچ  لا الہ الا اللہ ہے اور اس کے مطابق زندگی گزارنا سب سے بڑی سچائی ہے۔ اوراس کلمے سے رو گردانی سب سے بڑا جهوٹ ہے اور ایسی زندگی جهوٹ پہ عمل ہے۔ مشرک، منافق، کافر، خائن، فاسق کی زندگی جهوٹ پہ عمل ہے.غرض الله تعالى کی ہر نافرمانی جهوٹ پہ عمل ہے۔ روزہ جیسی عظیم عبادت اگر جهوٹ اور جهوٹے عمل سے منسلک ہو تو وہ رب اس جهوٹ کے پلندے کو کیسے قبول کرے گا۔ الله تعالى پاک ہے، الحق ہے،  پاکیزہ اعمال اور سچے عمل کو پسند کرتا ہے۔ شهد کی بوتل میں اگر زہر بهرا ہو تو بوتل پہ شهد لکهنے سے وہ شهد نہیں بن سکتا۔ روزے دار کا باطن بهی روزے سے ہے تو اس کی جزائے خیر الله رب العزت کی ذات ہے۔۔۔ سبحان الله۔

ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں

اللهم ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هدیتنا وهب لنا من لدنک رحمہ۔ انک انت الوهاب۔

اللهم اعنا علی ذکرک و شکرک و حسن عبادتک  آمین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s