حدیث نمبر 22

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد رحمۃ للعالمین

مسند الفردوس 122/1 وسلسلہ الصحیحۃ 408/3 حدیث 1421 کے مطابق سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنه سے  روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "اپنے آپ کو ہر اس معاملے سے بچا کر رکهو جس کی وجہ سے بعد میں معذرت کرنی پڑے۔”

اس ایک جملے میں اپنی عزت نفس کی حفاظت کا بہترین اصول بتایا گیا ہے۔۔۔ انسانی فطرت طبعاً دوسرے کے سامنے جهکنے معذرت کرنے میں عار محسوس کرتی ہے۔ علماء کا کہنا ہے کہ انسان اپنی زبان اور برے اخلاق کے ہاتهوں دوسروں کے سامنے شرمندہ ہوتا ہے۔ وہ سارے اخلاقی عیب جن سے انسان کو دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے وہ دراصل انسان کی عزت نفس کی حفاظت کے لیے ہی ہیں۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ انسان کی عزت اس کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے۔۔۔  بلاوجہ کی ضد، ہٹ دهرمی، دوسروں کے معاملات میں ضرورت سے زیادہ عمل دخل، بغیر مطالبہ کے مشورے دینا، کسی کی رائے پہ اپنی رائے کو بہتر منوانے پہ اصرار کرنا، دوسروں کے اعمال پہ تبصرے کرنا۔ دوستوں، رشتہ داروں کے درمیاں فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔ دوسروں کی خوبیوں کو پوشیدہ رکهنا اورعیب کی تشہیر کرنا، کسی بهی خبر کو بغیر تحقیق کیے بنا سوچے سمجهے دوسروں تک پہنچانا، فریقین میں سے صرف ایک کی سن کر رائے قائم کر لینا۔ جهوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا، اپنی بات سے مکر جانا، الزام تراشی اور بہتان لگانا، غیبت چغلی یا حسد کرنا۔ پیغام رسانی کرتے ہوئے الفاظ کا غلط چناؤ کرنا۔ یہ غیر محتاط  رویے معاشرے میں ابتری کا باعث بنتے ہیں تو سب سے زیادہ اس طرح کا رویہ رکهنے والے کو خود ہی کبهی نہ کبهی ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ الله سبحانہ و تعالیٰ کو اپنے بندے سے بہت محبت ہے اور اس کی عزت نفس کے لیے وہ پیارا رب فکرمند رہتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ کوئی بهی مرد یا عورت جو اس پہ ایمان لانے کا دعویٰ کرے اور اس کی شخصیت میں کوئی جهول ہو۔

ہر انسان میں برائی اور اچهائی کا مادہ ہوتا ہے کوئی انسان نہ مکمل طور پر نیک خصال ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی برائی کا مجسمہ ہو سکتا ہے۔ دوسروں کے بارے میں گنہگار یا اپنے بارے میں متقی ہونے کا احساس ظاہر کرنا بهی شرمندہ کروا سکتا ہے کیونکہ  الله تعالی نے فرمایا ” لا تزکوا انفسکم هو أعلم بمن اتقی” اور ہر انسان جانتا ہے کہ وہ کیا عمل الله کے لیے کرتا ہے اور کونسا اپنی خواہش نفس کے ہاتهوں مجبور ہو کر کرتا ہے۔۔۔ الله تعالی نے فرمایا کہ ہر انسان اپنے اعمال کے عوض گروی ہے۔ اپنے ان اعمال کا بهی بهگتان اسے بهگتنا ہوگا جو اس نے لا ابالی پن میں جہالت میں غصے یا انتقام میں کیے۔ اس لیے کہ ہرعمل کا رد عمل ہونا ہوتا ہے۔ کچھ أعمال کے نتائج جلدی سامنے آجاتے ہیں کچھ کے دیر میں کچھ اعمال کی شرمندگی اس وقت ہوگی جب معذرت کی اجازت نہ ملے گی۔ "لا تعتذرو الیوم”  کا نمایاں بورڈ سامنے آجائے گا اورانسان کو کوئی زمین بهی نہ ملے گی کہ مارے شرمندگی کے اس میں سما جائے۔ پشیمانی کےپسینےہوں گے جس میں ڈوب ڈوب جاتا ہوگا۔۔۔

اللهم احسن عاقبتنا فی الأمور کلها و اجرنا من خز ی الدنیا وعذاب الاخرة۔ آمین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s