حدیث نمبر 7

 بسم الله الرحمن الرحيم

الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد رحمۃ للعالمین

مسلم شریف کی ایک معروف حدیث ہے کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"الدین النصیحه ” دین سراسر خیر خواہی کا نام ہے۔ آپس میں خلوص و مہربانی دین کی بنیاد ہے۔

الله تعالى کو اپنی مخلوق میں سب سے پیاری تخلیق انسان ہے۔ انسانوں میں سب سے پیارے انبیاء ہیں۔ انبیاء میں سب سے زیادہ پیارے نبی محمد صلى الله عليه وسلم ہیں۔ جس سے پیار ہوتا ہے اس کی تربیت بھی اتنی ہی پیار اور توجہ سے ہوتی ہے اس کی چھوٹی سی غلطی بھی نظر انداز نہیں کی جاتی۔ قرآن پاک میں متعدد جگہ پہ انبیاء کو معمولی سی بات پہ توجہ دلائی گئی اور اس کی نشان دہی کی گئی ہے۔ یہ الله تعالى کی اپنے برگزیدہ بندوں سے محبت کا مظہر ہے۔ سورہ عبس میں ایک نابینا کے ساتھ نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کا بے رخی برتنا یا سورہ کہف میں”ان شاء الله” کہنا بھول جانا۔ جو محبت الله تعالى کی طرف سے نبی کریم کو عطا ہوئی وہی پر خلوص محبت الله کے نبی کو اپنی امت سے ہے۔ وہ مسلمانو ں کے اس قدر خیر خواہ ہیں کہ  امت کے افراد اپنے لیے خود بھی اتنے خير خواہ نہیں ہو سکتے۔۔۔ والدین، استاد، مرشد، دوست  اور محبت کرنے والے رشتوں کے دلوں میں بھی الله تعالی یہی جذبہ رکھ دیتے ہیں۔۔۔ نالائق  نافرمان  ضدی سر کش ظالم متکبر امت کا فرد ہو اولاد ہو شاگرد ہو  یا کوئی اور ،اپنا راستہ  الگ کرلے  تو کوئی اس کا ذمہ دار نہیں ہوتا نبی کریم کو بھی اس سے بری الذمہ قرار  دیا گیا ہے.لیکن  لائق فرماں بردار سمجھ دار نیکی میں سبقت لے جانے والا فرد نبی کے لیے والدین کے لیے مرشد اور محب  کے لیے اہم ہوتا ہے اس کی زیر، زبر ،پیش کی غلطی بھی قابل مواخذہ  ہوتی ہے۔ اس لیے جب دو فریق مخاصمت کا شکار ہوتے ہیں تو زیادہ  نصیحت  اسے کی جاتی ہے جو سمجھ دار ہو تاکہ اس کی شخصیت کا وقار قائم رہے اس کے نمبر کم نہ ہوں اس کی جنت میں کمی نہ آئے۔ جو سمجھنے پہ راضی نہ ہو  اس سے اعراض کاحکم ہے۔ (اعرض عن الجاهلین)

خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کو ایسے والدین استاد مرشد یامحبت کرنے والے دوست بہن بھائی مل جائیں جو ان کے معمولی سے نمبر کٹ جانے پہ بھی فکر مند ہوں۔ نصیحت کریں، ان کا دائمی واخروی بھلا چاہیں۔ امت مسلمہ میں "الدین النصیحه ” کے تقاضے پورے نہیں ہو رہے۔۔۔ خلوص اول تو کہیں موجود نہیں اور اگرکہیں ہے تو اس کا یقین نہیں۔ عوام الناس مجموعی طور پر اس احساس سے غافل ہیں کہ ان پہ ظالم حاکم کیوں مسلط ہیں؟ نصیحت، خلوص اور بے غرض مہربانی کو قبول نہ کرنے کی سزا ظالم، خود غرض مفاد پرست حاکموں کی شکل میں ملتی ہے۔۔۔ حق شناس کو اس کا ادراک جلدی ہو جاتا ہے۔ جس نے خیر خواہی کو دشمنی جان لیا ہو اس کے انجام کا ذمہ دار وہ خود ہوگا وہ کوئی ایک فرد ہو یا کوئی قوم۔۔۔

کیا ہم انفرادی و اجتماعی طور پہ بے غرض خلوص، خیر خواہی، مہربانی کے ساتھ دین اسلام کی تعلیمات پرعمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے جذبہ کی قدر کرتے ہیں؟

کیا ہمارے معاشرے میں محبت لینے اور دینے کا وہ جذبہ پروان چڑھ رہا ہے جس کی بنیاد "الدین النصیحه "ہے؟

اللھم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہ۔۔۔آمین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s