یادداشت پہ چھایا نام

اس وسیع کائنات پر تفکر کی نظر ڈالیں تو چاروں طرف تا حد نگاہ اﷲ رب العزت کی بے شمار خوب صورت نشانیاں نظر آتی ہیں۔ سروں پہ آسمان کی شکل میں خوب صورت چھت اور اس پہ سجے ہوئے سورج‘ چاند‘ ستارے‘ سیارے‘ بادلوں سے برستے پانی کے مصفا و مجلّٰی قطرے‘ سوندھی سوندھی مٹی سے جنم لیتے ہوئے پودے اور پھلوں اور پھولوں کی بہار— رب لازوال کی نعمتوں کو نہ آج تک کوئی گن پایا ہے‘ نہ گن سکتا ہے: فَبِاَیِّ اٰلآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ رب قدیر کی نشانیاں ہر لمحے نئی شان اور اچھوتی آن بان سے بکھری ہوئی جلوہ گر نظر آتی ہیں۔
زندگی اور موت‘ ہر ذی روح کی حقیقت ہے‘ بلکہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت موت ہی ہے۔ یہی حقیقت انسان کی آنکھوں سے اوجھل رہتی ہے۔ آنکھ اس وقت کھلتی ہے جب انسان اپنی قیمتی ہستی سے محروم ہو جاتا ہے۔ جن کو عزیز از جان کہتا ہے‘ وہ بھی اس کے لیے کچھ بھی نہیں کر پاتے۔ خالق ارض و سما نے موت کو بھی اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا‘ کہ انسان کتنا بے بس مجبور ہے۔ موت کی حقیقت کا سامنا ہر نیک و بد کو کرنا ہے۔
یہ نابغۂ روزگار‘ زمین کا نمک اور پہاڑی کے چراغ اللہ تعالیٰ کی رحمت ِ واسعہ کے نشان ہوتے ہیں۔ انبیا کے وارث اور دین متین کے امین‘ وہ دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی دلوں سے بھلا کب جاتے ہیں؟ وہ تو یادوں میں رچ بس جاتے ہیں۔ وہ مصروفِ عمل رہتے ہیں اور ہمیں اپنے علم سے فیض یاب کرتے رہتے ہیں۔ وہ آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہیں‘ مگر بصیرت کی روشنی پھیلاتے ہوئے ہماری آنکھوں کے نور بن جاتے ہیں۔ ہمارے دکھ سکھ میں رہنما بن جاتے ہیں۔ یہ موت سے ہمکنار ہونے کے بعد حیاتِ جاوداں کو پا لیتے ہیں۔ زندگی میں فاصلوں کے بُعد حائل ہوتے ہیں‘ لیکن زندگی کا حصار ختم ہوتے ہی یہ آفاقی ہو جاتے ہیں۔ حیاتِ مستعار کا ہر لمحہ ایسے ہی انسان کو اخروی کامیابیوں کی نوید سناتا ہے۔ ایسے خوش نصیب انسانوں سے معمولی سا ناتا بھی کتنا فخر کا باعث بن جاتا ہے۔ ایک مرتبہ کی زیارت‘ چند لفظوں کا تبادلہ‘ سلام دُعا کا اعزاز‘ خوش بختی کا عنوان بن جاتا ہے۔
میرے روحانی استاد‘ میرے شعور اور علم و فہم کو روشنی عطا کرنے والے محسن سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃاللہ علیہ کے ساتھ تعلق ابدی و لازوال ہے۔ میری حیاتِ فکر کے نقشے میں سید مودودیؒ کی تصویر شامل ہے۔
مجھے اپنے بچپن اور گھر کا ایک منظر یاد آتا ہے۔ ہم چند ننھے مُنے بچے جن کو نماز کے رکوع و سجود سے واقفیت تو ہے‘ مگر نماز میں پڑھے جانے والے الفاظ اور رکعتوں کی تعداد سے ناآشنا ہیں۔ ہماری نانی جان مرحومہ نے (جنھیں ہم سب اماں جی کہتے تھے) صف پہ قطار میں بٹھایا ہوا ہے۔ چھوٹی سی چُنریا میرے سر سے گرنے لگتی ہے تو اماں جی اسے دوبارہ ٹکادیتی ہیں۔ پھر انھوں نے سب بچوں کے ہاتھ دعُا کے لیے اُٹھوائے اور کئی بار کہلوایا:
’’اے اللہ‘ ہمیں نیک بنا‘‘۔
’’اے اللہ‘ اماں جی کو حج کروا دے‘‘۔
’’اے اللہ‘ مولانا مودودی کو صحت عطا فرما‘‘۔
اور پھر یہ تین دُعائیں انہماک سے سنی جاتیں‘ اور ہر وقت تاکید کی جاتی کہ ان دُعائوں کو ضرور مانگنا ہے۔ گھر میں امی جان اور اماں جی سے جو بچے قرآن پاک پڑھنے آتے‘ ان سے یہ دعائیں ورد کی طرح کروائی جاتیں۔ میری والدہ محترمہ ] اُم شاہد[ بھی علم دوستی‘ شوقِ مطالعہ اور تربیت ِ اولاد کے لیے انتہائی فکرمند اور حساس خاتون ہیں۔ بہرحال اماں جی کو اللہ تعالیٰ نے حج کی نعمت سے سرفراز فرمایا تو نانی جان نے دُعا میں تبدیلی کروا دی: ’’اے اللہ اماں جی کو پھر سے بیت اللہ کی زیارت کروا دے‘‘ اور باقی دو دُعائیں کسی تبدیلی کے بغیر جاری و ساری رہیں۔
لاشعور میں اماں جی کا حج‘ اللہ تعالیٰ کا گھر‘ مولانا مودودی کا تصور ایک ہی جگہ نقش تھا۔ مولانا کا دوسروں سے مختلف نام اور اوروں سے منفرد تذکرہ‘ بچپن کی خوب صورت‘ ان بھولی بسری یادوں میں یاد رہنے والی یاد ہے۔ اکثر سوچا کرتی تھی: یہ شخصیت کون ہے؟ کیا فرشتہ ہے؟ کوئی نبی ہے؟ نہیں‘نبی تو نہیں ہو سکتا‘ کیونکہ ہمیں اکثر بتایا جاتا تھا کہ رسولؐ اﷲ ‘ آخری نبی اور رسول ہیں۔ اس لیے سوچتی کہ جب نبی کی آمد ختم ہے تو پھر یہ کوئی فرشتہ ہی ہوگا۔ اب اللہ تعالیٰ کے تصور کے ساتھ ہی ان کا خیال بھی آتا ۔ یہ رشتہ دار تو نہیں ہیں‘ نہ کبھی ہم ان کے گھر گئے‘ نہ کبھی وہ ہمارے گھر آئے۔ لیکن یہ کیا بات ہے کہ گھر میں ان کا تذکرہ رشتہ داروں سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ گھر میں آنے والا ہر اخبار‘ رسالہ اور ہر فرد ان سے واقف ہے۔ وہ گھر کے فرد تونہیں‘ لیکن ہمیشہ گھر کے مکینوں کے ساتھ رہتے ہیں۔
دوسرا منظر مجھے کسی جلسے کا یاد ہے۔ نعروں سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ جلسہ گاہ کی پچھلی طرف خواتین کے لیے انتظام تھا۔ وہاں سے پردہ ہٹا کر میں باہر کو لپک آئی۔ بہت سارے لوگ‘ شور و غل اور نعرہ بازی کے اس شور سے مجھے اپنا دل زور زور سے دھڑکتا محسوس ہو رہا تھا۔ مجھے خیال آ رہا تھا کہ شاید زمین کانپ رہی ہے اور اس کی لرزش میرے پائوں کے تلووں سے ہوتی ہوئی میرے دل کو بھی لرزا رہی ہے۔ میں اس وقت نہیں جان سکی کہ یہ لڑائی کا شور و غل ہے‘ یا لوگ اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ بہرحال لوگوں کے سامنے اونچی جگہ پر کچھ لوگ بیٹھے نظر آئے‘ جن میں میرے نانا جان حکیم محمد عبدؒاللہ (جہانیاں) بھی تھے۔ ان کو دیکھ کر مجھے کچھ حوصلہ ہوا۔ اُسی وقت کسی نے مجھ سے پوچھا :’’مولانا مودودی سے ملنا ہے؟‘‘ میں نے حیرت سے سر اٹھا کر ان کو دیکھا۔ ان صاحب نے مجھے اٹھا کر سٹیج پر کھڑا کر دیا۔ نانا جان نے میرا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کے آگے کر دیا۔
کالی شیروانی‘ کالی ڈاڑھی اور عینک‘ بس یہ سراپا مجھے یاد ہے۔ انھوں نے میرا ہاتھ تھام لیا‘ سر پر ہاتھ رکھا اور کچھ کہا بھی جو مجھے یاد نہیں۔ پھر مجھے سٹیج سے کس نے اتارا‘ نہیں معلوم‘ کالی شیروانی کے تصور کے ساتھ ہی تصویروں میں دیکھی جانے والی خانہ کعبہ کی تصویر یاد آئی اور اماں جی کی یاد کروائی ہوئی دُعا بھی۔
تیسرا تصور بھی جم غفیر کا ہے۔ خانہ کعبہ کے غلاف کی زیارت کے لیے خلقت جمع ہے۔ یہ وہ غلاف کعبہ تھا جو پاکستان میں تیار ہوا تھا اور سعودی عرب روانہ کرنے سے پہلے مختلف جگہوں پر اس کی زیارت کروائی جا رہی تھی۔ کسی عمارت کی چھت پر کھڑے ہو کر کچھ لوگ عوام کو غلافِ کعبہ کی زیارت کروا رہے تھے۔ ان میں مولانا مودودیؒ بھی شامل تھے۔ کلمہ طیبہ کا ورد لوگوں کو اپنے حصار میں لیے ہوئے تھا۔ پاکیزہ سوچیں‘ خانہ کعبہ کا کالا غلاف‘ کلمے کا ورد‘ کالی شیروانی‘ عقیدت‘ منظم ہجوم اور حج کا سفر گڈ مڈ سے ہونے لگے۔ میں سوچتی خانہ کعبہ کے کالے غلاف اور کعبہ والے کا‘ کالی شیروانی والے سے کوئی خاص تعلق ہے۔ یہ سب کچھ ایک ساتھ ہی ذہن میں خوشبو بن کر پھیل جاتا۔
مجھے یاد نہیں مولانا مودودیؒ کی سب سے پہلے کون سی کتاب پڑھی؟ کب پڑھی؟ اور اس وقت میں نے کیا محسوس کیا؟
پھر دیکھتی ہوں کہ گھرکی ہر الماری مولانا کی کتابوں سے مزین تھی۔ میرے گھر کے سارے افراد جماعت اسلامی اور مولانا مودودیؒ کے شیدائی تھے۔ میرے والد محترم عبدالغنی احسن صاحب کو مطالعے کا شوق تھا اور ہر اچھی کتاب اور رسالہ گھر میں مستقل آتا تھا۔ چراغِ راہ‘ ایشیا‘ ترجمان القرآن‘ نور‘ عفت‘ بتول‘ الحسنات کا پہلا شمارہ غالباً ہمارے گھر آیا تو پھر یہ ساتھ آج تک قائم ہے۔ مجھے مطالعے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ نئے تو نئے پرانے سے پرانے رسالے بھی نکال نکال کر پڑھ لیتی۔ بہت موٹی بھاری ضخیم سے ضخیم کتاب پر میرا دل نہال ہو جاتا۔ تفہیم القرآن کی جلد میرے لیے انتہائی کشش کا باعث ہوتی۔ چچا جان عبدالوکیل علوی صاحب کی کتابیں میری دست بُرد سے محفوظ نہ رہتی تھیں۔ کتابوں میں کیا لکھا ہے؟ عربی کی بھاری بھاری کتابیں اور ڈکشنریاں لے کر بیٹھنا‘ کھولنا‘ بند کرنا میرا مشغلہ ہوتا تھا۔ چچا جان اپنی کتابوں کی ترتیب اور ان میں رکھے نوٹس کو اپنی جگہ پر نہ پا کر بہت محظوظ ہوتے۔ کتابوں سے میری محبت کو انھوں نے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا‘ لیکن کبھی کبھار ڈانٹ بھی پڑ جاتی تھی۔ تفہیم القرآن میں میرا انہماک دیکھ کر انھوں نے مجھ سے پوچھا: کیا کر رہی ہو؟‘‘ میں نے بتایا: ’’قرآن پاک کا ترجمہ پڑھ رہی ہوں‘‘۔ اس وقت حاشیہ نمبر دیکھنے اور اس کو پڑھنے کا طریقہ سمجھ میں نہ آ رہا تھا۔ چچا جان نے مجھے باقاعدہ قرآن پاک کا ترجمہ پڑھانا شروع کیا۔ اس وقت میں کلاس پنجم کی طالبہ تھی۔ مولانا کی صحت کے بارے میں کچھ نہ کچھ خبریں آتی رہتی تھیں کہ گردے کا آپریشن ہے۔ تکلیف ہے۔ ایسی خبر سنتے ہی ہمارے گھر میں اس طرح تشویش کی لہر دوڑ جاتی جیسے گھر کے اندر کوئی عزیز ہستی صاحب ِفراش ہو۔ دُعائوں کاسلسلہ اور بڑھ جاتا۔
اسکول کے زمانے کی بات ہے۔ سالانہ امتحان تھے۔ میری نشست کے پاس ہی ٹیچر کی نشست تھی۔ دوسری ٹیچر نے اخبار لا کر مس ناصرہ کو دکھایا: ’’دیکھو کچھ غنڈوں نے قرآن پاک جلا دیا ہے‘‘ اور مس ناصرہ نے انتہائی غصے سے کہا: ’’یہ مودودیوں کا ہی کام ہو گا‘‘۔ پرچہ حل کرتے کرتے میرا ذہن بری طرح الجھ گیا: مودودیوں سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ مولانا مودودیؒ کو کچھ کہہ رہی ہیں؟ لیکن قرآن پاک جلانے کا کام ان کا کیسے ہو سکتا ہے‘ یا ان کے کہنے سے کون کر سکتا ہے؟ — مس ناصرہ تو خود اتنی اچھی ہیں۔ ان کو تو معلوم ہی ہو گا کہ مولانا مودودیؒ اتنے اچھے ہیں‘ وہ یہ کام نہیں کر سکتے۔ یہ کوئی اور بات ہو گی — اور میں الجھی الجھی سی پرچہ حل کر کے دے آئی۔
گھر آ کر اماں جی سے تذکرہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ کچھ لوگوں نے لاہور میں جماعت اسلامی کے دفتر پر حملہ کیا ہے اور سارا ریکارڈ جلا دیا ہے۔ ان میں تفہیم القرآنکے نسخے بھی تھے۔ اخبار میں ان جلے ہوئے قرآن کے نسخوں کی تصویر سے بھی واضح تھا کہ یہ تفہیم القرآن کی جلدیں تھیں۔ ذہن میں طرح طرح کے سوال اٹھنے لگے کہ مولانا خود اتنے اچھے ہیں‘ اگر اچھے نہ ہوتے تو قرآن کی تفسیر کیسے لکھتے؟ پھر میرے ذہن میں اللہ تعالیٰ‘ مولانا اور حج کا تصور اکٹھے آتا تھا۔ کوئی منفی بات ذہن میں نہیں آتی تھی۔ میں یہ بات ماننے کو تیار نہ تھی کہ مولانا کو بھی لوگ بُرا سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اب تک اپنے اردگرد‘ خاندان بھر میں ان سے عقیدت کا اظہار ہی سنا اور دیکھا تھا۔ پھر اماں جی نے سمجھایا کہ اچھے لوگ‘ اچھے لوگوں کو پسند کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اچھے لوگوں سے حسد کرتے ہیں‘ اس لیے ان کو پسند نہیں کرتے۔ نبیوں کو بھی تو لوگ ناپسند کرتے تھے۔ بھلا نبی سے بڑھ کر بھی کوئی اچھا ہو سکتا ہے؟
زندگی میں عمر‘ تجربے اور مشاہدے کے ساتھ ساتھ یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آتی گئی کہ اچھے لوگوں کو تسلیم کرنے والے اور اچھائی کا دم بھرنے والے اعلیٰ ظرف لوگ کم ہی ہوتے ہیں۔ عزت و مرتبہ‘ علم و ہنر میں جھوٹے پُرفریب نعروں سے عزت و مقام حاصل کرنے والا‘ سچائی کو کب برداشت کر سکتا ہے۔ اندر کی جلن عبداللہ بن ابی کی ہو یا مکہ کے سرداروں کی‘ یا فی زمانہ کسی بھی عالم و قائد کی‘ یا صاحب ِاقتدار کی‘ اپنے دل کے حسد و بغض کو ظاہر کر کے ہی چھوڑتی ہے۔ یہ بھی ہر زمانے کے کم فہم و کم ظرف لوگوں کا وطیرہ رہا ہے کہ اچھائی کی راہ میں روڑے اٹکائے جائیں۔ جب جواباً اخلاق و کردار کی پختگی کا مظاہرہ ہو تو تنگ دلی میں مزید اضافہ ہوتا چلا جائے‘ اور محاذ کھل جائے تاکہ صاحب ِکردار لوگوں کو نیچا دکھانے کے لیے زبان اور قلم کا ہر وار استعمال کیا جائے۔ اپنے وار کے کارگر ثابت نہ ہونے پر گھٹیا الزامات لگائے جائیں۔ یہ کیا طرفہ تماشا ہے اس دنیا کے انسانوں کا کہ خود جس اعلیٰ مقام پر جانے کا حوصلہ اور ظرف نہ ہو تو دوسروں کو اس مقام سے گرانے کے لیے توانائیاں صرف کی جاتی ہیں۔ نجی زندگی میں‘ شخصی زندگی میں کیڑے نکالے جاتے ہیں اور اگر کیڑے نظر نہ آئیں تو خود ڈالے جاتے ہیں اور پھر ان کو چُن چُن کر نکالا جاتا ہے‘ دنیا کو دکھا دکھا کر۔
مولانا مودودیؒ کی زندگی میں یہ سب مرحلے‘ ہر پہلو سے آئے۔ مگر آفرین ہے اس عظیم انسان پر کہ نہ خود ڈگمگایا‘ نہ جواباً کسی کو پتھر مارا‘ نہ تیر پھینکا۔ اور اللہ جسے چاہے عزت عطا فرمائے‘ بے شک عزت اسی کے لیے ہے‘ اس کی طرف سے ہے۔ جب لوگ اُس کے بندوں کو کم تر و حقیر بنا کر پیش کرنے کی سعی کرتے ہیں تو اللہ ان کو اپنے ہاں سے عزت و مرتبہ عطا فرماتا ہے۔ آج دنیا مولانا کے مقام و مرتبے کو اس سے زیادہ جانتی ہے جتنا ان کی زندگی میں پہچان رہی تھی۔ نیکی اپنا دائرہ وسیع سے وسیع تر کرتی چلی جاتی ہے‘ زمان و مکاں سے بے نیاز ہو کر۔ خلوصِ نیت شرط ہے۔
۱۹۷۰ء کے عام انتخابات پاکستان کے اہم ترین الیکشن تھے۔ میری زندگی میں سیاسی گہما گہمی کو دیکھنے‘ پرکھنے اور کسی اجتماعی سرگرمی میں عملی طور پر ہاتھ پیر ہلانے کا پہلا تجربہ تھا۔ اُس وقت میں مڈل اسکول میں زیر تعلیم تھی۔ امی جان اور بہنوں کے ساتھ گھر گھر‘ گلی محلے میں جا کر انتخابی مہم کا کام کرنا بہت دل چسپ اور اہم لگتا تھا۔ پاکستان کے ساتھ محبت اور اس کو اسلام کا قلعہ بنانے کے لیے تگ و دو کا احساس اجاگر ہو رہا تھا۔ جذبہ‘ شوق اور لگن کے جذبات و احساسات انگڑایاں لے رہے تھے۔ عجیب سرخوشی اور سرمستی کا عالم تھا۔ ہمارے خاندان اور ملنے جلنے والوں کا ہر بچہ جماعت اسلامی کے پرچم ‘ بیج‘ اسٹکرز جمع کرنے میں مگن تھا۔ یہی مشغلہ بن گیا۔ لڑکے چھتوں پر چڑھ چڑھ کر جماعت اسلامی کا پرچم بلند سے بلند جگہ پر لگانے میں مصروف تھے۔ روزانہ گھروں کی چھتوں پر لگے ہوئے پرچم گنے جاتے کہ کس جماعت کے پرچم زیادہ ہیں‘ اور کہاں جماعت اسلامی کا پرچم کتنا بلند لگا ہوا ہے؟ وہ جوش اور ولولہ‘ ایسا والہانہ تھا کہ گویا حق و باطل کے معرکے کا اسی الیکشن کے بعد فیصلہ ہو جائے گا۔ مہم کے دوران مولانا مودودیؒ کے بیانات مشعلِ راہ ہوتے۔ ہفت روزہ آئین میں عصری مجالس کی روداد حالات حاضرہ کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیتی تھی۔
الیکشن کا دن ہم سب بچوں کے لیے انتہائی پُرتجسس اور ناقابل بیان بے چینی سے بھرپور دن تھا۔ ہمارے خاندان کا ہر فرد‘ خواتین و مرد اور بچے کسی نہ کسی طور پر الیکشن کے کارکن تھے۔ سب بہت پُرامید‘ اور خوش تھے۔ مگر جب رات کو نتائج آنے لگے تو وہ گلے‘ شکوے ایک احتجاج بن کر میرے وجود میں سرایت کر گئے کہ ’’معتبر‘ سچے‘ اچھے لوگ کیوں پسند نہ کیے گئے‘‘ اور میں یہ سوچ سوچ کر روتی تھی کہ قوم کے اس فیصلے سے میرے مولانا کو کتنا دکھ ہوا ہو گا‘ ان کا دل کتنا بے چین ہو گا‘ اور وہ تو مجھ سے بھی زیادہ رو رہے ہوں گے۔ اب مولانا کے رونے کا تصور کرتے ہی مجھے بے تحاشا رونا آتا چلا جاتا‘ اور میں اپنی دانست میں مولانا کو تسلیاں دینے لگتی۔ خیالوں میں مولانا سے باتیں کرتی۔ سب لوگوں کی شکایتیں کرتی۔ سوال پوچھتی کہ لوگ آپ سے کیوں نفرت کرتے ہیں؟ آپ کی کتابوں کو کیوں نہیں پڑھتے؟ آپ کا نام دیکھ کر لوگ کیوں نازیبا الفاظ کہتے ہیں؟ اچھے لوگ جیلوں میں کیوں جاتے ہیں؟
اور پھر مولانا مودودی ؒ ہی کے لٹریچر سے مجھے سارے سوالوں کا جواب ملتا چلا جاتا ہے۔
مولانا مودودیؒ کے گھر پہلی مرتبہ جانے کا واقعہ میری زندگی کا خوشگوار ترین دن تھا۔ یہ جمعہ کا دن تھا۔ چچا جان اور چچی جان کے ہمراہ جانا ہوا تھا۔ چچی جان ( پروفیسرثریا بتول علوی صاحبہ) کو کسی مسئلے پر مولانا سے رائے لینا تھی۔ مولانا مرحوم سفید براق کرتے پاجامے میں ملبوس تھے۔ میں نے مولانا سے آٹوگراف لیا تو انھوں نے یہ لکھ کر دیا: ’’اللہ کا خوف اور اس کی محبت ہر بھلائی کی جڑ ہے‘‘۔ براہ راست مولانا کی زیارت شعور کے ساتھ‘ میرے لیے ہفت اقلیم سے کم نہ تھی۔ لاشعور میں بسی ہوئی اس ماورائی سی شخصیت سے میری ملاقات‘ کہاں میں کہا ںیہ مقام‘ اللہ اللہ —!
چچا جان محترم عبدالوکیل علوی‘ جناب نعیم صدیقی مرحوم کے ساتھ مل کر تصنیف و تالیف کا کام کرتے تھے۔ مولانا مودودیؒ کے گھر سے قریب ہی ان کا دفتر تھا۔ تعلیم کے دو سال (میٹرک) میں نے اپنے مہربان چچا جان کے گھر گزارے تھے۔ ان دنوں مجھے زندگی کے مشاہدات سے بہت کچھ سیکھنے کا اور تاریخ کا رُخ موڑ دینے والی شخصیت کے بارے میں بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔ ہماری رہایش اچھرہ میں تھی۔ مولانا مرحومؒ کی رہایش گاہ سے قریب ہی۔ مولانا کا دفتر لکھنے پڑھنے کا کمرہ‘ گھر کے دیگر مقامات جہاں ان کو چلتے پھرتے دیکھا‘ لان میں بیٹھتے‘ کھانا کھاتے‘ عصر کے وقت چائے پیتے‘ غرض وہ سارے مناظر مجھے بہت اچھی طرح یاد ہیں۔ براہ راست گفتگو تو نہ ہونے کے برابر‘ بس سلام جواباً سلام۔ درخواست دُعا اور دُعا جو یہی ہوتی: ’’اللہ آپ کو دین و دنیا کی ساری بھلائیاں عطا فرمائے‘‘ اور یہ دُعا میرے لیے سرمایۂ افتخار رہی۔
لاہور سے جہانیاں واپس آئی تو اسلامی جمعیت طالبات‘ جہانیاں شہر کی نظامت سونپی گئی۔ اس سلسلے میں مولانا کی شفقت‘ رہنمائی میرے لیے فخر و انبساط کا باعث رہی۔ میرا دل خوشی سے بھر جاتا‘ جب میں سوچتی کہ مولانا جیسی عظیم شخصیت کی زندگی میں کوئی ایک لمحہ ایسا بھی تھا جب انھوں نے میرے لیے سوچا‘ دُعا دی اور اپنے قیمتی وقت سے مجھے بھی نوازا۔ تحریکی ذمہ داریوں کے علاوہ مولانا کی مہربانیوں‘ دُعائوں‘ شفقتوں نے مجھے ذاتی و نجی زندگی میں بے شمار الجھنوں سے نجات دی‘ اور ہمیشہ ان کی دُعا اور مشورے نے دلی تسکین عطا کی۔ مولانا کا لٹریچر میرے لیے ہمیشہ رہنمائی کا باعث بنتا ہے۔ تفہیم القرآن ہو‘ ترجمان القرآن ہو یا کوئی کتاب‘ میرے قلب و ذہن کو سیدھی راہ پر رکھنے میں ممد و معاون ثابت ہوئی ہے۔ مولانا کا ہر لفظ‘ ہر جملہ اور ہر کتاب میرے لیے قرآن و حدیث کو سمجھنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ یقینا ہم پر یہ شکر و احسان واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دور پُر فتن میں اپنے دین کی سمجھ بوجھ عطا کرنے کو اس بندۂ مومن کے علم سے فیض یاب ہونے کا موقع نصیب فرمایا۔
مولانا مودودیؒ کی صحت کے بارے میں تو مدتوں سے جانتے تھے کہ کیا حال ہے؟ اور ان کی صحت کی دُعا‘ اپنی دعائوں کا لازمی حصہ بچپن ہی سے مقرر ہو چکا تھا۔ خرابی صحت کے باوجود مولانا کی خدمت دین قابل رشک تھی۔ اور یہ بات تصور میں نہ آتی تھی کہ مولانا اس سے زیادہ بھی بیمار ہو جائیں گے۔ دل مطمئن سا رہتا کہ اللہ تعالیٰ نے مولانا سے ابھی بہت سا کام لینا ہے۔ فروری ۱۹۷۷ء میں مولانا کی آخری مرتبہ زیارت کی۔ میرے شوہر مجھے مولانا کے گھر لے گئے تھے۔ چند دن پہلے ہماری شادی ہوئی تھی۔ بیگم مودودیؒ نے ہماری شادی کے بارے میں انھیں بتایا۔ مولانا نے مبارک باد دی اور خصوصی طور پر چائے پلائی۔ عصری مجلس سے اٹھ کر مولانا گھر کے بیرونی لان میں جا کر کرسی پر تشریف فرما تھے۔ غروب ہوتے سورج کی سنہری شعاعیں ان کے پروقار چہرے کو اور زیادہ منور کر رہی تھیں۔ امریکہ سے آئے ہوئے ان کے بیٹے کے بچے لان میں کھیل کود رہے تھے اور مولانا ان کو دیکھ کر محظوظ ہو رہے تھے۔ یہ مولانا کی آخری زیارت تھی!
چند ماہ بعد اللہ تعالیٰ کے خصوصی کرم سے مجھے سعودی عرب جانے کا شرف حاصل ہوا۔ حرم شریف میں داخل ہو کر خانہ کعبہ پر نظر پڑی اور اچانک کچھ مناظر لاشعور میں ابھرنے لگے: کالی شیروانی‘ اماں جی‘ غلاف کعبہ۔ اب بھی لوگوں کا ہجوم تھا‘ مختلف کلمات کی آوازیں‘ عقیدت و محبت کا ماحول اور وہ دُعا جو میری مناجات کا حصہ تھی۔ مولانا کی صحت کے لیے دعا بے اختیار زبان پر آ گئی اور اماں جی کے لیے دعا‘ اور یہ کہ اے اللہ ہمیں نیک بنا۔ دعائیں ہمیشہ اپنی تازگی برقرار رکھتی ہیں۔ مولانا کی صحت کے بارے میں تشویش ناک خبریں آتی رہتی تھیں‘ اور دل دست دعا بن جاتا۔
جدہ کے جس علاقے (روئیس) میں ہمارا گھر تھا‘ وہیں مولانا مرحوم کی بڑی صاحبزادی حمیرا مودودی رہایش پذیر تھیں۔ اس بات کی مجھے ازحد خوشی تھی۔ ان سے ملاقاتیں مجھے ہمیشہ یاد رہیں گی‘ جنھوں نے حق ہمسایگی بھی خوب نبھایا۔ مولانا کی صحت کے بارے میں معلومات انھی سے ملتی رہتی تھیں۔ حمیرا باجی سے جدہ میں ہی پہلی ملاقات ہوئی تھی‘ بہت محبت سے ملی تھیں۔ مولانا سے شباہت کا حصہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے زیادہ ان کو ہی ملا ہے۔ بہت باغ و بہار شخصیت ہیں۔ ان کے گھر ترجمۂ قرآن کی ہفتہ وار کلاس ہوتی تھی۔ جدہ کے علاقے (بلد) میں ذاکر صدیقی صاحب کے گھر ان کا درس ہوا کرتا تھا۔ وہاں جب جاتے تو حمیرا باجی کے شوہر انظر بھائی ہم دونوں کو لے جاتے اور واپسی پر میرے شوہر ہم دونوں کو گھر لے آتے۔ باہم ملاقاتوں اور دروس میں شرکت سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ اپنے محبوب و محترم قائد کی پیاری بیٹی کی زبانی ان سے متعلق ڈھیر ساری باتیں کر کے دل شاد ہوتا تھا۔ حمیرا باجی مجھے اکثر گھرداری‘ تعلق داری کے متعلق اپنے تجربات سے فیض یاب کرتی رہتی تھیں۔ ہم لوگ روئیس میں حمیرا باجی کی ہمسایگی میں تقریباً دو سال رہے۔ ان کی طرف سے مشفقانہ برتائو‘ میرے لیے پردیس میں کافی حوصلہ بخش تھا۔
مولانا مودودیؒ کی عالمانہ عظمت سے تو ایک دنیا واقف تھی۔ نجی زندگی کسی بھی قائد کی عظمت و توقیر میں چار چاند لگاتی ہے۔ حمیرا باجی سے جب بھی ملاقات ہوتی تو وہ اپنے عظیم باپ کی گھریلو زندگی کے بے مثال پہلوئوں سے آگاہ کرتی تھیں۔ بیٹیوں سے خصوصی محبت کے تذکرے ہوتے‘ بیٹوں پر بیٹیوں کو زیادہ اہمیت دینے کا ذکر ہوتا کہ ان کی دلجوئی کا وہ کتنا زیادہ خیال کرتے تھے۔
حمیرا باجی اکثر ذکر کرتیں: ’’ابا جان عام انسانوں سے کسی قدر مختلف ہیں۔ ہر چیز‘ ہر معاملے‘ ہرواقعے پر ان کا ردعمل دوسروں سے مختلف‘ مگر گہرائی کے ساتھ حقیقت پسندانہ ہوتا ہے۔ اعتراضات اور تنقید کے معاملے میں ان کی قوتِ برداشت ناقابل یقین حد تک زیادہ ہے‘ نہ دل برداشتہ ہوتے اور نہ حوصلہ ہارتے ہیں۔ ان کا عزم و حوصلہ پہاڑ کی طرح ہے۔ جب ایک حقیقت کو جان لیا تو استقامت کا بلند و بالا پہاڑ بن کر جم گئے‘‘۔
طائف میں جماعت اسلامی کے کارکن کوئی نہ کوئی پروگرام طے کرتے رہتے تھے۔ اکثر ہی حمیرا باجی کے ساتھ وہاں جانا ہوتا تھا۔ بہنوں سے باہم ملاقاتوں میں مولانا کا ذکر آتا بلکہ حمیرا باجی سے ان کے عظیم باپ کی بابت ہی باتیں ہوتی تھیں۔ ایک مرتبہ کسی نے پوچھا: ’’آپ کو مولانا جیسے جلیل القدر باپ کی بیٹی ہونا کیسا لگتا ہے؟‘‘ تو انھوں نے اپنے کالج کی طالبات کے بارے میں بتایا: ’’جب جدہ کالج میں پہلی مرتبہ اپنی کلاس لینے گئی تو لڑکیوں نے مجھ سے میرا تعارف پوچھا۔ جب میں نے اپنا نام حمیرا مودودی بتایا تو سب نے اتنی خوشی کا اظہار کیا کہ میں دم بخود رہ گئی‘‘۔
بچوں کی تربیت کے حوالے سے لوگوں میں جو بدگمانیاں تھیں ان کے بارے میں اکثر خواتین سوال کرتی تھیں تو حمیرا بتاتیں: ’’ابا جان نے روک ٹوک اور ڈانٹ ڈپٹ سے ہماری تربیت نہیں کی۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا‘ کام کرنا‘ پڑھنا لکھنا‘ باہم رویے‘ ہمت وحوصلہ برداشت‘ گھر والوں کے ساتھ تعاون وغیرہ میں ہمارے لیے تربیت کا سامان ہوتا تھا‘ اور کوئی باپ اپنے بچوں کو اس سے بہتر طریقے سے تربیت نہیں دے سکتا کہ اُس کا کردار اجلا ہو اور اس کے قول و عمل میں کوئی تضاد نہ ہو‘‘۔
مئی ۱۹۷۹ء کے آخری ہفتے میں مولانا مودودیؒ کو علاج کے سلسلے میں ان کے بیٹے ڈاکٹر احمد فاروق امریکہ لے گئے۔ حمیرا باجی سے مولانا کی صحت کے بارے میں معلومات ملتی رہتی تھیں۔ پہلے ماہ وہاں علاج سے صحت قدرے بہتر ہو گئی تو یہ جان کر خوشی ہوئی کہ مولانا نے سیرت سرور عالم پر دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔ ہم سب ہر اجتماع میں اور ہر طواف و عمرہ میں مولانا کی صحت یابی کے لیے خصوصی دعائیں کرتے۔
۲۰اگست ۱۹۷۹ء کو معلوم ہوا کہ مولانا کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے اور ڈاکٹروں نے پیٹ کے آپریشن کا فیصلہ کیا ہے۔ ۴ ستمبر ۱۹۷۹ء کو مولانا کا آپریشن تھا۔ اس دن مولانا کی صحت کے لیے خصوصی طور پر حرم شریف جا کر دعا کی اور ان کے لیے بہت سے لوگوں نے خصوصی طواف و عمرہ کی نیت کی۔ آپریشن کامیاب ہونے کی خبر نے سب کو مطمئن کر دیا۔
۶ ستمبر ۱۹۷۹ء کو مولانا دل کے شدید دورے سے دوچار ہوئے۔ امت مسلمہ پر ایک کڑا وقت افغانستان پر روس کے حملے کی صورت میں آن پڑا تھا اور انقلاب کے بعد ایران کے حالات بھی مخدوش تھے۔ ادھر مولانا کی صحت کا اتار چڑھائو اہل دل کے لیے سوہانِ روح بنا ہوا تھا۔ ایک ہفتہ بعد مولانا پر دل کا ایک اور سخت دورہ پڑا مگر پھر حالت سنبھل گئی۔
۲۱ ستمبر ۱۹۷۹ء کو شام ساڑھے پانچ بجے میں حمیرا باجی کے ہاں گئی۔ کچھ دن پہلے وہ پاکستان گئی تھیں اور معلوم ہوا کہ واپس آ گئی ہیں۔ مولانا کے بڑے بھائی سید ابوالخیر مودودی ؒکی رحلت پر تعزیت بھی کرنا تھی۔ جب ان کے ہاں پہنچی تو عجیب سی اداسی کا احساس ہوا۔ رابعہ (حمیرا کی بیٹی) بھی خاموش خاموش دروازہ کھولنے آئی۔ حمیرا باجی کی حالت دیکھ کر ایک دم دل اداس ہو گیا۔ معلوم ہوا کہ ابھی ابھی امریکہ بات ہوئی ہے کہ مولانا کی طبیعت بے حد خراب ہے۔ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے۔ اماں کو بھی سکون آور انجکشن لگا کر سُلایا ہوا ہے۔ کچھ دیر حمیرا باجی کے پاس بیٹھی‘ صحت و عافیت کی دعائیں کرتے رہے۔ مغرب کی نماز ادا کر کے بوجھل دل لیے میں گھر آئی۔ حمیرا باجی نے مولانا کی صحت یابی کے لیے صدقہ قربانی کے لیے رقم دی کہ جب مکہ مکرمہ جانا ہو تو قربانی کروادیں۔ مولانا کا چہرہ بار بار نظروں کے سامنے آتا۔ مولانا کے وہ خطوط جو انھوں نے میرے استفسارات کے جواب میں لکھے تھے‘ نکالے‘ ان کو پڑھتی رہی۔ رات کو کافی دیر تک ہم میاں بیوی مولانا کا تذکرہ کرتے رہے۔ سوچا کہ مولانا کی صحت یابی کے لیے خصوصی عمرہ کرنے جائیں گے اور قربانی بھی کر آئیں گے۔ مگر ۲۲ ستمبر ۱۹۷۹ء کی دوپہر کو خواجہ مجاہد صاحب دفتر سے آئے تو ان کی رنگت اڑی ہوئی تھی۔ میں نے بے چینی سے صرف ایک لفظ پوچھا ’’خیریت؟‘‘ تو الفاظ ان کے منہ سے اٹک اٹک کر نکلے ’’مولانا انتقال فرما گئے ہیں‘‘۔انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ ہمیں ان کی بیماری کی تفصیلات کا علم تھا اور دل کو ایسی خبر کا دھڑکا بھی لگا ہوا تھا۔ مگر پھر بھی لگ رہا تھا: ’’یہ کوئی غیر متوقع بات ہو گئی ہے‘‘۔ اپنی دعائوں اور محبتوں کا کتنا مان تھا اور مجھے تو بچپن سے مولانا کی صحت کی دُعا کا جواب ملتا رہا تھا کہ شاید ہم جیسوں کی دُعائیں رائیگاں نہیں جا رہی ہیں۔
مولانا کا ناتواں وجود ہمارے لیے ایک قوی سہارا تھا۔ وہ بیمار تھے مگر بیمار امت کے لیے نسخۂ شفا تھے۔ ایک ایک کر کے جسم کا ہر حصہ تکلیف میں مبتلا ہوتا رہا‘ لیکن عالم اسلام کے ہر گوشے کے لیے وہ باعث طمانیت تھے۔ وہ ماہِ تمام موت کی اٹل چادر کے پیچھے چھپ گیا تھا۔ اس ماہتاب کے پس پردہ جانے سے اندھیرا چھا گیا تھا۔ مولانا کی وفات سے گویا سارا عالم اسلام سوگوار ہو گیا تھا۔ ہم فوراً حمیرا باجی کے ہاں پہنچے۔ ان کی آنکھیں متورم ہو رہی تھیں۔ میں پہنچی تو وہ قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھیں۔ میں نے دکھی دل سے سلام کیا اور پاس بیٹھ گئی اور صرف اتنا کہا: ’’حمیرا باجی! میں چاہتی ہوں کہ کوئی مجھے تسلی کے دو لفظ کہہ دے‘ میں آپ سے کیا کہوں گی؟‘‘ حمیرا باجی نے کہا: ’’بشریٰ! وہ جیسے میرے باپ تھے ویسے ہی تمھارے بھی باپ تھے‘ ہم سب کا غم مشترک ہے‘‘۔ اور انھوں نے مجھے سینے سے لگا لیا‘ پھر ہم دونوں بہنیں پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔ ان کا خونی رشتہ تھا اور میرا روحانی رشتہ تھا مگر غم تو مشترک تھا۔ خونی رشتے بھی اٹوٹ ہیں اور روحانی رشتے بھی ابدی۔ کچھ دیر ایک دوسرے کو تسلی و تشفی دے کر ہم نے قرآن خوانی شروع کر دی۔ کچھ دیر بعد ہم گھر آ گئے۔
حمیرا باجی نے پاکستان روانہ ہونے کی تیاری کرنا تھی‘ اور ہم نے ایک دن پہلے مکہ مکرمہ جانے کا جو پروگرام بنایا تھا‘ اس کے مطابق مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے۔ حرم شریف جا کر اللہ سے اپنا دکھ کہا‘ کچھ سکون ملا۔ بیت اللہ‘ خانہ کعبہ کا غلاف‘ مولانا کی کالی شیروانی‘ صحت کی دعا— روحانی تعلق کی ابتدا ایک لاشعور میں بسے خیال سے وابستہ تھی‘ اور وہ روحانی تعلق آج نئی طرز پر پھر زندہ ہو رہاتھا۔ طواف کرتے ہوئے سارے خیالات‘ مناظر‘ مرحلے اور باتیں ترتیب سے یاد آتی گئیں اوراَشْکُوْا بَثِّیْ وَحُزْنِیْٓ اِلَی اللّٰہِ ]یوسف ۱۲:۸۶۔ میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا[کہہ کر سکینت بھی ملتی گئی۔ معلوم ہو رہا تھا کہ وہ روحانی تعلق اب آفاقی ہوتا جا رہا ہے‘ جہاں زمان و مکاں کی قید نہیں رہتی۔ علامہ اقبال کی ایک دعا کی قبولیت کا احسا س اب ہو رہا تھا ؎
تین سو سال سے ہیں ہند کے مے خانے بند
اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی
تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ
ترے پیمانے میں ہے ماہِ تمام اے ساقی
اور وہ ماہِ تمام سید مودودیؒ کی صورت میں طلوع ہوا اور اس صدی کا سب سے بڑا مفکر کہلایا۔
سید مودودیؒ کو شاہ فیصل ایوارڈ دینے کی تقریب میں نے جدہ ٹی وی پر براہ راست دیکھی تھی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دنیا میں بھی عزت و مقام عطا فرماتا ہے: ’’ہم ضرور صبر سے کام لینے والوں کو ان کے اجر‘ ان کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے۔ جو شخص بھی نیک عمل کرے گا‘ خواہ وہ مرد ہو یا عورت‘ بشرطیکہ وہ ہو مومن‘ اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسرکرائیں گے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں کو ان کے اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے‘‘۔ (النحل ۱۶:۹۷)
مولانا کی وفات اور پھر پاکستان میں جنازے و تدفین کی تفصیلات اخبارات سے معلوم ہوتی رہیں۔ جب حمیرا باجی پاکستان سے واپس آئیں تو مزید تفصیلات سے آگاہی ہوئی۔ سعودی عرب کی ہر مسجد میں آیندہ جمعہ کو غائبانہ نماز جنازہ کا اعلان سرکاری طور پر کیا گیا۔ ہم نے حرم شریف مکہ میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ کی سعادت حاصل کی۔
کچھ عرصے بعد بیگم مودودیؒ کی جدہ میں تشریف آوری ہوئی۔ انھوں نے حمیرا باجی کے گھر قرآن کی ہفتہ وار کلاس رکھی اور ترتیب سے قرآن پاک کا ترجمہ شروع کر وا دیا۔ جدہ کے مختلف علاقوںسے خواتین بہت شوق سے شریک ہوتیں۔ مولانا کی بیگم سے شرف ملاقات بھی حاصل ہوتا‘ اور مولانا کے بارے میں گفتگو بھی ضرور ہوتی۔ بیگم مودودی مرحومہ کے ساتھ میں نے کئی بار طائف کا سفر کیا اور راستے میں ان کے ساتھ مکہ مکرمہ میں طواف کی سعادت بھی حاصل کی۔ ان کے ساتھ گزرا ہوا وقت بھی بہت یادگار ہے۔ طائف میں ڈاکٹر عبدالحق کے گھر قیام ہوتا تھا۔ ان کی بیگم فرحانہ بے حد مخلص خاتون تھیں۔ ان کے گھر پروگرام ہوتا تھا۔ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا۔ خواتین عموماً مولانا کے بارے میں پوچھتیں کہ وہ بطور شوہر کیسے تھے؟
بیگم صاحبہ فرماتیں :’’ مولانا بہت صابر و شاکر اور تحمل و برداشت والے انسان تھے۔ اپنی تکلیف اور بیماری کو انھوں نے کبھی گھر والوں کے لیے باعث آزار نہیں بنایا۔ میرے رشتہ داروں کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ جب کچھ فرصت ملتی تو گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹا دیتے۔ رات کو کوئی بچہ بے چین ہوتا یا روتا تو خود اٹھ کر کندھے سے لگا کر اسے خاموش کر اتے اور ٹہل ٹہل کر اُسے بہلاتے۔ میری نیند اور میرے آرام کا ہمیشہ بہت خیال رکھتے تھے۔ وقت کے بے حد پابند تھے۔ ایک منٹ کی دیر سویر پر بہت اذیت محسوس کرتے تھے۔ گھریلو معاملات میں پوری دل چسپی لیتے تھے۔ شروع شروع میں میرے لیے خاص طور پر خریداری کر کے لاتے تھے‘ مگر جب بیماری اور مصروفیت کی وجہ سے نہ لا سکتے تھے تو افسوس کرتے تھے کہ بیوی! جو میں تمھیں پہنانا چاہتا ہوں‘ جو چیزتمھارے لیے پسند کرتا ہوں‘ خودنہیں لا سکتا۔ ان کا بہت اعلیٰ ذوق تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ بیوی بھی خوب سے خوب تر پہنے‘ اوڑھے اور جتنے وسائل میں آسانی سے ممکن ہو‘ رانی بن کر رہے بلکہ وہ تو یہ چاہتے تھے کہ میں کام کاج نہ کروں‘ ہمیشہ گھر کاکام کرنے کے لیے معاون و ملازم رکھ کر دیے‘‘ — پھر آخر میں کہتیں: ’’بھئی وہ تو بے حد مہربان انسان اور شفیق شوہر تھے‘‘۔ بیگم مودودیؒ کا یہ بھرپور جملہ ان کی ساری زندگی کی عکاسی کرتا تھا۔
کچھ عرصے بعد محترمہ حمیرا مودودی پاکستان منتقل ہو گئیں‘ تو یہ محفلیں بھی ختم ہو گئیں۔ جب ہم ۱۹۹۰ء میں سعودی عرب سے مستقل پاکستان منتقل ہوئے تو لاہور آ گئے۔
فیروز پور روڈ سے گزرتے اور اچھرہ کو پار کرتے ہوئے ہر مرتبہ خیال آتا کہ اپنے محبوب و محترم راہبر سے ملنے جائوں‘ مگر جیتے جاگتے مولانا کے تصور اور اس گھر کو ذہن سے نکالنا نہیں چاہتی تھی۔ ایک دن رہا نہ گیا اور ہم ۵- اے ذیلدار پارک کے سامنے کھڑے تھے۔ اس وقت میرا ذہن بالکل بھول گیا کہ مولانا کی وفات ہو چکی ہے۔ گیٹ سے اندر اسی عالم میں داخل ہوئے۔ تینوں بچے اور شوہر بھی ساتھ تھے۔ سیدھے برآمدے میں جا رکے۔ وقت وہی تھا جو عصری مجلس کا ہوتا تھا۔
میرے شوہر نے داہنے گیٹ کے پاس لان کے کنارے کی طرف اشارہ کیا۔ میں تو عالم استعجاب میں گنگ ہو کر رہ گئی۔ ’’یہ مولانا ہیں‘‘؟ نہیں‘ میں نے تو مولانا کو اسی لان میں کرسی پر بیٹھے دیکھا تھا۔ میں خودآج تک حیران ہوں کہ مولانا کی قبر پر فاتحہ خوانی کے ارادے سے جانے کے باوجود میں اس قبر کو دیکھ کر اتنی پریشان کیوں ہو گئی تھی۔ میری ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ میں اس جگہ کو دیکھوں جو سطح زمین سے اُبھری ہوئی تھی‘ اور ۱۲ برس گزرنے کے باوجود دل تسلیم نہ کرنے پر بضد تھا کہ یہ مولانا کی آرام گاہ ہے۔ مجھے اس دن ایسا لگا کہ مولانا تو تنہا ہیں‘ اکیلے ہیں۔ اف! وحشت کا یہ عالم میرے روئیں روئیں میں سرایت کرنے لگا۔ اس دن یہ حقیقت بھی آشکار ہوئی کہ اکیلی قبر کا تصور دیکھنے والوں پر کیا قیامت ڈھاتا ہے۔ شہر خموشاں کی اپنی رونق ہوتی ہے۔ پھر میں نے مولانا سے خیالوں ہی خیالوں میں ڈھیر ساری باتیں کیں۔ دل کا بوجھ ہلکا تو ہوا‘ مگر خلا کبھی پُر نہ ہو گا۔ گھر میں کوئی موجود نہ تھا۔ ملازم ہی تھا جس نے ہمیں جا نماز لا کر دی۔ ہم نے لان میں عصر کی نماز پڑھی اور وہاں سے گھر آ گئے۔ مولانا سے یہ ملاقات ۵ – اے ذیلدار پارک میں بہت ہی رنجیدہ اور افسردہ کرنے والی تھی۔ مولانا کو اس وقت دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً ربع صدی ہو گئی ہے۔ مگرآنے والی کئی صدیوں تک ’’لائٹ ہائوس‘‘ کا فریضہ انجام دینے والا‘ میری طرح اور لاکھوں لوگوں کے لیے مشعل راہ ہے۔
جب بھی بزرگانِ دین کے حالاتِ زندگی پڑھا کرتی تھی تو سوچتی تھی کہ کاش! میں امام ابوحنیفہؒ‘ امام شافعیؒ‘ امام احمد بن حنبلؒ، امام ابن تیمیہؒ، سید احمد شہیدؒ جیسے کسی انسان کے ز مانے میں پیدا ہوئی ہوتی‘ اور اُن سے دین کا فیض حاصل کرتی۔ مولانا سے دلی عقیدت‘ اور دینی فہم و شعور کے حوالے سے جو تعلق ہے اُس پر بجاطور پر اظہار تشکر کیا جا سکتا ہے۔ مجھ جیسے نہ جانے ساری دنیا میں کتنے مسلمان ہیں جن کو اپنے مسلمان ہونے کا حقیقی شعور اس شخص کے مومنانہ انداز دلبری کی وجہ سے ہی ہوا ہے۔ ایسے عظیم انسان کے احسان کا حق ادا ہونا مشکل ہے۔ مولانا مودودیؒ کی تحریروں کا یہ کمال و اعجاز ہے کہ ہم آج بھی ان کو اپنے پاس پاتے ہیں۔ اس کے علاوہ میں نے جب بھی اپنی زندگی کی کسی بھی الجھن کو اپنے لیے پریشان کن پایا تو مولانا سے روحانی تعلق میرے کام آیا۔ اللہ رب العزت نے اس پیارے بندے کے ذریعے مجھے سیدھی سچی راہ دکھائی۔ مجھے حوصلہ بخشا‘ زندگی کے بے شمار لاینحل مسئلوں اور مغموم و دل مضطر کو سکون و عافیت کا مژدہ سنایا۔
چند دن پہلے ]اپریل ۲۰۰۳ء[ بیگم مودودیؒ بھی اللہ تعالیٰ کو پیاری ہو گئیں۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ ایک مرتبہ طائف کی کسی محفل میں ایک خاتون نے کہا: ’’مولانا کو اللہ نے ۷۰ حوریں دی ہوں گی تو مولانا نے کیا کہا ہو گا‘‘۔ دوسری خاتون نے کہا: ’’مولانا نے اللہ تعالیٰ سے کہا ہو گا کہ میری بیوی کب آئے گی؟ وہی ٹھیک ہے‘‘۔ اس خاتون کی بات سن کر بیگم مودودیؒ بے حد محظوظ ہوئیں۔ بیگم مووددیؒ انتہائی شاکرو صابر خاتون تھیں‘ بہت حوصلے والی‘ اللہ والی‘ ملنسار‘ محبت کرنے والی۔ یہ ان کا عظیم الشان حوصلہ ہی تھا کہ روزانہ اپنے شوہر کی جدائی کا غم تازہ ہوتا ہو گا قبر کو دیکھ کر‘ اور صبر کی منزل سے ہر روز گزر کر آتی ہوں گی۔ شوہر بھی ایسا جس کی مثال ملنا مشکل ہو۔ میرے دل کو عجب ڈھارس ہے کہ اب مولانا تنہا نہیں ہیں۔ بیگم مودودیؒ کی آرام گاہ قریب ہے۔ بے مثال شوہر کی مثالی بیوی۔ زندگی کے ساتھی‘ ہمیشہ کے ساتھی۔ اللہ دونوں کو غریق رحمت فرمائے۔ آمین!

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s