حدیث ۔ ۳

الحمدللہ رب العلمین والصلاة والسلام على سيدنا محمد رحمۃ للعالمین


مجموعة احادیث "زاد راہ "میں ترغیب بحوالہ طبرانی نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان درج ہے کہ”قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائےگا۔ بندہ اگر اس میں پورا اترا تو بقیہ اعمال میں بھی کامیاب ہوگا اور اگر نماز کے حساب میں پورا نہ اترا تو بقیہ سارے اعمال خراب ہو جائیں گے۔”
اس فرمان سے نماز کی اہمیت ثابت ہوتی ہے۔ ہم یہ بھی علم رکھتے ہیں کہ "نماز دین کا ستون ہے” اور یہ بھی جانتے ہیں کہ "مسلم اور کافر کے درمیان فرق(پہچان) کرنے والی عبادت نماز ہے” ہم اس فرمان الهی سے بھی با خبر ہیں کہ "بے شک نماز بے حیائی اور برائی کےکاموں سے روکتی ہے۔”
یہ سب معلومات اگر ہمارے معمولات میں تبدیلی نہیں لاتیں تو ایسے علم کو وبال کہا جاتا ہے۔
اس لازمی پرچے میں ناکامی پوری زندگی کے بقیہ پرچوں (اعمال) کو ضائع کرنا ہے۔نماز دراصل الله تعالى کی دعوت پہ لبیک کہتے ہوئے اس سے ملاقات کرنا ہے۔بچے کو اگر ماں پیار سے بلاتی ہے تو بچے کا ماں کی طرف لپکنا فطری عمل ہے۔الله سبحانہ و تعالیٰ تو ستر ماؤں سے بھی زیادہ اپنے بندوں پہ رحیم اور شفیق ہے۔ وہ اپنے بندوں پہ رحمت کے دروازے کھولے رکھتا ہے۔ وہ بندے کی ہر پریشانی سے واقف ہے پھر بھی وہ اس سے کہنے کا موقع دینے کو پانچ بار اپنے پاس بلاتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پریشانی چھوٹی ہے یا بڑی ہے۔  ضرورت جوتے کے ٹوٹے تسمے کو جوڑنے کی ہے یا ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑنے کی، مقصود و منتها یہ ہے کہ بندہ اپنے رب سے ملاقات کرنے آئے۔ شوق و رغبت سے آئے محبت سے مناجات کرے۔ ہاتھ اٹھا کر دنیا کو پیچھے دھکیل دے۔ سر اور نظریں جھکا کر ہاتھ باندھ کر ایک غلام کی طرح کھڑا ہو محبت کے اظہار کو قیام کافی نہ لگے تو بےتابانہ رکوع میں جھک جائے اس مرحلے سے بھی محبت کے اظہار میں کمی محسوس ہو تو عاجزی کا مجسمہ بن کر محبوب کے قدموں میں سر رکھ دے۔
ہر دوسری رکعت کے قعدہ (نشست ) میں دو نمازوں کے درمیان میں کیے گئے کام کی رپورٹ پیش کرے کہ میری ساری سرگرمیاں اے میرے رب تیرے لیے ہیں خالص تیرے لیے۔۔۔ دن میں پانچ بار ہر ملاقات میں اپنے دن بھر کے کاموں کی رپورٹ دینے کے ساتھ ہی کام میں ہو جانے والی ہر غلطی کی معافی مانگتا ہوا بندہ اس الرحمان الرحیم ذات کی نظر میں کیا شان رکھتا ہے اس کی معرفت اگر ہمیں ہو جاۓ تو الله تعالى کے رسول صل اللہ علیہ و سلم کےاس فرمان کی حقیقت بھی دل شاد رکھے جس کے مطابق گھر کے سامنے نہر میں پانچ بار نہانے والا کیسے میلا رہ سکتا ہے؟
نماز کے ذریعے ہی مسلمان الله کی محبت حاصل کرسکتا ہے کہ روح اور جسم کی نجاستوں کو دور کرنے کا یہی عمل کارگر ہے۔ اورپھر جب محبت کی چاشنی کا مزہ لگ جاتا ہے تو محبوب سے ملاقات کا وہ وقت تلاش کیا جاتا ہے جب ساری دنیا سو رہی ہو۔ بے شک محب اور محبوب کے رازونیاز میں کوئی مخل نہ ہو۔۔۔یہ محبت بھری ملاقاتیں دراصل اس بڑے دن کی ملاقات کی تیاری ہوتی ہے..اور یہی دن میں پانچ بار کی ملاقاتیں دنیا کے سارے فواحش و منکرات سے منہ موڑ دیتی ہیں
کیا ہماری نمازیں محبوب حقیقی سے ملاقات کا لطف دیتی ہیں؟

رب اجعلنی مقیم الصلوة ومن ذریتی ربنا و تقبل دعاء ربنا اغفر لی ولوالدي وللمومنين یوم یقوم الحساب آمین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s