حدیث نمبر 24

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد رحمۃ للعالمین

سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنه سے روایت ہے جس کی سند صحیح ہے اور السلسلة الصحیحہ کی حدیث نمبر 2510 ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” یقیناً آج یہ دور ہے جس میں علماء زیادہ اور خطباء کم ہیں۔۔۔ ایسی صورت حال میں جس شخص کو جوعلم و معرفت ہے اس میں سے دس فی صد بهی چهوڑ دے گا تو گمراہ ہوگا۔ مگر ایک زمانہ اس کے بعد بهی آنا ہے جس میں خطباء  زیادہ اور علماء برائے نام ہوں گے۔ اس دورمیں جو شخص اپنے علم کے مطابق دس فی صد کو بهی تهام لے گا تو نجات پا جائے گا۔”

قرون اولیٰ میں علم ناقص نہیں تها خالص تها اس میں زمانہ کے نام نہاد علماء کی مو شگافیاں نہ تهیں۔

نت نئے فلسفے نہ تهےعلم کی دوکان داریاں نہ تهیں۔ جو تها جتنا تها خالص اور کهرا تها۔ اس میں سے دس فیصد کم ہو جانے پہ بهی گمراہی کا خطرہ منڈلانے لگتا تها۔ آجکل علم کے نام پہ معلومات کا ایک جنگل ہے۔ اس جنگل میں سے کارآمد علم کی جڑی بوٹیاں جہالت کی بیماری کو  دور کرنے کے لیے دستیاب ہو جائیں تو شفایابی کی امید ہو سکتی ہے اور نجات کی راہ مل سکتی ہے۔ گویا معلومات میں سے حقیقی علم دس فیصد دستیاب ہوجائے تو اس کو عمل میں لانے سے نجات کی راہ مل سکتی ہے۔۔۔

آج ہم اپنے ارد گرد ایسے وسائل و ذرائع ابلاغ  پاتے ہیں جس میں ہر شخص کچھ نہ کچھ خطاب کر رہا ہوتا ہے۔ خطیب،مخاطب کو کیا کہنا چاہ رہا ہے شاید اس کو خود بهی علم نہیں۔ ہرکسی کو جو معلومات جہاں سے ملیں اس کو دوسرے تک پہنچانا گویا کہ فرض ہے۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں بهانت بهانت کی بولیاں بولی جا رہی ہیں۔۔۔ ہمارے پاس روزانہ جو علم کے نام پہ پہنچتا ہے اس میں سے کتنا کار آمد ہے؟ شاید دس فیصد۔۔۔ پس اسی دس فیصد کو ہی خالص جان کراسی پہ اپنی آخروی نجات  کی بنیاد رکهنی ہے۔۔۔ خالص چیز کم بهی ہو تو بهر پور فائدہ دیتی ہے۔

الله تعالى نے اجر دینے کا وعدہ خالص عمل پہ ہی کیا ہے۔ خالص علم ہوگا توعمل بهی خالص ہوگا۔ خالص عمل سے تعلق خاص ہو جائے گا اور اپنے رب سے خاص تعلق کا نتیجہ خالص عمل کی شکل  میں ظہور ہوگا۔۔۔ اور وہ خالص عمل زبان سے  صرف سبحان اللہ کہنا بهی زمین وآسمان کے خلاء کو بهردے گا۔ کہاں ہزار دانے والی تسبیح پہ کہا جانے والا ملاوٹ والا وظیفہ اور کہاں چلتے چلتے کسی پرندے کی اڑان کو دیکھ کر بے اختیار والہانہ سبحان اللہ کہنا۔۔۔ ہزار دانے کی تسبیح پہ بهی شاید  ایک بار ہی یہ کیفیت نصیب ہوئی ہو۔۔۔ مسئلہ گنتی کا نہیں کیفیت دل کا ہے۔ خلوص اور چاہت کا ہے۔ ڈهیر مال اگر ناکارہ ہے تو اس میں سے کوئی کار آمد چیز تلاش کرنے کو الگ محنت درکار ہے۔ آخرہم ناکارہ مال ہی کیوں جمع کر رہے ہیں؟ اچها مال ہو اگر چہ کم ہو وہ بہتر زاد راہ ہو سکتا ہے۔ مسافر کی دانشمندی یہی ہوتی ہے کہ وہ سفر میں بہت کارآمد آشیاء ہی ساتھ رکهے۔ جو منزل تک کام آئیں۔ راستے میں پهینکنی نہ پڑیں کہ بے کارمیں بوجھ آٹهایا اور منزل پہ پہنچ کر پتہ چلے کچھ ہاتھ میں نہیں جو ہے وہ بهی اس گهر سے مناسبت نہیں رکهتا۔۔۔ علم کا دسواں حصہ، زندگی کا دسواں حصہ، الله تعالى کی عطا کردہ صلاحیتوں کا دسواں حصہ، نعمتوں کا دسواں حصہ بهی اگر الله کے لیے خالص ہوجائے، اعمال نامے میں دسواں حصہ ہی قابل اجر نکل آئے تو الله کی رحمت واسعہ اسے سو فیصد مکمل  کردے  گی۔ اپنے اعمال کی صحت کا ہر نماز کے بعد جائزہ لینا چاہئے کہ کتنے فیصد کار آمد  ہے اور کیا کچھ ناکارہ ہے۔۔۔

اپنے علم کا جائزہ لیں اور خالص علم کو چهانٹ کراسے عمل میں لائیں یہی نجات کا باعث ہے۔۔۔

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بهی جہنم بهی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

اللهم إنا نسئلک علما نافعا وعملا متقبلا  آمین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s