فریاد

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یا رب العزت تو میرے مقام سے واقف ہے، میرے ظاہر باطن کا تجهے مجھ سے زیادہ علم ہے۔ جو میرے دل میں ہے تو اس سے واقف ہے۔ اے میرے مولا  میری نیت کاجو بهی حقیقی راز ہے تو اس سے بے خبر نہیں۔ اے رب الخالق اپنی تخلیق کو تو ہی بہتر جان سکتا ہے خود تخلیق نہیں۔ تیری عاجز بندی اپنی ساری خطاؤں کا اقرار کرتی ہے اپنی بے بسی، کمزوری ، بے سروسامانی کی شکایت تجھ سے ہی کرتی ہے۔ اشکوا بثی وحزنی الیک۔۔۔ میں امت محمدی کے ایک فرد کی حیثیت سے تیرے حضور سر جهکائے التجائیں کر رہی ہوں۔ سارے غم سارے دکھ آج ایک ہی غم بن گئے ہیں۔۔۔ مظلوم مسلمانوں کےسارے غم میرے دل میں جمع ہوگئے ہیں۔۔۔ الله اس ایک دل میں جتنے غم سمائے ہیں آج اس سرزمین کا غم سب پہ حاوی ہوگیا ہے جو انبیاء کی سر زمین ہے جس میں برکت رکھی گئی ہے۔ جو خوب صورت زمیں ہے جس کے باشندے حسین و جمیل ہیں۔ جس کے بچے لؤلؤ والمرجان ہیں جس کے بوڑھے عزیمت اورجوان شجیع ہیں جہاں عورتیں با کردار اور جہاں عقیدے کا یقین ہے۔ مگر اے رب؛ میرے ارد گرد موجود لوگوں نے سب کچھ تباہ کر دیا، اب وہ دهرتی سرسبز نہیں خون کا دریا ہے ہنستے کهیلتے بچے گلیوں کی رونق نہیں کھنڈروں سے اٹهتا دهواں ہے اور برکت کی فضا نہیں نحوست کی چیخ پکار ہے۔۔۔

میرے رب! میں ایک عورت ہوں، بیٹی ہوں، بہن اور ماں ہوں۔ یہ رشتے جہاں بهی ہوں مرد ہی اس کے نگہبان ہوتے ہیں۔ دنیا کے ہر کونے میں بسنے والی مسلمان عورت ہر مسلمان مرد کی سایہ عاطفت میں دی گئی ہے۔۔۔ میں ہر جگہ مظلوم ہوں کہ حلب میں بے بسی کی تصویر ہوں میں دنیا کے کسی بهی کونے میں ہوں مجبور ہوں میں اگر ڈاکٹر عافیہ ہوں تو میرا دنیا میں کوئی غیرت مند بهائی نہیں میں برما میں ہوں یا کشمیر میں، حلب میں ہوں یا کسی بهی اسلامی ملک میں۔ حالت جنگ ہو یا امن مجهے امن نصیب نہیں ہے۔۔۔ میرے غیرت مند رشتے مجھ سے غافل ہیں۔ یا رب العالمین؛ میرے سجدوں کی لاج رکھ لے اور مجهے اس کٹہرے میں کھڑا ہونے سے بچالے جب امت مسلمہ پہ ڈھائے گئے مظالم کے ذمہ داروں کے نام پکارے جائیں گے۔۔۔ جب ان لوگوں کی فہرست تیار کی جارہی ہوگی جو آگ کے گڑھے تیار کرکے مومنوں کو جلا رہے  تهے اور الله مجهے بچا لینا ان لوگوں میں شامل ہونے سے جوجلنے کا تماشا دیکھتے رہے دور سے یا نزدیک سے۔۔۔

میرے الله؛ میرے سر پہ ہاتھ رکھنے والے مرد غافل ہیں میری عزت کی حفاظت سے، وہ حلب کے ارد گرد ہوں یا دور۔۔۔ یہ غیرت سے عاری لوگ دور  فاصلے سے کیا بہنوں کی حفاظت کریں گے ان کو کیا چیخیں سنائی دیں گی ہزاروں میل سے۔ یہ تو اپنے گھر کی چار دیواری سے غافل ہیں۔ یہ اندھے بہرے گونگے ہیں۔ اے الله :میں بهی قید ہوں، مظلوم ہوں، بے بس ہوں اس پاک سرزمین انبیاء تک میں نہیں پہنچ سکتی میری آواز میرے سینے میں دبی رہتی ہے۔ مجهے کوئی ابن قاسم نہیں ملتا کوئی صلاح الدین ایوبی نظر نہیں آتا۔ یا رب العزت؛ میرے سینے کی آہیں ہیں، جو تیرے حضور حاضر ہیں، میرے دل کی پکار ہے آنکھوں سے بہتا پانی ہے۔ اپنی خطاؤں پہ ندامت ہے اور لوگوں کے احساس کو جگانے کی صدا ہے۔ اورعجز و ندامت کے چند سکے ہیں۔۔۔ قبول کرلے۔۔۔

یارب،ایک ہی التجا ہے دل بدل دے، امت مسلمہ کے ہر فرد کا دل بدل دے، پتھر دل کو موم کردے۔

حکمرانوں کے بہرے کان کو سماعت عطا کردے آنکھوں کو بصیرت  کا نورعطا  کردے، امت مسلمہ کے حکمرانوں کی آنکھوں سے غفلت، حرص و ہوس کے پردے ہٹادے اے میرے مولا سب کے دل تیری دوانگلیوں کے درمیان ہیں ان سب دلوں کو غیرت ایمانی کی طرف پلٹا دے۔ ساری امت مسلمہ کے دل ایک کردے۔ اتفاق واتحاد کی مضبوط زنجیر میں جکڑ دے قرآن کی رسی تهمادے۔۔۔ دعا ہرناممکن کو ممکن بنا دینے کا ہتھیار ہے میرے پاس بس یہی ہتھیار ہے اسی کا استعمال مجهے آتا ہے۔ دعا کے اس ہتھیار کو معجزہ کردے۔ امت مسلمہ کو سکهی کردے۔۔۔ آمین

تحریر:ڈاکٹر بشری تسنیم

2 Comments Add yours

  1. sana نے کہا:

    aap ny hum sy k dillun ki awaz ki bht khub tarjumani ki yehi awaz her dill ki awaz hai
    Allah tala sb per apna khass karm frmaen
    ur ummate muslima ko sukhi ker dy ameen

    1. Bushra Tasneem نے کہا:

      جزاک اللہ خیر خوش رہیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s