حدیث نمبر 4

بسم الله الرحمن الرحيم

بخاری ومسلم کی معروف حدیث سے ہم سب واقف ہیں” الحیا ء شعبة من الایمان” یعنی ” حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔۔۔” نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور معروف حدیث موءطا میں ملتی ہے کہ "ہردین کی کوئی بنیادی صفت ہوتی ہے جو اس کے ہر پہلو پہ غالب رہتی ہے، اسلام کی صفت جو ہر پہلو پہ غالب ہے وہ "حیا” ہے۔ ” الحاکم ترغیب میں نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث” حیا” کی مزید وضاحت کرتی ہےکہ” حیا اور ایمان دونوں باہم ملے جلے ہیں دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم ہیں ایک چلا جائے تو دوسرا بھی چلا جاتا ہے۔”

حیا کا احساس انسان کے دل میں اجاگر رہے تو وہ حقوق الله اور حقوق العباد میں جان بوجھ کر کوتاہی نہیں کرتا۔ حیا دراصل اس وفاداری کا نام ہے جو شرف انسانی کو ودیعت کی گئ ہے۔ جو وفا اس معاہدے اور وعدے سے جڑی محسوس ہوگی جس کو "عهد الست "کہا گیا ہے تو اپنی زندگی کا ہر پہلو اسی عهد کو وفا کرنے کی طرف مائل ہوگا اوراحسن تقویم ہونے کے ناطے وہ اس عهد سے منہ موڑنے پہ حیا محسوس کرے گا۔ انسان کا اپنے رب سے ناطہ ہو یا باہم انسانوں کے درمیان رشتے ناطے؛ میل جول لینا دینا سب لحاظ، مروت، وفا کا مرہون منت ہے جس کا دوسرا نام حیا ہے۔۔۔ اسی طرح یہ حیا افکار و خیالات سے شروع ہوکر اعضاء و جوارح تک پہنچتی ہے۔ بخاری شریف کی ایک اورحدیث کا مفہوم یہ ہے کہ دراصل ہر بھلائی کا سرچشمہ حیا ہے۔ یعنی حیا خیر کے سوا کچھ نہیں لاتی۔ اور ہم سب اس سے بھی واقف ہیں کہ جب کوئی حیا نہ کرے تو پھر اس سے ہر قسم کی برائی متوقع ہے۔

حیا کا مادہ ہی انسان اور جانور میں فرق واضح کرتا ہے۔ ہر تہذیب کےسارے قواعد و ضوابط اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حیا اس کی فطرت میں رکھی گئی ہے۔۔۔ اور شرف انسانی کی یہی ایک بنیادی وجہ ہے۔ معاملات کی دیانت کو بھی حیا کہتے ہیں اور نگاہ کی دیانت بھی اسی کے تحت آتی ہے۔ جس پہ آپ نگاہ ڈالنے کے مجاز نہیں وہ کیوں ڈالیں؟ جس مال کو لینے کے آپ حقدار نہیں جس زندگی کے آپ مالک نہیں اس پہ بے جا تصرف یا اپنی مرضی سے تصرف کرنا بد دیانتی بد لحاظی اور سراسر بے حیائی ہے۔ جس کو اپنے رب الرزاق کے ساتھ بے مروتی، بد لحاظی، بے ایمانی، بد عهدی کا خوف نہیں۔ اس الله  الخالق  سے حیا نہیں آتی تو وہ اپنے آپ سے کیا حیا کرے گا یا اپنے جیسے انسانوں سے کیا حیا کرےگا؟

یہ جو ہم دن رات بے حیائی کا رونا روتے ہیں اس کی بنیاد دراصل اپنے رب سے غافل ہونا ہے اپنے پیارے رب کو بھلا دینا ہے تو پھر جواباً رب اس بندے کو اس کا اپنا آپ بھلا دیتا ہے وہ اپنے آپ سے غافل ہو جاتا ہے۔ جس کو اپنا شرف اپنی عزت اپنا وقار اپنی اہمیت بھول گئی ہو اس کا ہاتھ شیطان پکڑ لیتا ہے اور اس کو  ان راہوں پہ گھسیٹتا پھرتا ہے جس کا انجام رسواکن عذاب سے کم نہیں ہوتا۔ بے حیائی کے سارے کام وہ خلوت میں ہوں یا جلوت میں ابتدائی مرحلے میں ہوں یا انتہائی سب الله رب العزت نے حرام کر دیے ہیں۔ جب معاشرے میں الله کے حرام کردہ امور کو اجتماعی طور پہ قبول کر لیا جاتا ہے تو الله تعالى کی طرف سے مختلف انداز میں لوگوں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو الله تعالى کے غضب سے بچانے کی فکر کریں۔ لیکن جب لوگ بے حیائی کی حدود پار کر جائیں تو ان تنبیہات سے بھی غافل کر دیے جاتے ہیں۔ اور یہ بھی عذاب کی ایک قسم ہوتی ہے۔۔۔

الله تعالى امت مسلمہ کے ہر فرد کو کھلے اور چھپے، خلوت وجلوت میں حیا کی حلاوت  سے آشنا کر دے۔۔۔  آمین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s