علامہ اقبال کا نظریہ ادب و فن

زندگی کا مقصد اور بندگی کا تصور

زندگی اللہ تعالیٰ کی نعمتِ عظمیٰ ہے اور جو بھی ہست و بود نظر آتا ہے، وہ زندگی کے ساتھ وابستہ ہے۔ لیل و نہار کی گردشِ مدام کتنے ہی انقلاب سے وابستہ ہو جائے اور تغیر و تبدیل سے ہمکنار ہو جائے، زندگی کی بقا کا سہرا مقاصدِ جلیلہ سے ہی وابستہ رہے گا۔

’’زندگی، بے بندگی، شرمندگی‘‘ ایک سنہرا اور کڑا اصول ہے اور بندگی کے لیے انسان کے سامنے توحید کا میدان ہے۔ پھر اسی میدان میں ہر عامل کا اپنا عمل گواہی دیتا ہے۔ بہار ہو کہ خزاں، لا الٰہ الا اللہ۔

کسی بھی نابغۂ روزگار انسان کے کارناموں کو پرکھنے کے لیے اس کا نظریۂ زندگی بھی اس کے عروج و زوال کی حدود متعین کرتا ہے۔ زندگی صرف دنیا ہی کی زندگی نہیں ہے، آخرت کا عروج و زوال بھی اس دنیا کی زندگی کا حصہ ہے۔

ادب اور زندگی کا باہمی تعلق

ادب، زندگی کا وہ باب ہے جس سے دل کی دنیا میں انقلاب آتا ہے، ذہنوں کی کھیتی سیراب ہوتی ہے اور قوموں کو اپنی زندگی آپ جینے کا درس ملتا ہے۔ ادب برائے ادب اور فن برائے اظہارِ ذات کی بحثیں بے سود ہو گئی ہیں۔ ’’ادب برائے زندگی اور زندگی برائے بندگی‘‘۔

اقبال کا نام آتے ہی ذہن اس طرف یکسو ہو جاتا ہے۔ اقبال زندگی کا شاعر ہے اور فن کو اس کا خادم جانتا ہے۔ اقبال نے زندگی اور فن کے رشتے کی وضاحت یوں کی ہے:

علم و فن از پیش خیرانِ حیات
علم و فن از خانہ زادانِ حیات

اقبال کے نزدیک قوموں کی روحانی صحت کا دارومدار اس کے شعراء، آرٹسٹ اور ادیب کی حیات بخش صلاحیت پر ہوتا ہے۔ اگر ادیب اور شعراء اپنی تخلیق کے ذریعے انسانیت میں زندگی کی روح پھونکنے کی بجائے بہت پست اور گھٹیا جذبات پیدا کریں تو یہ ادب و فن کسی بھی قوم کے لیے چنگیز خان کے لشکروں سے زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

اپنی نظم ’’ہنر و انِ بلند‘‘ میں اقبال نے ایسے ادب و فن کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا ہے:

عشق و مستی کا جنازہ ہے تخیل ان کا
ان کے اندیشۂ تاریک میں قوموں کے مزار
موت کی نقش گری ان کے صنم خانوں میں
زندگی سے ہنر ان پرہمنوں کا ہے بے راز
چشمِ آدم سے چھپاتے ہیں مقاماتِ بلند
کرتے ہیں روح کو خوابیدہ، بدن کو بیدار
ہند کے شاعر و صورت گرو افسانہ نویس!
آہ بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار

اقبالؒ کا تصورِ فن اور مقصدِ حیات

اقبالؒ جب زندگی اور فن میں ربط پیدا کرتے ہیں تو انسان کے اس ازلی منصب، اس کے حصول اور تکمیل کی ساری منزلیں پیشِ نظر رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر فن کا مقصد زندگی کی تاریکیوں میں نور بھرنا اور اسے زیادہ سے زیادہ حسین بنانا ہے۔ فرد اور معاشرے کو پستی سے بلندی کی طرف لے جانا اور اسے حیاتِ ابدی کا شعور بخش کر انقلاب کی لذتوں سے آشنا کرنا ہے۔

فنونِ لطیفہ کے متعلق ان کا نقطۂ نظر بخوبی واضح ہو جاتا ہے:

اے اہلِ نظر، ذوقِ نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا؟

مقصودِ ہنر سوزِ حیاتِ ابدی ہے
یہ ایک نفس یا دو نفس مثلِ شرر کیا

جس سے دلِ دریا متلاطم نہیں ہوتا
اے قطرۂ نیساں، وہ صدف کیا، وہ گہر کیا

شاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہو
جس سے چمن افسردہ ہو، وہ بادِ سحر کیا

بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا، وہ ہنر کیا

اقبال ’’فن برائے زندگی‘‘ کے قائل تھے، مگر دوسروں کی طرح فن کو محض زندگی کی عکاسی یا نقالی اور مصوری نہیں سمجھتے، بلکہ فن کو اخلاقیات کے تابع کرکے زندگی بخش قوت بنانا چاہتے ہیں۔

فن اور حیات کا گہرا تعلق

پروفیسر سید وقار عظیم اس حوالے سے رقمطراز ہیں:

’’اقبالؒ دوسرے مفکروں کی طرح فن کو زندگی کی نقالی، عکاسی یا مصوری نہیں کہتے۔ ان کے نزدیک فن اور حیات کا یہ ربط اور تعلق اس سے کہیں زیادہ گہرا، کہیں زیادہ استوار، کہیں زیادہ بامعنی ہے۔ انسان کو ازل سے تخلیق اور ارتقاء کا جو منصبِ عالی عطا ہوا ہے، فنون اس کی بجا آوری اور تکمیل میں اس کے ممدومعاون بنتے ہیں۔ انسان کی حسن آفرین فطرت زندگی کے نقوش کو واضح اور پائیدار بنانے میں فنون کی شکل اختیار کرتی ہے۔‘‘

فن برائے زندگی اور اسلامی اخلاقیات

فن برائے زندگی کا نظریہ اقبالؒ نے اسلامی اخلاقیات سے اخذ کیا ہے۔ اس کا اشتراکی نظریۂ فن برائے زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ڈاکٹر سید عبداللہ اقبالؒ کے نظریۂ فن و ادب کے متعلق لکھتے ہیں:

’’اقبال کی رائے میں حسن کا صحیح معیار حیات اور اس کی قوت ہے اور فن نام ہے ایک حسن اور تخلیقِ حسن کا۔ اس لیے صحیح فن وہی ہے جو قوتِ حیات کی ترجمانی کرے اور آرزوئے حیات میں اضافہ کرے۔ جو فن زندگی کے حقیقی حسن کو اجاگر نہیں کرتا اور اس کے حسن کو جلا نہیں بخشتا، وہ فن نہیں، زوالِ فن ہے۔‘‘

فنکار کا خلوص اور خونِ جگر کی اہمیت

اقبال ادب اور فن کے متعلق ایک اہم نقطۂ نظر یہ رکھتے ہیں کہ فن کو مفید اور کارآمد بنانے کے لیے فنکار کا انتہائی خلوص ضروری ہے۔ جب تک فنکار کے فن میں اس کا خونِ جگر شامل نہ ہو، اس کا دلوں پر اثر کرنا مشکل امر ہے۔

رنگ ہو یا خشت و سنگ، چنگ ہو یا حرف و صوت
معجزۂ فن کی ہے خونِ جگر سے نمود

قطرۂ خونِ جگر، سل کو بناتا ہے دل
خونِ جگر سے صدا سوز و سرور ہے سرود

نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خونِ جگر کے بغیر

ادب و فن اور قوتِ حیات کا معیار

اقبالؒ کے نزدیک وہی ادب و فن قابلِ تحسین ہے جو قوتِ حیات کی ترجمانی کرے اور آرزوئے حیات میں اضافہ کرے۔ اگر ادب و فن کا مقصد انسان کو بلند سے بلند کرنا اور اس کی خودی کو مستحکم کرنا ہے تو یقیناً محمود ہے۔ اور اگر وہ انسانیت کی ترقی میں رکاوٹ ہے، اسے لذت کوشی، ذہنی عیاشی، سہل پسندی، رعونت اور منفی خودی کا درس دیتا ہے تو وہ مردود ہے۔

وہ پوری فنی عظمت و کمال کے ساتھ ادب اور فن کو اعلیٰ اقدارِ حیات کا ترجمان بنانا چاہتے ہیں۔

اقبالؒ کا فلسفۂ خودی اور معیارِ حسن و قبح

اقبالؒ نے فلسفۂ خودی کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’شخصیت یا مسلسل جدوجہد کی حالت انسان کا سب سے بڑا کمال ہے۔ جو شے شخصیت کو مسلسل جدوجہد کی طرف مائل کرتی ہے، وہ ہمیں بقائے دوام کے حصول میں مدد دیتی ہے، لہٰذا وہ اچھی ہے اور جو شے شخصیت کو کمزور کرے، وہ بری ہے۔ گویا ہماری شخصیت جملہ اشیائے کائنات کے حسن و قبح کا معیار ہے۔ مذہب، اخلاق اور آرٹ سب کو اسی معیار پر پرکھنا چاہیے۔‘‘

اقبالؒ کے نزدیک ادب و فن کو بھی ’’خودی‘‘ کے حوالے سے پرکھا جائے گا۔ اقبالؒ نے اس کی ترجمانی یوں کی ہے:

سرود و شعر و سیاست، کتاب و دین و ہنر
گہر ہیں ان کی گرہ میں تمام یک دانہ

ضمیرِ بندۂ خاکی سے ہے نمود ان کی
بلند تر ہے ستاروں سے ان کا کاشانہ

اگر خودی کی حفاظت کریں تو عینِ حیات
نہ کر سکیں تو سراپا فسون و افسانہ

علامہ اقبال کا نظریہ ادب و فن

جواب دیں