اللہ رب العزت نے ہر شے کو پیدا کیا اور اس کو مخصوص شناخت، یا پہچان عطا کر دی۔ ہر چیز اپنی شناخت اور پہچان ہی کے دم سے قائم ہے۔ ہر شے کا وجود اسی وقت تک قابلِ ذکر ہے جب تک اس کی شناخت زندہ ہے۔ کائنات کا ذرّہ ذرّہ اپنا وجود، اپنی پہچان اور اپنے تشخص کا داعی ہے۔ آسمان کا وجود ان گنت اسرار و رموز سے وابستہ ہے۔ کچھ نظر آنے والے اور بہت کچھ نظر نہ آنے والے شہود ہی اس کی شناخت ہیں۔ دیکھنے والے کی نظر کے محدود یا لامحدود ہو جانے کے ساتھ ساتھ آسمان و کائنات کی شناخت بدلتی جاتی ہے۔ یہ نظر کے زاویے ہی ہیں جو دل کے سمندر میں اٹھنے والے طوفان کو افلاک سے جا ملاتے ہیں۔
کائنات کی ہر شے اپنی شناخت رکھتی ہے
آفتاب اپنی حرارت اور روشنی سے ممیز ہے۔ ماہتاب، ٹھنڈی روشنی، نور، خوبصورتی کے اسرار سے موسوم ہے۔ ستارے اپنی معصومیت، جگمگاہٹ، راستے کی نشان دہی کرنے کی شناخت پر نازاں ہیں۔ پھول، پھل، پودے، شجر، حجر، صحرا، موسم، دریا، پہاڑ، پانی، ہوا، سب اپنی شناخت رکھتے اور اس کا ادراک بھی رکھتے ہیں۔ کائناتِ رنگ و بو میں ہر شے اپنی حقیقت کو جانتی ہے اور اسی کے مطابق اپنی راہ پہ گامزن ہے۔
اسی لیے تو ’’اس جہانِ آب و گل‘‘ میں کوئی فتنہ نہیں۔۔۔ دانۂ گندم اپنی اصلیت سے واقف ہے، وہ کبھی جو نہیں بننا چاہتا۔ گلاب کا پھول کبھی گوبھی کا پھول نہیں بننا چاہتا۔ سبزی کبھی اناج بننے پر اصرار نہیں کرتی اور اناج کبھی پھل بن جانے کی ضد نہیں کرتا۔ مٹی اپنی پہچان پہ راضی ہے۔ ہوا اپنی شناخت پر مطمئن ہے۔ شیر کبھی گھاس نہیں کھاتا، بکری کبھی خون خوار نہیں ہوتی۔ مچھلی کی شناخت پانی میں رہنا ہے، وہ کبھی ریت پہ زندہ نہیں رہتی۔ پرندہ کبھی پانی میں گھونسلہ نہیں بناتا۔
زندہ رہنے اور اپنی راہ پہ قائم رہنے کی جو شناخت جس کو عطا کر دی گئی، وہ اس پہ خوش، مطمئن ہے۔ وہ کوئی نیا تجربہ کر کے پہچان کا نیا رخ تلاش نہیں کرتا۔
انسان اور اس کی شناخت کا سوال
انسان کا اپنا وجود بھی گواہ ہے کہ جس کی جو شناخت ہے، وہی اس کا اصلی مقام ہے۔ انسان کا ہر عضو اپنے اپنے مقام، اپنی پہچان اور اپنے کام سے مطمئن ہے اور وہ ازلوں سے کر رہا ہے اور ابد تک اس کی یہی شناخت رہے گی۔ آنکھ کبھی بولنے پہ اصرار نہیں کرتی۔ زبان دیکھنے کا کام نہیں کر سکتی۔ کان کبھی بولنے کی کوشش نہیں کرتے۔ انسان کبھی دونوں ٹانگوں کے بغیر کھڑا نہیں ہو سکتا۔ انسان کبھی جانوروں کی طرح چلنا پھرنا پسند نہیں کرتا، بس ایک سوچ کا انتخاب ہی ہے جو انسان کو مضطرب رکھتا ہے۔
وہ کبھی اپنے آپ سے مطمئن نہیں ہوتا۔ وہ آسودگی کی تلاش میں ہے کہ وہ پہچانا جائے۔ کس قدر نادان ہے، ناشکرا ہے کہ اپنی شناخت کا ادراک، اپنی پہچان کا نور کھو بیٹھا ہے۔ انسان اپنے آپ کو جاننے کے باوجود نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے؟ وہ اپنے آپ کو کھوجنے کے چکر میں ازلوں سے بے قرار ہے۔
نام ایک، پہچان الگ الگ
ہر انسان کا ایک نام ہے جو اس کی شناخت ہے۔ یہ نام بھی کیا عجب لفظ ہے۔۔۔ ایک نام کے بہت سے لوگ ہیں لیکن سب کی پہچان الگ ہے۔ کہنے کو سب انسان ہیں مگر ہر ایک کی پہچان الگ ہے۔ انسان اپنے ظرف، علم کے مطابق اپنی پہچان کرواتا ہے۔
تاریخ نے ہمیشہ اس بات کی گواہی دی۔۔۔ قابیل نے اپنے حصے کا نام کمایا۔۔۔ ہابیل بھی گمنام نہ رہا۔ نوحؑ بھی اپنا فرض ادا کرتے ہیں اور ابنِ نوح بھی اپنے حصے کا کام کر کے رہا۔ موسیٰؑ و فرعون، ابراہیمؑ و نمرود، ابوبکرؓ و ابوجہل ایک ہی دور کے مختلف نام ہیں۔ ہر ایک کی پہچان اپنی اپنی ہے۔ اپنا تشخص ہے۔ کہنے کو سبھی انسان ہیں۔۔۔
انسان دوسروں کی نظر میں اپنی پہچان کیوں تلاش کرتا ہے؟
انسان کی ازلی کمزوری ہے کہ وہ دوسروں سے ممتاز نظر آئے۔ ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ دوسرے سب، ہر کوئی اس کو جانے، پہچانے، اس کے نام کا ڈنکا بجے، اس کے نام کا بول بالا ہو۔ ایک دنیا اس کے نام سے واقف ہو جائے۔
میں کیا انوکھا کارنامہ پیش کروں کہ دنیا میرے گن گائے؟ میں کیسا نظر آؤں کہ ہر نظر مجھے دیکھے؟ ہر زبان میرے تذکرے کرے، ہر کان میری بات سنے۔
انسان جانے یہ کیسے جذبے کا اسیر ہے کہ وہ لافانی ہونا چاہتا ہے اور عجب بات ہے کہ فانی چیزوں کا سہارا لے کر لافانی ہونا چاہتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اپنے اندر تلاش نہیں کرتا۔ وہ خود کو دوسروں کے دلوں میں تلاش کرتا ہے۔ اپنی روح میں نہیں جھانکتا، دوسروں کی آنکھوں میں خود کو تلاش کرتا ہے۔
اپنا مقام خود متعین نہیں کیا۔ دوسروں کے رویے سے اپنے مقام کا جائزہ لیتا ہے۔ دوسروں کے دل ٹٹولنے میں مصروف ہے۔ اپنے دل کا حال کبھی جاننے کی کوشش نہیں کرتا۔۔۔
اپنے مستقبل اور مقام کی تلاش
انسان کیوں دوسروں کے ہاتھوں کی لکیروں میں اپنا وجود اور اپنا مستقبل تلاش کرتا ہے؟ اس کے مستقبل کا حال، مقدر کا تعویذ، اُس کے اپنے گلے میں لٹکا ہوا ہے۔ اپنے گلے میں لٹکی ہوئی تختی پہ کیا لکھا جا رہا ہے، اس کی فکر نہیں۔ دوسروں کے گریبان میں جھانکنا کتنا آسان لگتا ہے۔۔۔
انسان وہ کر رہا ہے جو نہیں کرنا چاہیے اور جو عمل کیا جانا چاہیے اس سے غافل ہے۔ جو حاصل ہے اس سے لاپرواہ ہے اور جو لاحاصل ہے اس کے لیے پریشان ہے۔ جو اس کی پہچان ہے، اس سے منہ موڑے ہوئے ہے اور اس کا انتخاب کرتا ہے جو اس کی شناخت نہیں ہے۔
پہچان کے دو راستے: حق اور باطل
دراصل انسان نے اپنی پہچان کا غلط راستہ اختیار کیا۔ دنیا میں اپنی پہچان کے لیے دو ہی تو راستے ہیں: حق اور باطل۔
جس نے حق کا راستہ اختیار کیا، سعادت و فلاح کے ساتھ اپنی شناخت کروائی۔ جس نے باطل کا انتخاب کیا، اس نے اپنی پہچان شقاوت و خسران سے وابستہ کر لی۔
حق کا ساتھ ہو یا باطل کا۔۔۔ موت دونوں کا فیصلہ کرتی ہے۔ قابیل ہو، نمرود ہو یا فرعون، یا نوح کا بیٹا، ہامان ہو یا شداد، ابوجہل ہو یا ابولہب، سب نے موت کی وادی میں قدم رکھا اور دنیا کی تاریخ کے لیے نفرت کا عنوان بن گئے۔۔۔
ادھر ابراہیم کا عشق ہو، اسماعیل کی آدابِ فرزندی ہو یا حسین ابنِ علی کی جاں سپردگی، دنیا کے انسانوں کے لیے زندگی کی نوید بن گئے۔
یہی انسان کے حقیقی رخ کی پہچان ہے کہ وہ کیا انتخاب کرتا ہے اپنی پہچان کرانے کے لیے۔
اپنی پہچان اپنے اندر تلاش کرو
چاند، تاروں، آسمان کی وسعتوں میں اپنا کھوج لگانے والے اور سمندروں کی گہرائیوں، زمین کی پہنائیوں میں ڈوب کر اپنی شناخت تلاش کرنے والے! ہزار سجدوں سے اپنی جیبیں کو آلودہ کرنے والے انسان! اپنے من کی دنیا میں ڈوب کر اپنا آپ تلاش کر لے۔
یہ پہچان ہی حیات و ممات کے نرالے معنی رکھتی ہے۔ زندگی کو امر کرنے کے لیے کوئی فانی سہارا نہیں، لافانی سہارا چاہیے۔ اپنی شناخت اور پہچان کے لیے وہ لبادہ تلاش کر جو ابدی ہو۔۔۔ وہ رنگ اختیار کرے جو سب سے حسین اور پکا پختہ رنگ ہو۔۔۔ جس سے وابستہ ہے، اتنی ہی اس کی پہچان ہے۔
بادشاہوں کے وفادار غلام کا ذکر جب تک ہے، جب تک بادشاہت قائم ہے۔ خود کو اس ہستی کا غلام بنا لے جو ربِ کائنات ہے۔ جو وحدہٗ لاشریک لہٗ اور ہر شے سے بے نیاز ہے، اسی کا رنگ اختیار کر۔ اس کے رنگ سے بڑھ کر کون سا رنگ حسین ہو سکتا ہے۔
حقیقی شناخت کا سرچشمہ
اپنے مقام، مرتبہ، پہچان، انا، عزتِ نفس، خودی کو جس ہستی سے وابستہ کیا، وہی پہچان قرار پائے گی۔ امر ہونا ہے تو ’’حی، قیوم‘‘ سے ناطہ استوار کر لے۔ اس کا احساس اپنی روح میں زندہ رکھ۔
جس نے روح پھونکی ہے، وہ ہمیشہ سے قائم ہے، ہمیشہ قائم رہے گا۔ اس کی تابانی کبھی گہنا نہیں سکتی۔ اس کی پھونکی ہوئی روح تبھی چین پائے گی جب وہ اپنے منبع و سرچشمہ سے ملے گی۔
اس ہستیِ باری تعالیٰ کی پھونکی ہوئی روح کا احساس جتنا روشن اور توانا ہو گا، اس سے تعلق بھی اتنا ہی مضبوط اور اعلیٰ شان کا ہو گا۔
ربِ کائنات سے تعلق ہی اصل پہچان ہے
ربِ کائنات سے تعلق کی شناخت اور پہچان مل جائے تو وہ مقامِ خودی عطا ہوتا ہے جس کی بلندی پہ پہنچ کر انسان سے ربِ ذوالمنن خود اس سے رضا پوچھتا ہے، اس کی رضا کا منتظر ہوتا ہے اور فرشتے اس بندے پہ رشک کرتے ہیں کہ روح کا روح سے ملاپ ہو گیا۔
بندے اور رب کے درمیان فاصلے ختم ہو گئے۔ پہچان کے مرحلے طے ہو گئے کیونکہ وہ قاری بھی ہے، قرآن بھی۔ وہ آفاق میں گم نہیں، آفاق اس میں گم ہیں۔ وہ بھٹکی ہوئی روح نہیں، اللہ کی امانت ہے۔ وہ محب بھی ہے، محبوب بھی۔
جب محب اور محبوب کو ایک دوسرے کی پہچان ہو جائے تو پھر دونوں ایک دوسرے سے راضی ہو جاتے ہیں۔ اسی رضامندیِ باہم ہی کی طلب و تمنا تو مومن کی اصل ’’پہچان‘‘ ہے۔
جوئندہ، یابندہ
تحریر: ڈاکٹر بشریٰ تسنیم