حدیث نمبر 31

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” بے شک تم میں سے کسی شخص کے سینے میں ایمان اسی طرح پرانا بوسیدہ ہوجاتا ہے جیسے لباس یا کپڑا پرانا ہو جاتا ہے پس تم الله سے سوال کیا کرو کہ وہ تمہارے دلوں میں ایمان کی تجدید کردے۔”

حدیث نمبر 30

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "دوزخیوں کی ایک قسم ان عورتوں کی ہوگی جو لباس پہننے کے باوجود برہنہ ہوں گی، لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے والی، ان کے سر بختی اونٹ کے جهکے ہوئے کوہانوں کی طرح ہوں گے ایسی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی بلکہ اس کی خوشبو بهی نہیں پائیں گی، حالانکہ اس کی خوشبو تو اتنےاتنے فاصلے سے آئے گی۔”

حدیث نمبر 29 

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”اپنے دوست سے محبت ایک حد تک رکهو، شاید کہ کل وہ تمہارا دشمن بن جائے اور اپنے دشمن سے دشمنی ایک حد تک رکهو ممکن ہے کل وہ تمہارا دوست بن جائے۔”

حدیث نمبر 28

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"نیکی حسن خلق کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کهٹکے اور تو پسند نہ کرے کہ لوگوں کو اس کا علم ہو۔”

حدیث نمبر 27

تم میں سے کوئی اس وقت تک (اعلیٰ درجے کا) مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بهائی کے لیے وہی پسند نہ کرے، جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

حدیث نمبر 26

جب الله تعالی کسی کی بهلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی نیک نامی کر دیتا ہے۔ آپ سے پوچها گیا کہ اس سے کیا مراد ہے؟ فرمایا "الله تعالى اسے وفات سے قبل نیک عمل کی توفیق دیتا ہے حتیٰ کہ اس سے متعلقہ افراد اس سے راضی ہو جاتے ہیں۔

حدیث نمبر 25

سیدنا أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو نصیحت کی کہ "غصہ نہ کیا کرو”۔

حدیث نمبر 24

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” یقیناً آج یہ دور ہے جس میں علماء زیادہ اور خطباء کم ہیں۔۔۔ ایسی صورت حال میں جس شخص کو جوعلم و معرفت ہے اس میں سے دس فی صد بهی چهوڑ دے گا تو گمراہ ہوگا۔ مگر ایک زمانہ اس کے بعد بهی آنا ہے جس میں خطباء زیادہ اور علماء برائے نام ہوں گے۔ اس دورمیں جو شخص اپنے علم کے مطابق دس فی صد کو بهی تهام لے گا تو نجات پا جائے گا۔”