حدیث ۔ ۲۶

الحمداللہ رب العلمین والصلوةو السلام علی سیدنا محمد رحمت للعلمین

بخاری و مسلم  کی معروف حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی  ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

"پہلوان وہ نہیں جو دشمن  کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے میں اپنے آپ کو قابو میں  رکھے۔”

غصہ کرنے کی مذمت میں بہت سی احادیث ملتی ہیں آج کی جو حدیث مبارکہ ہمارے سامنے ہے اس میں  پیارے نبی نے پہلوان کی قوت و طاقت کی مثال دے کر سمجھایا ہے کہ اصل بہادر قوت و طاقت والا وہ ہے جو غصے جیسے دشمن پہ قابو پالے۔

انسان غصہ ہمیشہ  اپنی بڑائی جتانے کے لئے  یا احساس کمتری چھپانے کے لئےکرتا ہے ،احساس کمتری اور برتری کے مارے لوگوں کا رویہ تقریبا ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔  اسی لئے عموما  ہر با اختیار   اپنے سے کم اختیار والے پہ معمولی باتوں پہ  غصہ کرنا فرض سمجھتاہے یا احساس کمتری چھپانے کے لئے غصہ کے ذریعے خود کو حاوی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔  بلکہ اکثر تو غصہ کرنے کے لئے وجہ بھی ضروری نہیں سمجھی جاتی بلا وجہ بے قصور  پہ اپنی رعونت جمانے سے اپنے تکبر کو یا احساس کمتری کو   تسکین ملتی ہے  ۔ اس کی ہر پیمانے پہ مثالیں مل جاتی ہیں ۔ معاشرتی  زندگی میں شوہر بیوی پہ غصہ کرنا (کسی بھی وجہ سے) اپنا لازمی حق سمجھتا ہے بیوی کسی اور رشتے پہ یہی عمل دہراتی ہے    تو  کہیں کسی  ادارے کا سربراہ اپنے ماتحتوں کو تختہ مشق بناتا ہے۔ بے اختیار کا  اپنے سے بڑے   کی زد میں آجانے کا یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

 برابر کی حیثیت والوں کی طرف سے تنقید پہ غصہ کرنا اور اگر رائے نہ مانی جائے تو غصہ کا ردعمل بھی اکثر پایا جاتا   ہے ۔ایسا غصہ ور  شخص کسی رشتے کا بھی لحاظ نہیں کرتا۔

 انبیاء کی بعثت کا مقصد ایسے”پہلوانوں” کی تربیت کرنا تھا ۔کمزور ،بے بس کو اس کا حق دلانا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان طبقوں کو حقوق دلائے جو بے بس کمتر اور بے اختیار تھے اور متکبر لوگوں کے غصے کا نشانہ بنے ہوئےتھے۔

غصے کے جواب میں غصہ آئے یا کسی نے  نقصان  کر دیا ہوتو غصہ آنے پہ کیا رویہ ہو؟

سورہ الشوری میں اللہ تعالی نے فرمایا

  وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ

 یعنی غصہ کی وجہ کچھ بھی ہو خود سے کسی کے خلاف آیا ہو یا کسی کے غصہ کے جواب میں جزبات بھڑک اٹھے ہوں اپنے جزبات کو قابو میں رکھتے ہیں عفو درگزر کی چادر سے جزبات کو ڈھانپ لیتے ہیں اور مزید  اللہ تعالی نے سورہ آل عمران میں فرمایا

 وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ

"غصہ کو پی جانے والے” یعنی یہ اتنا آسان نہیں ہے غصے کے ردعمل میں  غصہ پینے  کی کڑواہٹ پوری حسیات کو محسوس ہو گی۔خون کی پوری گردش کو اس کا احساس ہوگا رگ رگ میں پہنچی غصے کی لہر پہ (خود سے   ہو یا رد عمل ہو)قابو پانے کے لئے پہلوانوں کی طرح کشتی لڑنی پڑے گی جب اعصاب کی اس جنگ میں ٹھراو آئے گا تو اگلی صفت لوگوں کو معاف کرنے کی پیدا ہوجائے گی ” والعافین عن الناس” معاف کرنے سے دل میں مزید نیکی کا جزبہ پیدا ہوگا اور احسان کرنے کی صفت پیدا ہوجائے گی انعام میں یہ خوشخبری ملے گی کیونکہ ہر نیکی اگلی نیکی کی راہ ہموار کرتی ہے

"واللہ یحب المحسنین”

غصہ اگر اللہ کے دشمنوں کے اور ہر باطل کام کے خلاف ہے تو یہ غیرت ہے۔ آج اسلام دشمنوں کے ظلم و ستم پہ ہم سب کی  غیرت سو رہی ہے کیونکہ مسلمان ظالموں کے سامنے اپنا مقام و مرتبہ کمتر تسلیم کر چکے اس لئے ان کےغصے کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ جس قوم کو اللہ تعالی نے قوموں کا سردار بنایا وہ غلاموں کے مرتبے پہ ہے اور اپنی اس بےغیرتی پہ کوئی  احساس نہیں جاگتا۔

غیرت و حمیت غلط مقام پہ غلط طریقہ سے  استعمال ہوتو وہ انا ہے غصہ ہے۔ اور غصہ صحیح طریقے سے درست مقام پہ ظاہر ہو تو یہ غیرت و حمیت اور خودی  ہے۔ ہمیں اپنے ہر فطری جزبے کو” مسلمان” کرنے کی ضرورت ہے۔ اختیارات کا دائرہ چھوٹا ہو یا بڑا اپنے سے کمتر کے ساتھ حلم تحمل اور عفو و درگزر کا طرز عمل گھر اورمعاشرے میں ٹھراو اور سکون پیدا کرتا ہے۔ 

جو لوگ اپنے غصے پہ قابو پانے کا مصمم ارادہ کر چکے ہوں ان کے لئے اللہ آسانی کی راہ نکال دے گا مسئلہ یہ ہے کہ جو اپنی اس بری عادت کی پہچان نہ کر سکیں یا اس کو ختم نہ کرنا چاہیں اپنی "پہلوانی” کے غلط رخ پہ اڑے رہیں ان کے ساتھ کیسے رہا جائے۔

 ایسے لوگوں کے شر سے بچنے اور ان کی ہدایت  کے لئے اللہ تعالی سے مدد مانگنا  تو لازمی امر ہے۔پھر قرآنی ہدایات کو ازبر کرنا ہے اس کو مزید سمجھنے کے لئے سیرت دسول صلی اللہ علیہ وسلم سیرت صحابہ و صحابیات سلف صالحین کا مطالعہ کرکے اپنے لئے سبق دیکھا جائے کہ انہوں نے  لوگوں کے   غیظ و غضب( وہ بھی بلا وجہ) کے جواب میں کیا رویہ رکھا کہ دشمن بھی ان کے لئے حلیم الطبع ہوگئے۔ اور جانی دشمن کیسے قلبی دوست بن گئے۔

اور ہمیں اپنی ایمانی  غیرت و حمیت کی آبیاری بھی کرنی ہے ۔ تاکہ ہم خون مسلم کی  ارزانی پہ عملی اقدامات  پہ قادر ہوں ۔اور دشمن کی جرآت نہ ہو کہ ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھے۔

اے اللہ رب العزت ہم آپ سے پناہ مانگتے ہیں کہ ہم کسی انسان  کی عزت نفس کے خلاف کوئی قدم اٹھائیں یا کوئی ہماری عزت نفس پامال کرے۔اے اللہ؛ ہمیں بری تقدیر سے ۔بد بختی اور دشمنوں کے سامنے ذلت سے اپنی امان میں رکھیو۔ آمین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s