حدیث ۔ ۱۹

الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد رحمۃ للعالمین

صحیح مسلم و بخاری کتاب الأدب میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنه سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد مروی ہے کہ
"جو الله اور اس کے رسول پہ ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے۔”
امام ترمذی نےصحیح اسناد سے ایک حدیث بیان کی ہے کہ” کسی آدمی کے اچھا یعنی معیاری مسلمان ہونے کی نشانی یا شرط یہ ہے کہ وہ لا یعنی باتیں ترک کردے۔”
امام ترمزی نے ایک اور حدیث بیان کی ہے کہ” بندہ جب صبح کرتا ہے تو اس کے تمام اعضاء اس کی زبان سے پناہ مانگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ الله سے ڈر ہمارا انجام تیرے ہاتھ میں ہے تُو سیدھی ہے تو ہم سیدھے ہیں تو ٹیڑھی تو ہم ٹیڑھے ہیں۔”
پہلی حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے پاس دو ہی انتخاب ہیں کہ وہ زبان سے بھلی بات امر بالمعروف والنهي عن المنكر. ذکر الله ،نصیحت یاحق کی گواہی کہے یا پھر خاموش رہے۔ لایعنی باتیں کرنے کی مومن کو اجازت ہی نہیں ہے۔ اور نہ ہی اسے زیب دیتا ہے کہ وہ اپنی زبان کو غلط یا بے مقصد استعمال کرے۔ لا یعنی باتیں کرنے کے نقصان کیا ہیں؟ ہمیں اس واقعہ سے اندازہ ہوگا کہ زبان کا استعمال کس قدر احتیاط کا متقاضی ہے۔
” دوائے شا فی ” صفحہ ۳۸۵ میں درج ہے کہ غزوہ احد میں ایک نوجوان شہید ہوگیا اس کی لاش اس حال میں ملی کی بھوک کے مارے پیٹ پہ پتھر بندھا ہوا تھا۔ اس کی ماں نے اسے دیکھا اور اس کے منہ سے مٹی صاف کی اور بولی "بیٹا جنت مبارک ہو۔” تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہیں اس کا حال کیا معلوم؟ شاید اس نے کبھی کوئی غیر ضروری بات کی ہو ۔غزوہ احد میں شہید ہونے والا بھی غیر ضروری بات کی وجہ سے جنت کی مبارک باد کامستحق نہیں تو ہم اپنے معاملات پہ غور کریں بے مقصد لایعنی غیر ضروری باتوں کا تناسب کیا ہے؟

ما یلفظ من قول إلا لدیه رقیب عتید (ق 18)

اور سورہ المدثر میں ذکر ہے کہ جب جنتی لوگ جہنمی لوگوں سے پوچھیں گے کہ تمہیں کس عمل نے اس تباہی کے گڑھے تک پہنچایا توکسی کا جرم صلوة نہ ادا کرنا، مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہ دینے کے علاوہ ان کا اعتراف ہوگا کہ ہمارا جرم یہ تھا

وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ۔

اور بحث کرنے والوں کا ساتھ دے کر بحث مباحثہ میں مشغول رہا کرتے تھے۔
اگر غور کیا جائے تو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ زبان کا بے مقصد استعمال کرنے والا دیگر فرائض سے بھی محروم ہو جاتا ہے یا ان فرائض کو کما حقہ ادا نہیں کر سکتا یا کرنے کے باوجود اجر سے محروم ہو جاتا ہے۔
زبان کی حفاظت پہ اس قدر زور دیا گیا ہے کہ معلوم ہوتا ہے ساری برائیوں کی جڑ زبان کا بےجا،ضرورت سے زیادہ اور غلط استعمال ہے۔ زبان ہی انسان کا کردار بتاتی ہے۔ اس کی عزت و آبرو کا سارا سامان اسی زبان میں چھپا ہے۔ترمزی کی ایک حدیث کے مطابق منہ اور شرم گاہ اکثر لوگوں کو جہنم میں لے جائے گی اسی طرح مزید فرمایا کہ تم زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کی ضمانت دو تو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔
گویا دونوں کے ساتھ انسان کی عزت آبرو اور حرمت وابستہ ہے۔ اور جہنم کا ہر رستہ زبان سے وابستہ ہے۔ زبان کے غلط استعمال سے انسان کو دونوں جہان کی رسوائی ملتی ہے۔ فساد فی الأرض کی بنیادی وجہ یہی زبان ہے۔ساری اخلاقی برائیاں اسی سے ظہور پزیر ہوتی ہیں انسان کے لیے سب سے آسان کام زبان کا استعمال ہے۔ زبان سے جو بات نکل گئی وہ اپنی نہیں رہتی اور اس کے اثرات ضرور ہوتے ہیں۔ اور انسان کو آخرت سے پہلے دنیا میں بھی ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کسی کے دل اور ضمیر کا حال معلوم کرنا ہو تو غصے میں اس کی زبان سے نکلے لفظ اس کا حال بتا دیں گے یحییٰ بن معاذ فرماتے ہیں کہ "قلب دیگچے کی طرح ہے اور زبان اس کا کفگیر ہے”
مسند احمد بن حنبل 3:198 کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تک بندے کا قلب درست نہ ہو اس کا ایمان درست نہیں ہوسکتا اور جب تک اس کی زبان درست نہ ہو اس کا قلب درست نہیں ہوسکتا۔ اور تقویٰ کی آماجگاہ دل ہے اور دل کی درستگی زبان کے صحیح استعمال سے مشروط ہے۔ اصلاح قلب مطلوب ہو یا اصلاح معاشرہ دنیا میں امن درکار ہو یا جنت کی تمنا اسی زبان کی مرہون منت ہے۔
ہمیں زبان کے استعمال پہ محتاط ہونے کا علم تو ہے مسئلہ اس علم پہ عمل کا ہے۔
پہلی بات جو ضروری ہے وہ یہ کہ اپنے رب سے گناہوں کی معافی طلب کی جائے ۔اپنی نیک نیتی کو سامنے رکھ کر اللہ سے استعانت طلب کی جائے جب بھی ایاک نعبد وایاک نستعین کہا جائے اور اھدنا الصراط المستقیم زبان سے ادا ہو اپنی زبان کے سیدھا رہنے کی نیت ہو۔
جب کسی سے ملاقات کرنے جائیں یا کسی طریقہ سے بات چیت کرنی ہو تو اپنے ارادہ کو مستحکم کر لیں کہ صرف بھلی بات کرنی ہے۔اپنے مخاطب کو پہلے ہی اظہار کر دیا جائے کہ اگر میں کسی کا بے مقصد ذکر کروں یا بھلی بات نہ کروں تو مجھے ٹوک دے۔
ہر ملاقات یا گفتگو کے بعد اپنی باتوں کا محاسبہ کیا جائے کامیابی پہ شکر اور نا کامی پہ خود کو اپنی صوابدید کے مطابق کوئی جرمانہ کیا جائے۔اللہ تعالی سے معافی اور مزید مدد کی درخواست کی جائے۔ جب ہمارا ارادہ واقعی اپنی بھلائی کا ہوگا تو اللہ ہماری راہنمائی کے مزید راستے کشادہ کردے گا۔ان شاء اللہ
اے الله ہم پہ مہربانی فرما جب تک ہمیں زندہ رکھے اور ہم پہ یہ رحمت فرما کہ ہم ان باتوں اور کاموں میں نہ پڑیں جو بے مقصد اور لا یعنی ہوں اور ہمیں زبان کے فتنوں سے محفوظ رکھیے آمین۔

 

2 Comments

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s