حدیث ۔ ۱۵

الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد رحمۃ للعالمین


الترمذی مشکوة باب الکسب وطلب الحلال صفحہ 242 میں سیدنا عطیہ سعدی (رض)سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا
"بندہ تقوی والوں میں شامل نہیں ہوسکتا جب تک وہ ان (چیزوں کاموں مال) کو نہ چھوڑ دےجن میں بظاہر کوئی حرج نہیں لگتا۔”
بے شک مومن کو ہر وقت اس بات کی جستجو رہتی ہے کہ وہ ان لوگوں میں شامل ہو جائے جو تقوی کے اعلی معیار پہ فائز ہوں گے اور یہی لوگ جنت کے اعلیٰ درجات کے حق دار ہوں گے۔
اس مقام کو پانے کے لیے معمولی حقیر نظر آنے والے گناہوں سے بھی بچنا ہوگا۔سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنها سے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حقیر نظر آنے والے گناہوں سے بھی بچتی رہنا اس لیے کہ ان کی بھی باز پرس ہوگی۔ اور یہی حقیقت ہے کہ چھوٹے گناہ بڑے گناہ کا رستہ کھولتے ہیں چھوٹا گناہ بار بار کرنے سے گناہ کبیرہ بن جاتا ہے۔ شیطان عموما مومن کو اسی طریقے سے نافرمانی کا عادی بناتا ہے۔ معمولی نظر آنے والی خطاؤں سے انسان ایسا غافل ہوتا ہے کہ توبہ کا خیال نہیں آتا۔ وہ گناہوں کا انبار بن جاتا ہے۔ گناہ صغیرہ بار بار کرنے سے دل زنگ آلود ہوجاتا ہے اور بڑی نیکیاں کرنے سے قاصر ہوجاتا ہے۔ حافظ ابن قیم نے لکھا کہ ” یہ نہ دیکھو کہ گناہ کتنا چھوٹا ہے یہ خیال کرو کہ نافرمانی کس عظیم ہستی کی ہو رہی ہے۔” اگر عذاب جہنم کی ہولناکیوں کا اور الله کی محبت چھن جانے کا احساس زندہ ہوتو معمولی سی نافرمانی پہ بھی نفس آمادہ نہ ہو۔ لوگ بہت دیدہ دلیری سے الله کے احکامات کے خلاف زبان کھولتے ہیں۔تھوڑی سی بے ایمانی کر لینے کو جائز قرار دیتے ہیں، انسانی تقاضا سمجھتے ہیں۔ غیر محرموں کا باہم بے تکلف ہونا ازدواجی رشتے میں خیانت نہ سمجھنا، روز مرہ کا سودا لیتے، دیتے وقت کوئی معمولی سی چیز کم دینا یا بغیر اجازت اٹھا لینا۔ دفتری معاملات میں ہیرا پھیری کرنا۔ ملازموں سے باہم معاہدے سے زیادہ ان کی مرضی کے خلاف کام لینا اور اجرت نہ دینا۔ ملازموں کا ڈیوٹی چھوڑ کر ذاتی کام کرنا۔معمولی خطا پہ زیادہ سزا دینا۔ لایعنی ضرورت سے زیادہ باتیں کرنا۔ رات گئے تک بے مقصد شغل میں جاگتے رہنا۔ سنت اعمال کو معمولی جان کر پرواہ نہ کرنا۔
افسوس کا مقام ہے کہ ہم نے اس طرح چھوٹے گناہوں کی پگڈنڈی پہ چلتے چلتے ایک ایسا کشادہ راستہ بڑے گناہوں کے لیے کھول لیا ہے کہ اب بے حیائی کے معنی بدل گئے ہیں۔ شرافت اور حیا کی شکل بدل گئی ہے۔ گناہ اور ثواب کے پیمانے بدل گئے ہیں۔ دلوں کے چراغ گل ہوگئے تو گھر خاندان اور قوم اندھیروں کی عادی ہوگئی چھوٹے چھوٹے نیکی کے چراغوں کا تیل معمولی اور حقیر معلوم ہونے والے گناہوں کی عادت اور کثرت نے ختم کردیا ہے۔ بے شک آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ دل کا شیشہ اندھا ہوجائے تو موت کی یاد اور قرآن سے رشتہ ہی اسے صیقل کر سکتا ہے۔
یارب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے
یارب اکرم الاکرمین ہمیں نیکیوں کا حریص اور سبقت لے جانے والا دل عطا فرمادے۔آمین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s