حدیث ۱۴

الحمدللہ رب العالمین والصلاة والسلام على سيدنا محمد رحمۃ للعالمین


بخاری ومسلم مشکوة صفحہ نمبر 429 میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنه سے مروی ہے کہ سیدنا محمد صلی الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا
"مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا "
بے شک ہر انسان کو لاعلمی، سادہ لوحی کی بناء پہ کسی قسم کا ، کوئی بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مگر دانا انسان ایک بار کسی غلط کام کا تجربہ کرلے تو پھر اپنی آنکھیں، کان کھلے اور ہوش وحواس بیدار رکھتا ہے۔ الله کے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے مومن کی امتیازی شان ہی یہ بتائی ہے کہ وہ کبھی ایک بار دھوکا کھا جائے تو پھر وہ چوکنا اور ہوشیار ہوجاتا ہے۔ اگر چہ مومن عیار اور دغاباز نہیں ہوتا لیکن وہ ایسا کمزور کم عقل اور بے وقوف بھی نہیں ہوسکتا کہ لوگ اس کی جان مال آبرو اور ایمان سے کھیلنے لگ جائیں۔
مومن” فی الدنیا حسنه وفی الآخرة حسنہ ” کی عمدہ مثال ہوتا ہے۔ وہ دنیا کے معاملات بھی بحسن و خوبی چلا سکتا ہے۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ دنیا کی زندگی میں ہر کسی کو اچھے برے حالات سے سابقہ رہتا ہے۔کبھی فائدے کی کوشس کرتے ہوئے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہےتو کبھی تعلق داروں سے بہتر سلوک مہنگا پڑ جاتا ہے۔ ساری عمر کسی نہ کسی محاذ پہ کوئی نیا تجربہ سامنے آتا رہتا ہے۔ مومن کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں تجربات و مشاہدات سے سبق سیکھنے کا ایک مومنانہ طرز عمل ہوتا ہے۔ جس میں برائی کو اچھے طرزعمل سے دور کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ مگر یہ کام حکمت و دانشمندی سے، اپنی خودی اور خوداری، عزت نفس کو ٹھیس پہنچائے بغیر کرنا مومن کا طرز عمل ہوتا ہے۔
دھوکہ دینے والے شخص کے بارے میں ہمیں جب کوئی خبردار کردے تو خبردار کرنے والے پہ ہمارا اعتماد ہوگا تو ہم مانیں گے ورنہ خود تجربہ کرکے دیکھیں گے۔اور ایک بار کسی نے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی تو محتاط ہو جائیں گے۔
کسی کو مال کے معاملے میں دھوکا دیا گیا۔ کسی کے ساتھ رشتوں نے وفا نہ نبھائی۔کسی کے راز کی حفاظت نہ کی گئی۔ کسی سے وعدہ پورا نہ کیا گیا اور کسی کی امانت میں میں خیانت کی گئ۔ غرض انسانوں کے اس جنگل میں کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی شکل میں سانحات کا شکار ہو ہی جاتا ہے۔ مگر سچا کھرا مومن تو امن کا امین ہوتا ہے وہ کسی کو دھوکا دے کر اپنے ایمان کو خطرے میں جان بوجھ کر کبھی نہیں ڈالے گا، لیکن اس کے ساتھ دهوکا ہوسکتا ہے. بہر حال وہ اس سے بچنے کی فکر ضرور کرے گا۔
مومن کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس کا مال حلال ہے وہ اس کو ضائع ہونے سے بچانے کی فکر کرتا ہے جائز اور حلال کاموں میں خرچ کرنے کی، نیک نیتی کے ساتھ ،اللہ تعالی سے مدد مانگتے ہوئےمنصوبہ بندی کرتا ہے ۔ چونکہ وہ اللہ تعالی سے مدد مانگتا ہے اس لیے وہ پہلی بار بھی اللہ کی توفیق کے ساتھ دھوکے اور نقصان سے ہوشیار رہتا ہے۔ اگر کبھی اس کے ساتھ کچھ ناروا معاملہ ہو جائے تو اس کا اعادہ نہیں ہونے دیتا۔ اسی طرح مومن دوسروں سے حسن ظن رکھتا ہے مگر ایسا بھی نہیں کہ وہ غیر ذمہ دار تعلق داروں کے ہاتھوں اپنی عزت نفس پامال کرواتا رہے اپنے بارے میں بد گمانی کرنے والوں کو اس گناہ سےبچانے کی فکر کرنا بھی ضروری ہوتا ہے ،اور اپنے بارے میں بدگمانی کے مواقع کو بھی ختم کرنا ہوتا ہے۔ بدگمان لوگ جس کھلے دشمن کی وجہ سے یہ غلط کام کرتے ہیں ان کو اس بڑے دھوکے باز سے ہوشیار رکھنا بھی اہم کام ہے۔ وہی دشمن ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسنے کے لیے انسانوں کو مختلف طریقے سے استعمال کرتا ہے۔ اور اس دھوکے باز کی شر انگیزیوں اور چالبازیوں کے رنگ مختلف ہوتے ہیں بہر حال اس کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے۔ اس کے مکرو فریب سے ہوشیار رہنا ہی دراصل مومن کے لیے ایک چیلنج ہے۔ خود بھی اس کی چالوں سے ہوشیار رہنا ہے اور دوسروں کو بھی احساس دلانا ہے کہ شیطان کے مکرو فریب سے ہوشیار رہیں ۔
اس دھوکے باز کی ساری نشانیاں، اس کی چالبازیاں ہمیں اس مہربان ذات نے بتا رکھی ہیں جس کی خیرخواہی سے ہمیں انکار نہیں جس پہ ہمارا پورا اعتماد ہے جو ہمارے لیے ستر ماؤں سے زیادہ رحیم ہے۔ وہ دھوکے باز ہمارے ایمان پہ بار بار حملہ کرتا ہے۔ ایک ہی حکم کی نافرمانی کے لیے نت نئے جال پھیلاتا ہے۔ الله کے ایک ہی حکم کو ہم ہر روز بار بار توڑتے ہیں۔ تعجب ہے کہ دنیا کے نقصان پہ ہماری عقلیں کام کرنے لگتی ہیں وہ فرد، ادارہ، ہماری نظروں سے گر جاتا جس نے ہمیں ایک بار بھی دھوکا دیا ہو ہم وہ رستہ ہی چھوڑ دیتے ہیں جس رستے ہمیں فریب کا تجربہ ہوا ہو، اس رشتے سے منہ موڑ لیتے ہیں جس رشتے سے کوئ تکلیف پہنچی ہو مگر کیا دانشمندی یہ نہیں کہ ہم حقیقی مومن ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اس حقیقی اور کھلے دشمن کے خوبصورت پیکجز کو رد کردیں اس کے قدموں پہ نہ چلیں جس کے ہم ڈسے ہوئے ہیں انفرادی طورپربھی اور اجتماعی طور پر بھی ۔
شیطانی ایجنڈا یہی ہے کہ انسان میں انسانیت نہ رہے۔ سوچنے ، فکر کرنے کی فوری اور اشد ضرورت ہے کہ شیطان کی دشمنی کی پہچان کر لینے کے باوجود ہم ایک سوراخ سے بار بار کیوں ڈسے جا رہے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اس کی ایک ہی بنیادی وجہ ہے ” قرآن کریم سے شعوری لا تعلقی” نفس کی باقی سب کمزوریاں اس سے ہی جنم لیتی ہیں۔
الله تعالی ہمیں ہمارے نفس کے شر سے، انسانوں شیطانوں کے شر سے اپنی پناہ میں لے کر امن عافیت عطا فرمائے۔

ربنا آتنا في الدنیا حسنه وفی الآخرة حسنہ وقنا عذاب النار آمین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s