حدیث ۔ ۹

الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد رحمة للعالمين

امام أحمد فی المسند 3/135 کے مطابق یہ معروف حديث ملتی ہے کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

 ” لا ایمان لمن لا أمانة له ولا دین لمن لا عهد له "

امانت داری کے بغیر ایمان  (قابل قبول)نہیں اور عہد کی پابندی کے بغیر دین نہیں( طریقہء زندگی مہذب  نہیں)۔

امانت  امن سے ہے۔یعنی جو فرد ان فرائض کو جو اس پہ الله تعالى نے عائد کئے ہیں ان کو پوری امانت داری سے( حتی الامکان) ادا کرتا ہے تو اس کے صلے میں  الله کے غصے اور عذاب  سے امن میں رہتا ہے۔اسی طرح الله کی مخلوق کے جو حقوق اس پہ واجب ہیں ان کو پوری امانت داری  سے ادا کرتا ہے تو لوگوں کو اپنی ذات سے امن و سکون  دیتا ہے خود بھی مطمئن رہتا ہے۔حقوقِ انسانی  وہ امانتیں ہیں جو اولاد آدم  کے پاس ایک دوسرے کی امانت کے طور پہ رکھی ہوئی ہیں، اور ان کو ادا کرنا ہی ایمان ہے۔ ایک امانت وہ ہے جو الله نے آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے رکھی تو وہ اس امانت کی ادائیگی سے ڈرگئےمگر انسان نے اس بار امانت کو اٹھا لیا۔امانت کی اسی بوجھل ذمہ داری قبول کر لینے  سے زندگی کی ساری امانتیں انسان کے حصے  میں آگئیں۔زندگی اور زندگی کی ہرنعمت الله کی امانت ہے جس کا حق ادا کرنا ضروری ہے۔انسانوں کے درمیان مالی معاملات،رائے مشورہ،  راز کی باتیں، حتیٰ کہ مجلس کی گفتگو امانت ہے۔کان جو سنتے، آنکھ جو دیکھتی ہے،وہ بھی امانت ہے۔غرض پوری دنیا اور پورا دین امانت کی صفت سے ہی کامیاب کہلاتا ہے۔وہ انسانوں سے معاملات ہوں یا عبادتوں کی ادائیگی ہم کہہ سکتے ہیں کہ دنیا اور آخرت کی ساری بھلائیوں کا دارومدار امانت داری سے مشروط ہے۔

حدیث کا دوسرا حصہ اس بات کی تکمیل کرتا ہے۔کسی بات، چیز معاملے کا امین  ہونا دراصل کسی عہد سے منسلک ہونا ہے۔ دین سے مراد مذہب ہے اور مذہب وہ طریقہ زندگی ہے جس پہ کوئی چلتا ہے۔وہ طریقہء زندگی رہن سہن، رسم و رواج کس سلیقے کا ہے؟ کیا اس طریقے کے اصول و قواعد ہیں؟ انسانوں اور جانوروں میں زندگی گزارنے کا فرق یہی ہے کہ وہ کوئی قانون اصول و قواعد نہیں رکھتے۔مہذب ہونا بھی کسی دین (طریقہء زندگی) سے وابستہ ہونا ہے۔دنیا میں بہت سے دین و مذاہب ہیں ان میں سے الله الخالق کو اسلام بطورِ دین پسند ہے

(ان الدین عنداللہ الاسلام)

 اور اس کے علاوہ جو بھی مختلف قسم کے دین ہیں ان کے مطابق زندگی گزارنے والے کبھی بھی الله کی نظر میں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتے۔اس دین (مہذب طریقہء زندگی) میں عہد کی پابندی بنیادی شرائط میں شامل ہے۔

پہلا عہد تو رب کے ساتھ ہے جس کو عہد الست کہتے ہیں، پھر آدم اور حوا کے درمیان رشتے کا عہد ہوا۔تو نکاح کا بندھن مہذب زندگی کا پہلاسلیقہ زندگی ہوا۔پھر نسب اور صهر کے رشتوں کا سلیقہ۔انسانوں کے درمیان چھوٹے بڑے مالی معاملات، کسی اصول وقاعدے سے طے پانا دین (سلیقہ زندگی) ہے۔ایک ماں کا بچے کو بہلانے کے لیے کوئی بات کہ دینا پھر اس بات کو نبھانا بھی زندگی کاحسن ہے۔ اگر اس کومحض ایک معمولی بات سمجھ کر بهلا دیا جاتا ہے تو زندگی کے چہرے کا حسن جھوٹ اور بد عہدی کے داغ سے مکروہ ہو جائے گا۔اسلام دین فطرت ہے،انسان کی ظاہری و باطنی دنیا و آخرت کے سارے معاملات کو اس کی تخلیق کے سانچے کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ یہ طریقہ زندگی کیا وہی نہیں جانے گا جو احسن الخالقین ہے؟ الا یعلم من خلق…

مہذب زندگی یہی ہے کہ لوگ اپنی نعمتوں ذمہ داریوں میں امانت دار ہوں اور اپنے ہر عہد کی پاسداری کرنے والے ہوں سب سے بڑی امانت زندگی ہے اور اس زندگی کا سب سے بڑا عہد” عہد الست "ہے اور اسلام ہی وہ دین ہے جو ہمیں اس امانت اور عہد سے عہد برآ ہونے کی ضمانت دیتا ہے۔

سوچنے اور غوروفکر کرنے بات یہ ہے کہ ہم کس طریقہ زندگی کو مہذب سمجھتے ہیں؟اور کس کس عہد کی پاسداری پہ پورا اترتے ہیں ؟اور زندگی جیسی امانت کے کتنے امین ہیں؟؟ ان سوالوں کے جواب بہر حال دینے تو پڑیں گے۔ ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہے اس سے پہلے کے حساب دینے کا وقت آن پہنچے۔

رضینا بالله ربا وبالاسلام دینا وبمحمد رسولا نبیا

اللھم أحفظنا بالإسلام قائماً واحفظنا بالإسلام قاعداً واحفظنا بالإسلام راقدا ولا تشمت بنا عدوا ولا حاسدا آمین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s