افتتاحیہ

نحمدہ ونصلی علی رسوله الکریم

 

الله رب العالمين کی تہ دل سے شکر گزار ہوں کہ اس نے یہ سعادت عطا فرمائی ہے کہ ہم چالیس روزہ دورہ حدیث کی مکرر تذکیر شروع کرنے جا رہے ہیں۔اس میں ہم منتخب احادیث کو سمجھنے اور عمل میں لانے کی کوشش کریں گے۔ اس سلسلے کے بارے میں آپ کی رائے کا انتظار رہے گا۔
ہم سب اپنے اپنے دل میں سکون کی اس کیفیت کو محسوس کریں کہ اس وقت ہم سب کے لئے کائنات کی ہر شے دعاگو ہے۔
ہم الله رب العزت کے ان مخصوص فرشتوں کے حصار میں ہیں جو خاص طور پہ ایسے طالب علموں کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔
الله تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے علم کے خواہش مندوں کی بابت فرمایا تها۔ سورہ الانعام کی آیت نمبر 54 میں آپ کے لئے ہم سب کے لئے اپنے پیارے رسول کو تاکید کی کہ آپ کو اور مجهے” السلام علیکم” کہ کر سلامتی کی دعا دیں ۔سبحان اللہ
قیامت تک کے لئے ایمان والوں کی خوش بختی ہے کہ نبی کریم کی طرف سے سلامتی کی دعا مل رہی ہے اور اس محفل میں آنے سے پہلے ان جانے میں ہو جانے والی خطاؤں سے درگزر کا وعدہ رب کی طرف سےمل رہا ہے . جن کے بارے میں خود الله اپنے نبی سے فرمائے کہ ان کو کہئے "سلام علیکم”. . تو بجا ہے کہ نازکیا جائے اپنی خوش بختی پر۔

 

(وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ۖ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۖ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ)

سورہ الانعام 54

جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہو "تم پر سلامتی ہے تمہارے رب نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کر لیا ہے یہ اس کا رحم و کرم ہی ہے کہ اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی برائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کر لے تو وہ اُسے معاف کر دیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے”
اور مزید خوش ہو جائیں کہ آپ کے بارے میں خود نبی اکرم نے فرمایا ہے
حدیث کا مفہوم بیان کر رہی ہوں اس کا تذکرہ ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم نے اپنی کتاب” محاضرات حدیث” میں کیا ہے۔
ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "اے الله میرے جانشینوں پہ رحمت فرما صحابہ کرام نے پوچھا آپ کے جانشین کون ہیں؟تو آپ نے فرمایا جو میرے بعد آئیں گے حدیث کا علم سیکھیں گے سکھائیں گے اور لوگوں تک پہنچائیں گے وہ میرے جانشین ہیں..اور یہ خوشخبری قیامت تک کے لئے ہے۔
اور یہ بشارت اس وقت آپ کے حصے میں آگئ ہے الحمدللہ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کو یاد رکھنا محفوظ کرنا ،سیکھنا، سکھانا ،پھیلانا فضیلت کی بات ہے
یہ تو آپ سب جانتے ہیں کہ حدیث مبارکہ کے علم کے بغیر کلام الله کے احکام سمجھنا مشکل ہے۔
حدیث کا کیا معنی ہے؟
حدیث کے معنیٰ ہیں کوئی نئی بات، نیا طریقہ جو ممتاز ہو. اس کو اس طرح بهی دیکھیں کہ الله کی ذات ہمیشہ سے ہے اس کا کلام بهی اس کی ذات کی طرح سچا ہے ہمیشہ سے ہے اور وہی کلام ہے جو آدم علیہ السلام کے ساتھ اتارا گیا اور ہر نبی سے ہوتا ہوا خاتم النبیین تک آیا یعنی "توحید اور آخرت”. اور اس علم کے ساتھ ایک رسول اتارا گیا۔
ہر نبی کو اس کے اپنے زمانے کے مطابق شریعت عطا کی گئ۔خاتم النبیین کی بات نئے دور کے مطابق ہے اور اس نبی کا دور قیامت تک نیا ہی رہے گا۔ اس لئے قدیم کلام الله (توحید اور آخرت کی تعلیم)تو وہی ہے لیکن دورجدید کے مطابق طریق زندگی رسول کی تعلیمات اور اعمال سے پتہ چلتی ہے۔اور اس علم کو "حدیث” کہا جاتا ہے۔نئی چیز،نیا کلام،نیا واقعہ سب سے منفرد اور ممتاز کلام کو "حدیث” کہتے ہیں۔ جس کو ماڈرن بهی کہا جا سکتا ہے۔اور میڈیا کی زبان میں بریکنگ نیوز بهی کہ سکتے ہیں
اب اس دورجدید کے تقاضے پورے کرنے کے لئے حدیث رسول اور سنت رسول ہی زمانے کے تقاضے پورے کر سکتی ہے۔اس علم کو حاصل کرنے کے لئے حدیث کا علم لازمی ہے۔ جس کو اپنے نبی سے محبت کا دعوی ہوگا اس کو ان کی ہر بات سے بھی لگاؤ ہوگا..اور یہ کیفیت دل کے حاضر ہونے سے حاصل ہوتی ہے
دل کی کیفیت میں گرمئ محبت کا احساس پیدا نہ ہو تو الله سے طلب کیجئے دلوں کا حال بدلنے پہ وہی قادر ہے لیکن وہ ان کا دل ہی بدلتا ہے جو اس کی تڑپ رکھتے ہیں..
نیت کا خالص ہونا کتنا ضروری ہے اس کا ہم سب کو علم ہے۔دعا ہے کہ ہمارا عمل ،علم سے آگے بڑھ جائے۔

 

ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا و هب لنا من لدنک رحمه انک انت الوهاب .

 

آپ سے مجهے جو الله کے لئے محبت اور تعلق ہے اس کے حوالے سے یہ گزارش ہے کہ وہاں مجھے پہچان کر میرا ہاتھ تهام لیجیے گا جہاں کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا مگر الله کی خاطر محبت کرنے والے ایک دوسرے کو پہچان لیں گے حوصلہ دیں گے..ان شاءالله
اللہ تعالی ہمارے نیک ارادوں میں ہمیں کامیاب فرمائے۔آمین


 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s