پیغام صبح ۔ ۵۶

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
حصول تقویٰ کے لئے حسب استطاعت کوشش کرنا مبارک ہو

الله رب العزت نے تقویٰ کی بنیاد پہ معزز ہونے کا معیار مقرر فرمایا. تقویٰ کو جنت کے حصول کا ذریعہ قرار فرمایا اور "فاتقوا الله ما استطعتم” کا اختیار دے کر آسانی فراہم کی..
استطاعت کے بارے میں ہمارا کیا خیال ہے؟استطاعت کا ہم صحیح اندازہ کیسے لگائیں؟نفس عیار ہے سو بهیس بدل لیتا ہے. استطاعت کے معنیٰ حتی الامکان کوشش کے بهی ہیں. اب جو استطاعت مالک نے عطاء کی ہے اس کا ایمان داری سے کھوج لگانا پڑے گا کیونکہ نفس تو کسی مشقت میں پڑنا ہی پسند نہیں کرتا. استطاعت جسمانی مطلوب ہے یا ایمانی؟ کیا جسمانی استطاعت وافر ہونے سے عبادت و فرماں برداری بهی زیادہ ہوتی ہے؟ غور کریں تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایمانی استطاعت کے امکانات کا شعور وافر ہو تو وہ معذور کمزور جسمانی استطاعت پہ بهی حاوی ہو جاتا ہے. اگر دونوں حالتیں ہی زیادہ استطاعت کی حامل ہوں تو "نور علی نور” ہے. دراصل ایمان کا پیمانہ ہی اطاعت کے امکانات کو روشن کرتا ہے.. تدبر کی بات یہ ہے کہ فرماں برداری کے لئے کیا ہم نے جسمانی، مالی استطاعت کو دریافت کر لیا ہے جو رب نے عنایت کی ہے یا کم استطاعت کے عذر صرف ہمارے نفس کی شرارتیں ہیں… کیونکہ ہر فرد سے محاسبہ اس کو ملنے والی ہر نعمت کے حساب سے لیا جائے گا. توانائیوں کی نعمت استطاعت کہاں خرچ کی؟الله کی راہ میں مال خرچ نہ کرنے میں کیا عذر مانع تهے؟ یہی تو فرمایا رب العزت نے کہ "ولتسئلن یومئذ عن النعیم” اس محاسبے والے دن ہر نعمت کے "لینے اور دینے” کے پیمانوں کو جانچا پرکها جائے گا. کیا واقعی ہم تقویٰ کی روش پہ چلنے کے سارے امکانات کا جائزہ لے کر تن من دهن سے حتی الامکان کوشش کیا کرتے ہیں؟استطاعت کا پیمانہ فانی دنیا کے لئے کتنا ہے اور آخرت کی ابدی زندگی کے لئے کتنا ہے؟؟
اے مالک دو جہاں؛ ساری کائنات کے آپ مالک ہیں.ہم کسی چیز کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں آپ ہمارے لئے نیکی کرنے کے سارے امکانات روشن اور آسان فرمایئے. ہماری ظاہری و باطنی استطاعت کو ہم پہ آشکار کر دیجئے ہمارے لئے تقویٰ کی راہیں ہموار کر دیجئے. اور ہماری استطاعت سے زیادہ ہمیں کسی آزمائش میں نہ ڈالئے ہم کمزور ہیں ہمارے ساتھ عفو وکرم کا معاملہ کیجئے ہمارا محاسبہ آسان کیجئے آمین
طالب دعا؛ بشری تسنیم

One Comment Add yours

  1. حنا نے کہا:

    اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکته
    پیاری بشری جی
    ابهی کچه عرصے سے اپکے آرٹیکلز پڑهنے کا اتفاق هوا
    بارک اللہ
    ساری تعریف رب العالمین کیلئے هے
    اپ سے ملا قات کا دل چاهتا هے.
    میں ابو ظہبی میں رهتی هوں.
    اپ سے اللہ کیلئے محبت کرتی هوں .
    میری دلی دعائیں اپکے ساته هیں .
    اللہ سبحان و تعالٰی اپکی کوشسوں کو قبول فرمائے
    اپکو جزائے خیر کثیر عطا فرمائے امین 🌹
    حنا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s