پیغام صبح ۔ ۴۴

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مومنوں کو حیا کی صفت مبارک ہو

حیا وہ پہلی صفت ہے جو” لا اله الا الله محمد رسول الله” کا إقرار کرنے والوں میں لازماً پیدا ہو جاتی ہے. حیا دراصل اس "حی لا یموت أبداً أبدا” کی طرف سے تحفہ ہے کردار کی حیات کا، حیا کے بغیر ہر عمل پہ مردنی چھا جاتی ہے .تروتازگی،بشاشت، سدا بہاری عمل حیا سے ہی نصیب ہوتا ہے. ہر تہذیب کی کوئ بنیاد ہوتی ہے .اسلامی تہذیب کی بنیاد حیا ہے.جو الله کو اپنا واحد إله مانتا ہے تو اسے حیا آتی ہے کہ اس الله وحده لا شریک کا لحاظ نہ کرے اس کی نافرمانی کرے اسے ناراض کرے.پہلا حکم محمد کو رسول الله مانناہے. اور رسول کی اتباع سے الله کی محبت ملے گی. مؤمن کو حیا آتی ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف سے مقرر کردہ راہنما کی بات نہ مانے. جب کلچر اور تہذیب کی بنیاد ہی حیا ہے تو ظاہری باطنی حیا کے تقاضے اتباع رسول سے خود ہی پورے ہوتے جائیں گے.اور ہم جانتے ہیں کہ نافرمانی کا پہلا نتیجہ مہذب لباس سے محروم ہونا ہے.جس قدر نافرمانی ہوتی جاتی ہے بے لباسی بڑھتی جاتی نوبت یہاں تک آجاتی ہے کہ لباس پہن کر بهی عریاں ہی لگتے ہیں . نبی کریم ص نے فرمایا حیا ہر چیز کو حسن بخشتی ہے اور بے حیائی ہر چیز کو عیب دار بنا دیتی ہے.
اے الله آپ کو حیا آتی ہے کہ اپنے بندے کو اپنے دربار سے خالی ہاتھ لوٹائے اس لئے ہم آپ سے التجا کرتے ہیں کہ ہمارے ہر عمل میں حیا کا حسن پیدا فرمادے. ہمیں ظاہری باطنی طور پہ حیا کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمادے. آمین
طالب دعا:بشری تسنیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s