دل بدست آور کہ حج اکبر است – 26

"دل بدست آور کہ حج اکبر است”

ہماری مخاطب وہ نو عمر لڑکیاں ہیں جن کے رشتے طے ہوچکے ہیں یا ابهی ہونے ہیں یا شادی کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے. ان کا نئے خاندان سے تعلق قریبی رشتہ داری کا ہوگا، خاندان برادری سے یا ملنے جلنے والوں سے تعلق رکھتا ہو گا یا پھر بالکل نئے خاندان کے افراد کے ساتھ نبها کرنے کا امتحان ہوگا.اگر سسرال والے انتہائی اعلیٰ اخلاق کے وسیع القلبی کے مالک ہوں گے ،قدردان ہوں گے تو  آپ کو  دنیا میں مل جانے والی اس جنت کی قدر کرنی ہوگی. قدردانی وہ اعلیٰ صفت ہے جس سے نعمتوں کو زوال نہیں آتا.خدانخواستہ اگر آپ کے سامنے اس سے بر عکس صورتحال ہے تو بهی قدردانی کی صفت آپ کے اندر موجود رہنی ضروری ہے بلکہ ان حالات میں زیادہ اہم ہے.
دل کی گہرائیوں سے اپنے مالک کل سے ہر صبح آج کے دن کی ساری  خیر طلب کرنا ہے. صبح شام کے اذکار کی اہمیت عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی بہت بڑھ جاتی ہے. ماحول میں جس بندے سے جس جگہ سے جس کام میں خیر ہو وہ نظر آجانا اس کا إحساس ہو جانا اور اس کی قدر کر لینا ایک عظیم نعمت ہے.نگاہیں خير کی تلاش میں ہوں تو  خیر تک ہاتھ پہنچنا آسان ہو جاتا ہے. اور نگاہیں اس کو ہی پا لیں گی جس کی دل میں خواہش اور تمنا ہوگی.یہ حقیقت ہے کہ انسان وہی تلاش کرتا ہے جس کی اسے ضرورت یا خواہش ہوتی ہے.اب یہ آپ کی صوابدید پہ منحصر ہے کہ آپ کس کی تلاش میں ہیں ؟ دل کو قدر دانی  اور شکرگزاری کی آماجگاہ بنا لینا سکون حاصل کرنے کی پہلی کوشش ہے.
سسرال میں اپنا مقام بنا لینے کے لئے  ان کی خوبیوں کا اعتراف کرنا سمجھداری کا پہلا زینہ ہے. عموماً لڑکیاں سسرال میں جاتے ہی میکے کی محبت میں انتہا کو پہنچ جاتی ہیں.اپنے والدین بهائ بہنوں سے جدائ ان کو ایک انوکھے امتحان میں ڈال دیتی ہے اب ان کی ہر خوبی آشکار ہوتی ہےبلکہ خامیاں بهی خوبیاں نظر آنے لگتی ہیں .افراط و تفریط کی اس کشمکش میں  سسرال میں ہر بندہ اور ہر کام غیر معیاری لگتا ہے. یہ شیطانی وار ہے جس سے قرب کی بجائے فاصلے بڑھتے ہیں. لڑکی کو سمجھداری کا ثبوت دینے کے لئے یہ باور کرنا ہوگا کہ وہ اپنے میکے کی   خوبیوں خامیوں والی مملکت  کی سرحد عبور کر کے نئ مملکت میں آگئ ہے.اب یہاں کا ڈومیسائل حاصل کرنے کے لیے حقوق و فرائض کی نئ شقوں پہ پورا اترنا ہوگا. اب اس بات کا قلق بے فائدہ ہے کہ میں نے والدین کی خدمت نہیں کی یہاں ساس سسر کی خدمت کرنا پڑ رہی ہے. یا میں نے تو کبھی کوئی کام نہیں کیا یہاں نوکروں کی طرح کام کرنا پڑتا ہے.یہ خیالات بهی شیطانی اور نفسانی اکساہٹیں ہیں. دل میں آنے والے ان شرور کو زبان پہ آنے سے روکنا ہوگا یہی تو اپنے نفس سے جنگ ہے. عمر کے ہر حصے میں حالات کے تقاضے الگ ہوتے ہیں. پر آنے والا وقت پہلے سے مختلف ہوتا ہے اور اسی کے مطابق اپنی عقل وخرد سے کام لے کر زبان کا استعمال کرنا ہوتا ہے.والدین اور بہن بهائیوں کی محبت کے تقاضے پہلے کچھ اور تهے اب کچھ اور ہیں. مقصدِ زندگی یہی ہونا چاہئے کہ جس میدان میں کھڑا کر دیا جائے وہاں احسن عمل کی پوری کوشش کی جائے. سسرال والوں کی عزت کرنا، ان کی اہمیت کو اجاگر کرنا، سلام پہ پہل کرنا، معمولی سے معمولی تعاون پہ شکریہ ادا کرنا، سب گھر والوں کی خوبیوں پہ نظر رکھنا، خامیوں سے صرف نظر کرنا، اپنے میکے سے موازنہ کرنے سے گریز کرنا، تنقیدی نظر سے ہر معاملے کو پرکھنے کی کوشش نہ کرنا ضروری ہے. شروع کے کچھ عرصہ تک اس پہ کاربند رہا جائے دل نہ چاہے تو بهی اپنی تربیت آپ کے تحت اس کی کوشش جاری رکھی جائے. ممکن ہے آپ کو تنقیدی نظر سے دیکھا جائے، آپ کی ناقدری کی جائے،دن میں کئی بار دل ٹوٹ جائے،مگر دل شکستہ نہ ہونے دیا جائے، ہمت نہ ہاری جائے،دلوں کو فتح کرنے کی ابتدائی کوششیں بہت ہمت طلب ہوتی ہیں . دل کی دنیا فتح کرنے کے سارے گر ناکام ثابت ہوں گے اگر جوابا لوگوں سے توقعات وابستہ کر لی جائیں گی اسکا نتیجہ یہ ہوگا کہ دل غم سے بهرا رہے گا اور
زبان پہ گلے شکوے بهی جاری رہیں گے.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s