ناقابلِ بیان رویہ

ناقابلِ بیان رویہ ……
(مولانا سید مودودی مرحوم کی یاد میں )
————————–
گزشتہ دنوں شارجہ میں انڈیا سے تعلق رکھنے والی ایک بہن نے اپنے گھر میں  اردو دان طبقے  کی بہنوں کے لئے مل بیٹھنے کا بہانہ  ایک دعوتِ طعام کے ذریعے کر رکھا تها اور کهانے سے پہلے حسب دستور درس قرآن اور باہم گفتگو تهی .  تفہیم القرآن کے حوالے سے سید ابو الاعلی مودودی مرحوم کا تزکرہ ہوا تو ان سے عقیدت کا اظہار بهی کیا گیا..کھانے کے بعد ایک خاتون  میرے پاس  آئیں اور بہت اشتیاق سے پوچھا کیا آپ نے مولانا سے کبھی ملاقات کی تهی؟ میں نے بتایا کہ  ہمارا ان سے بہت قریبی تعلق تها تو وہ کہنے  لگیں کہ میں نے اکیلے میں آپ سے ایک  ضروری بات کرنی ہے.
دوسرے کمرے میں جا کر انہوں نے مجهے  بتایا کہ میں بر صغیر کے ایک مشہور عالم دین کی پوتی ہوں. میرے دادا مولانا کے سخت خلاف تهے.اپنی تحریروں میں خطبوں میں نجی محفلوں میں ان کے کردار کو ان کے عقیدے اور تبلیغ کے طریق کار کو تختہ مشق بناتے تهے. ایک  بات اکثر  نجی محفلوں میں  اور گھر والوں کے سامنے دہراتے تهے کہ ” "مودودی کا تکلیف دہ رویہ ناقابلِ بیان ہے”
ہم اپنی عقل اور عمر کے مطابق  تکلیف دہ رویہ کا اندازہ لگاتے اورمولانا مودودی سے نفرت اور دادا جان سے ہمدردی میں اضافہ کرتے  کرتے شعور کی عمر کو پہنچے. دادا جان کو مولانا مودودی کے ناقابلِ بیان تکلیف دہ رویہ کا شکوہ  مرتے دم تک ختم نہ ہوا.
کیا  آپ کو پتہ ہے کہ وہ ناقابلِ بیان تکلیف دہ رویہ کیا تها؟ خاتون نے مجهے پوچھا  .میں نے نفی میں سر  ہلایا .. تو وہ گویا ہوئیں..
ایک دن دادا جان اپنے خاص دوستوں کے ساتھ گهر میں بیٹھے تهے ،مودودی مرحوم کا زکر آگیا تو کہنے لگے
"جب یہ مودودی ہماری باتوں سے مشتعل نہیں ہوتا، کوئی نوٹس ہی نہیں لیتا، گویا کہ ماتھے پہ شکن بهی نہیں آتی تو خدا کی قسم اس کے ایسے رویہ سے بہت تکلیف ہوتی ہے کیونکہ اس طرح اسے  اخلاقی برتری اور زیادہ حاصل ہو جاتی ہے.اسے اپنے سے کمتر ثابت کرنے اور عوام کی نظروں سے گرانے کا ہمارا تو مقصد ہی پورا نہیں ہوتا. اور یہ ظاہر ہے یہ بات بیان بهی نہیں کی جا سکتی کسی کے سامنے. ..”
دوستوں نے تائید کی کہ  "واقعی مودودی کا  ایسا تکلیف دہ رویہ ناقابل بیان ہے ”
خاتون کے چہرے پہ ملال تها.
".الله میرے دادا جان کو معاف کرے.آپ  بهی معاف کر دیں ..اپنی جماعت کو میرا پیغام دے دیں وہ بھی ہمارے دادا کو معاف کردے .”.
” آمین ” میں نے بے اختیار کہا..
میرے ہاتھ کو انہوں نے بڑے جزب سے دبایا اور بولیں
ایسے” ناقابلِ بیان تکلیف دہ رویہ  ” جن کے ہوں وہ   آنے والے دور کے لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں. اورشجر طیبہ کی مانند ہوتے ہیں..
پهر شدت جزبات سے مغلوب ہم دونوں ہی خاموش  تهیں..
بشری تسنیم
http://www.bushratasneem.wordpress.com

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s