دعا – 15

"دعا”
کسی بهی کام، منصوبے ارادے خواہش یا تمنا کی تکمیل کا پہلا نکتہ الله رب العزت کی بارگاہ میں دعا کرنا ہے.اس سے التجا کرنا ہے،درخواست کرنا ہے اس کے حضور گڑگڑانا ہے دعا مانگنی نہیں آتی رونا گڑگڑانا نہیں آتا تو بهی اسی رب کے سامنے سر جهکانا ہے کہ وہ الفاظ، وہ جزبہ وہ دل عطا کردے جس سے وہ راضی ہوجائے اور مانگنے کا سلیقہ عطا کردے. .
شریک حیات  کا انتخاب دنیا میں سب سے زیادہ اہم ہے.اتنا ہی اہم جتنا کہ خود زندگی اہم ہے. .
"ساری دنیا ایک متاع ہے اور صالح بیوی سب سے  بہترین متاع ہے

بہترین متاع کے حصول کی دعا کرنے کی ضرورت،کسی خاص عمر میں جا کر نہیں بلکہ بہت پہلے سکهائ گئ ہے..جب والدین بچوں کو نماز سکھانا شروع کرتے ہیں تو شریک زندگی اور نیک اولاد کی دعا سکهائ جاتی ہے لیکن ہم شعوری طور پہ اس طرف دهیاں اور توجہ نہیں دیتے اور نہ ہی نیت کرتے ہیں..
جب ہر رکعت میں اهدنا الصراط المستقيم کی  دعا کی جاتی ہے تو ہر فیصلے ہر قدم ہر سوچ اور ارادے کو صراطِ مستقیم پہ گامزن رکهنےکی ضرورت ہوتی ہے.   وہ ارادہ مستقبل قریب کا ہو یا بعید کا یا بعید ترین کا ،جب گمراہ اور مغضوب لوگوں سے بچنے کی التجا ہوتی ہے تو وہ قریب کے زمانے کے ہوں یا بعید کے رشتے دار ہوں یا غیر کوئ خاندان ہو یا فرقہ سب ہی شامل ہوتے ہیں. انسان کی پرواز فکر پہ منحصر ہے کہ اس کی اڑان میں کتنا یارا ہے..
ربنا هب لنا من ازواجنا  وذریتنا قرةاعین وجعلنا للمتقين إماما  (سورہ فرقان )
اس دعا میں ایسی آئیڈیل  شریک حیات اور اولاد کے حصول کا طریقہ بتایا گیا ہے جو دنیا و آخرت میں سرخ روئ کا باعث ہوگی.. اس دعا کو کرنے کے لئے عمر کی کوئ شرط نہیں ہے.جتنی کم عمری میں اس درخواست کو الله کے حضور جمع کرایا جائے گا قبولیت کے امکانات بڑھتے جائیں گے.جب إنسان کو شریک حیات اور حصول اولاد کی تمنا سے مفر نہیں تو اس کے لئے شعوری دعا سے فرار کیسے ممکن ہے؟
رب اجعلنی مقیم الصلوة ومن ذریتی  ہر نماز کے اختتام پہ کرنے کی تلقین صرف صاحب اولاد کو نہیں کی گئ بلکہ مستقبل کے والدین کے لئے بهی اتنی ہی اہم ہے. وہ اگرچہ  ابهی خود بچہ ہے مگر اپنی اولاد کے لئے دعاگو ہے.اور ساتھ ہی  یہ بهی سکھایا گیا کہ
رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التي أنعمت علی وعلی والدی وان اعمل صالحا ترضاه و أصلح لی فی ذریتی انی تبت الیک وانی من المسلمین

والدین اور اولاد کے ساته ہرانسان کی وہ تکون ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی والدین موجود ہیں اولاد کی موجودگی کے امکانات بعید ہیں مگر اس کے لئے دعا کی تلقین ہے ..اور جب أولاد موجود ہے والدین حیات نہیں تب بهی دعا کی یہ تکون قائم رہتی ہے.
سیدنا موسی علیہ السلام کی دعا نوجوانوں کے لئے ایک آئیڈیل دعا ہے.بے سروسامانی میں اپنے رب سے مخاطب ییں اور قابل غور بات یہ ہے کہ اخلاق کے بہترین مظاہرے اور بغیر کسی طمع و لالچ کے کمزور اور بے بس لڑکیوں کی مدد کرتے ہیں اور الله کے حضور اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہیں
انی لما أنزلت إلی من خیر فقیر

الله رب العزت نے روزگار،گهر بار کا انتظام کر دیا.  الله رب العالمين پہ توکل اور الله کے لئے کار خیر اور اخلاق حسنہ  کا صلہ مل کے رہتا ہے..
اولاد کی تربیت کا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے تیار کی گئ ہو. اولاد آدم کے خلیفہ الارض ہونے کا یہی مطلب ہے کہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل اس دنیا کو آباد رکهے.. اس کے لئے شریک حیات  کی  ضرورت  امر لازم ہے..
ہم اپنی اولاد کے لئے بہترین تعلیمی ادارے کا انتخاب کرتے ہیں، گهر میں کام کاج کرنے والے نوکروں کے اخلاق اور ان کی کام میں مہارت کو جانچتے ہیں. کهانے پینے اور دواؤں زائد المیعاد تاریخ پہ توجہ رکهتے ہیں علاج کے لئے بہترین ڈاکٹر کو تلاش کرتے ہیں..مگر بد قسمتی سے اولاد کے لئے مثالی میاں بیوی کا کردار ادا کرنے میں کوتاہی برتتے ہیں.کامیاب شریک حیات بننےکے لئے نمونہ اور استاد اپنے ہی والدین ہوتے ہیں.  شوہر اور بیوی کے آپس میں تعلقات برتاؤ اخلاق و کردار کا اثر اولاد کی جسم وجان میں رچ بس جاتا یے. لہجے کا اتار چڑھاؤ، چہرے کے تأثرات، لفظوں کا انتخاب سکهانا نہیں پڑتا  وہ اولاد کی زندگی کا حصہ خود بخود بن جاتا  ہے..
کسی بهی غلطی کی اصلاح کا پہلا قدم یہ ہے کہ غلطی کا صحیح معنوں میں ادراک ہو.پهر غلطی پہ ندامت ہو، استغفار اور توبة النصوح کے بعد دعا وہ معجزہ ہے جس سے انسان کے ناممکن کام بهی ممکن ہو جاتے ہیں..دعا مومن کا ہتھیار ہے. نفس کے خلاف شیطان کے خلاف، ہر پیش آمدہ رکاوٹ کے خلاف، دعا کے بغیر ہر  جدوجہد بے اصل ہے..دعا اور دوا ایک دوسرے کا تکملہ ہیں یہ ایسا جوڑا ہے جس کا الگ ہونا ممکن نہیں. وسائل کی فراہمی کے لئے دعا اور پھر وسائل کا کما حقہ استعمال اور  الله سے مدد اور استعانت کامیابی  کی دعا،یہی کامیابی کا راز ہے
امت مسلمہ کی زبوں حالی کی وجہ مؤمن معاشرے کا نہ ہونا ہے ،معاشرے کی پہلی اکائ گهر ہے اور گهر کی بنیاد إبن آدم کا مضبوط کردار ہے. مومنانہ کردار کی تعمیر  کے لئے آج سے اپنی دعاؤں میں جان ڈالئے ،روح کی آبیاری کیجئے، دعا کی شعوری کوشش کیجئے. اور دوا کے وسائل  کو بهرپور استعمال کیجئے. زندگی کو مثالی بنانے کے لئے مثالی شریک زندگی بنئے اور الله کی نظر میں جو بہترین  شریک زندگی کی خوبیاں ہیں اس کے حصول کی کوشش کیجئے اگر  حاصل ہے تو اس کی قدر کیجئے.
تحریر  ڈاکٹر بشری تسنیم.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s