کامیاب تجارت (5)

کامیاب تجارت
پاکیزہ زندگی  بسر کرنےکے لئے پاکیزہ اور حلال رزق  شرط ہے تو رزق حلال کے حصول کے لئے پہلا قدم حرام و حلال کی پہچان رکهنا ہے.پہچان،علم حاصل کرنے سے ہوتی ہے اور علم حاصل ہوجانے کے بعدجب علم کا إطلاق کسی  عمل کی شکل میں ظہور پزیر ہوتا ہے تو انسان  کی شخصیت و کردار تشکیل پاتا ہے. اور حاصل شدہ علم کے مطابق زندگی بسر کرنا  ایمان لانے کی عملی شکل ہے.جو فرد اپنے علم کو حق  جانے پہر اس پہ عمل نہ کرے  وہ اس گدھے کی مانند ہے جس پہ کتابیں لدی ہوں. علم اور عمل یا ایمان اور عمل لازم وملزوم ہیں.
جس کام میں نفع و نقصان کے مواقع جتنے زیادہ ہوتےہیں اس کے بارے میں علم، واقفیت، پہچان ہر انسان کو  اتنا ہی زیادہ بےچین رکهتی ہے اور نفع و نقصان کے اصول و ضوابط  سے  واقفیت کے لئے کوئ دقیقہ فرو گزاشت نہیں رکها جاتا. جس طرح ہر مؤمن جانتا ہے کہ زمزم جیسا مطهر پانی بهی بول وبراز کے ایک چهینٹے یا ذرے سے  زمزم نہیں رہتا اسی طرح حلال رزق میں  حرام کی تهوڑی سی ملاوٹ بهی ساری کمائی کو حرام کر دے گی.وہ کون سے عوامل ہیں کون سے ذرائع ییں جو حلال ہیں اور کن راستوں سے حرام  داخل ہوتا ہے اس کی مکمل پہچان اور علم ہونا ضروری ہے .ان لوگوں کو ہی اس علم کے حصول کی فکر ہوگی جن کی نیت و نظر اپنی دائمی کامیاب تجارت ہہ ہوگی اور جو اپنے رب کی فرماں برداری میں پیش پیش ہوں گے. ان کو کسی ایسے رزق کی تمنا یا خواہش نہ ہوگی جس سے ان کی ایمانی حرارت میں سرد مہری کا خطرہ ہو یا آفاقی  پرواز فکر میں کوتاہی کا اندیشہ ہو..
حلال وحرام کا علم حاصل کرنے کے بعد رزق حلال کی تلاش کے لئے محنت کرنا فرض عین ہے.اس لئے کہ ہر انسان کو وہی ملے گا جس کے لئے اس نے سعی و جہد کی ہوگی (لیس للإنسان إلا ما سعی ).رزق کے حصول کے لئے کسی ہنر میں طاق ہونا بهی پسندیدہ ہے ذریعہ معاش کوئ بهی ہو  ، مہارت سے انسان کی شان بڑهتی ہے رزق حاصل کرنے کے لئے  محنت تگ و دو ہر جاندار کا خاصہ ہے.انسان اس تگ و دو میں ممتاز ہے اور مؤمن رزق حلال کی تلاش، محنت، کوشش،مستقل  جدوجہد کرنے سے الله کا محبوب قرار پاتا ہے اور اس دن عرش الہی کے سائے کا حقدار ہے جس دن کوئ سایہ نہ ہوگا.کیونکہ کسب حلال عین  عبادت ہے.جو الله تعالى  کے  فرماں بردار ہوں گے ان کو اپنے رب الرزاق پہ کامل بهروسہ توکل بهی ہوگا .اور   الله الرزاق کی تقسیم پہ  کبهی کسی شک  کا شائبہ بهی نہ ہوگا، بعض اوقات زیادہ محنت کرنے کے باوجود   رزق  کی فراوانی نہیں ہوتی یہ ایک امتحان ہو سکتا ہے اس وقت غور کرنا چاہئے کہ ہو سکتا ہے الله نے  کسی اور طرح کے رزق کی فراوانی کر رکهی ہو.مثلا تهوڑے مال میں برکت عطا کر رکهی ہو  بے شک رزق حلال کاایک لقمہ کسی بڑے خوان سے بہتر اور بابرکات ہوتا ہے.  ممکن ہےفرماں بردار اولاد نصیب ہوگئ ہو.صحت کی دولت سے نواز رکها ہو عافیت کی نعمت کے ساته پرسکون دل دے دیا ہو. عبادت اور دعا میں میں حلاوت  عطا کر دی ہو.  رب کی اپنی تقسیم ہے اور وہ اپنے بندوں میں اچهے برے حالات کا الٹ پہیر کر کے ان کے ایمان کی پرکه کرتا رہتا  ہے. . نعمتوں کی تقسیم کا پیمانہ رب العلمین کے پاس ہے ہر فرد کے لئے  غور و فکر کا مقام یہ ہے کہ اس کو آلله الرزاق نے کس کس  رزق سے نواز رکها ہے جو دوسرے کے پاس نہیں ہے .(فبای آلآء ربکما تکذبان )  ہر کسی  کے مقدر کا رزق وقت کے ساتھ  متعین ہے .کس عر صہ زندگی میں کون سا رزق دیا جائے یہ  الله تعالى بہتر جانتے ہیں اس لئے کہ خالق اپنے بندوں کی حاجات اور ان کے  پیمانہ ظرف سے بخوبی واقف ہے وہ جانتا ہے کب کس کو کتنا اور کیا  عطا کیا جانا چاہئے. کیا ایک ماں نہیں جانتی کہ اس کے بچے کو کب ،کتنا  کیسا اور کون سا کهانا اور  کونسی چیز  دی  جانی چایئے؟( ولله المثل الاعلی) رزق کو حرام یا حلال  بنا لینے کی وجہ رزق حاصل کرنے  کے طریقہء عمل  پہ  بهی منحصر ہے اور یہی امتحان ہے .. سمندر کی مچھلیاں تو اسی دن بهیجی جائیں گی جب ان کو پکڑنا منع ہوگا . جب علم حاصل کر لیاکہ  کون سا طریقہ جائز  ہے اور کون سانا جائز تو اس علم  میں کامیاب ہونے کے لئے ٹیسٹ بهی دینا ہوگا . امتحان کے بغیر آخر کون سی ڈگری ملتی ہے؟
ہر نعمت  (رزق )وراثتا میسر ہوگیا یے  یا جو خود کمایا ہے، ہر مال کے بارے میں محاسبہ ہوگا اور لازماً ہوگا کہ کس طریقہ سے حاصل کیا ہے؟دیگر وارثوں کا حق مارا یا خیانت کی ہے اور  اگر مال مکمل حلال بهی ہو تو پوچها ضرور جائے گا کہ کیسے خرچ کیا ہے؟ جس کو محاسبے کا مکمل احساس و ادراک ہوگا وہ اپنی کمائی اور اعمال پہ نظر  رکهے گا  کہ اپنے "کل "کے لئے وہ کیا جمع کر رہا یے (ولتنظر نفس ما قدمت لغد)جو ا پنے” کل”کی فکر میں مبتلا رہے گا وہ ہر حال میں ہر لمحہ ہر مقام پہ تنگی ہو یا فراخی  الله کا تقوی ہی اختیار کرے  گا.تقوی سے ہی جنت کا ابدی رزق حا صل ہوگا.
انسان کا  مال وہ نہیں جو وہ یہاں کی فانی زندگی کے لئے کما رہا ہے اور جمع کر رہا ہے بلکہ اس کی اصل دولت وہ اعمال ہیں جو وہ اپنی آخرت کے بینک میں جمع کر رہا ہے یہی وہ کسب ہے جو اس نے الله تعالی کی عطا کردہ ہر نعمت  (رزق) کے استعمال کے نتیجے میں جمع کروایا ہوگا . جیسا کرو گے ویسا بهروسہ گے (لها ما کسبت و علیها ماکتسبت) مخلوقات میں شرف انسانی کا حاصل ہو جانا (لقد خلقنا الإنسان فی أحس تقویم)،  مہلت عمر،  عقل و فہم، باہم رشتے ناطے اور انسان کے لئےکائنات کی ہر شے کا مسخر کر دیا جانا  وہ عظیم الشان نعمتیں ہیں جن کا حق ادا کرنا یہی ہے کہ ان کے ذریعے اللہ الخالق و مالک کی رضا  اور جنت جیسا مقام  حاصل کیا جائے جوبهی الله سبحانه وتعالى کی رضا اور جنت حاصل کرنے میں ناکام رہا اسی نے خسارے کی تجارت کی اور جو اس میں دیوالیہ ہوا اس نے اپنی جان پہ ظلم کیا.کامیاب تاجر وہ ہے جو اپنی مہلت عمر کی ہر کرنسی  (نعمت رزق)کو اس تجارت میں لگائے جس میں دیوالیہ ہوجا نے کا ہر گز خطرہ نہ ہو..
ان الله اشتری من المؤمنين أنفسهم و أموالهم بأن لهم الجنة (سورت  توبہ)

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s