مسابقت (7)

"مسابقت ”
زندگی یا مہلت عمر اگر ایک کرنسی ہے اور یہی تجارت کے لئے راس المال ہے تو اس مال سے نفع بخش تجارت  کا حصول بنیادی اصول و قواعد پہ عمل کرنے کی شرط کے ساته ہی کامیاب ہونے کی دلیل ہے.کسی بهی میدان عمل میں مسابقت  کے امکانات ہی سے صلاحیتیں، قابلیتیں اجاگر ہوتی ہیں اور کامیابی کی راہ ہموار ہوتی ہے.
الله رب العزت نے آدم اور  حوا کو اس کاروبار دنیا میں اسی  مسابقت کے میدان عمل میں اتارا. .(  الذی خلق الموت والحياة لیبلوکم ایکم أحسن عملا.. الملک  2 ).   مسابقت کا ایک جزبہ تو آدم و حوا کے درمیان تها  کہ دونوں  میں سے کون اپنی زندگی میں اپنے حصہ کی ذمہ داریوں  سے عہدہ برآ ہونے کے مراحل  میں اپنے رب کی رضا کو مقدم رکهنے میں  زیادہ مستعد ہے.. دوسرا  مقابلہ انسان  (آدم و حوا) اور شیطان کے درمیان تها کہ  شیطان راس المال  کو چهین نہ لے یا خسارے کی تجارت میں نہ لگا دے..
شیطان کا مقابلہ دونوں نے مل کر کرنا ہے ایک دوسرے کا ہاته تها مے رکهنا ہے اس لئے کہ دونوں کا دشمن ایک ہی ہے .اور ایک دلچسپ، اور خوشگوار  دوستانہ مسابقہ دونوں اصناف کے درمیان  ہے..اس مسابقت میں تنگ دلی، نفرت، دشمنی نہیں بلکہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے راستے  (دنیا) کو آسان بنانا ہے،وسعت قلبی. محبت اور بشاشت کے ساته کہ دونوں کا محبوب حقیقی اور منزل ایک ہی ہے. جب دشمن بهی ایک ہی ہو اور منزل مراد بهی یکساں ہو تو ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لئے  ایک دوسرے کی معاونت میں لطف و سرور آجا تا ہے.
"عهد الست” کے بعد پہلا عهد” نکاح” ہے.جو الله سبحانه وتعالى کے متعین کردہ قواعد و ضوابط کے تحت قائم کیا جاتا ہے..ساری انسانی معاشرت کی عمارت اسی بنیاد  پہ استوار  کی گئی ہے. اس عمارت کی بنیاد جیسی ہوگی ویسا ہی معاشرہ وجود میں آئے گا..جیسے قواعد وضوابط اس  کے ہون گے جیسی ترجیحات اس رشتے کو قائم کرنے  اور نبهانے کی ہوں گی ویسے ہی نتائج سامنے آئیں گے. جانوروں اور انسانوں  کی  معاشرتی زندگی  اور بقائے نسل کے سلسلے میں  معاهدوں کا  ہونا ہی دونوں کے درمیان  امتیازی فرق ہوتا ہے.  معاہدوں کو ایمان داری سے نبها نے والے   اور نہ نبهانے والے انسان کبهی  برابر نہیں ہو سکتے.
شریک زندگی کا انتخاب ہر انسان کی معاشرتی مجبوری  ہے تو مومن کے لئے  یہ انتخاب  اپنی دائمی معاشرتی زندگی کو دائمی کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے.. یہ  سوچ شریک زندگی کے انتخاب کا رخ متعین کرتی اور اس کو ایفائے عهد و وفا کا حسن عطا کرتی ہے.  اور حقیقت یہ ہے کہ  سارے انسانی اوصاف کا امتحان اسی ایک رشتے میں مخفی ہوتا ہے. انسانی جزبات کے سارے اچهے برے اخلاق کے امکانات مرد اور عورت کو ودیعت کئے گئے.دونوں کو ” فاستبقو الخیرات "کا  موقع برابر عطا کیا گیا. دونوں کی ہدایت  و راہنمائ کے لئے وہی  ایک نبی اور ہدایت اتاری دونوں کو ایک ہی زمین کا میدان عمل دیا گیا. دونوں کے لئے سزا اور جزا کا ایک ہی قانون اتارا گیا..دونوں کے نیک اعمال کا صلہ ضائع نہ ہوگا .دونوں سے "حیاةطیبہ ” کا وعدہ کیا گیا.دونوں کو برابر ایک جیسی جنت کی طرف دوڑنے کی ترغیب دلائی گئی..دونوں سے  ہی الله سبحانه وتعالى نے اپنی رضامندی (و رضوان اللہ اکبر) اور دیدار کرانے کا وعدہ کر رکها ہے..فرق صرف اتنا ہے کہ قدرت نے ہر شے کا جوڑا (زوج) بنایا. جو ایک دوسرے کی تکمیل ہے.اور مکمل کامیابی کے حصول کی واحد شکل یہ ہے کہ دونوں  (زوج)ایک دوسرے کے ساته  تعاون کریں .اس عهد سے وفا  کریں جو ان کے اور رب کے درمیان یے اور جو اسی رب کے نام پہ مرد و  عورت کے درمیان قائم ہواہے  جس کو الله الخالق نے اپنی نشانی بتایا ہے.(ومن آیته ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنواالیها وجعل بینکم مودة ورحمه .ان فی ذالک لایات لقوم یتفکرون ..سورہ الروم 21)اس مقدس رشتے میں خیانت اور منافقت نہ کریں. ایکم احسن عملا  کا دوستانہ مسابقہ قائم کریں.رشتہ میاں بیوی کا ہو یا اس رشتے کی وجہ سے وجود میں آنے والے باقی سارے  رشتے اختلافات ہونا عین فطری عمل ہے. جہاں بهی مزاجوں کا اختلاف ہو یا فرائض و حقوق کی جنگ الله تعالى نے یہ دیکهنا ہے کہ دونوں فریق کے بہتر عمل میں  سےبهی احسن عمل کس کا یے؟
احسن عمل کی کڑی عهد الست سے جڑی ہے.اور  یہی اپنے رب سے وفا ہے.. اپنے رب سے بے وفائی دنیا کے ساری وفاؤں کی نفی کر دیتی ہے. .ایک عاقل بالغ انسان کی باعزت  معاشرتی  زندگی کی ضمانت اس کا اپنے زوج سے عهد نبهانا ہے.معاشرے کا سارا فساد نکاح کے عهد  میں خیانت،بے ایمانی اور بے وفائی ہے.جس گهر یا معاشرے میں زوجین کے درمیان عهد وفا(نکاح کی پاسداری) نہ رہے وہاں  باقی سارےمعاشرتی معاہدوں  اور معاملات کی پائیداری بے اصل ہوجاتی  ہے. کهوکهلی بنیاد پہ عمارت قائم رکهنا  آخر کب تک ممکن ہے.؟
شیطان کا سب سے اہم ٹارگٹ یہی محاذ ہے..اس محاذ سے انسان کی پسپائی ایسا نقصان ہے کہ ساری دنیا  کی فتحیابی بهی اس کا ازالہ نییں کر سکتی .
فاعتبروا یا اولی الأبصار
ربنا هب لنا من ازواجنا وزریتنا قرةاعين وجعلنا للمتقين إماما آمین   .

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s