پاکیزہ زندگی (۳)

"پاکیزہ زندگی”
خوب صورت اور پر سکون زندگی کی بنیادی حقیقت متوازن زندگی ہے تو "پاکیزہ زندگی” اس حقیقت کی روح  ہے.
انسانی فطرت طبعاً   نجاست کو ناپسند کرتی ہے.. رہن سہن کی جگہ ہو کهانا پینا ہو یا لباس، صفائی   انسان کے دل کو بهاتی ہے.صاف ستهرا جسم،معطر لباس اپنے لئے تو باعث طمانیت ہوتا ہی ہے دوسروں کے لئے بهی خوشگواری کا باعث بنتا ہے.انسان جس مقام پہ بهی  اپنا  وقت کم یا زیادہ گزارتا ہے .بس سٹاپ ‘ گهر ہو یا دفتر اپنے ماحول کو  صاف ستهرا دیکهنا چاہتا ہے.انسان کی کارکردگی پہ ماحول  کے پراگندہ ہونے یا پرسکون ہونے سے واضح اثر پڑتا ہے.
ہمارا روز مرہ کا مشاہدہ اور تجربہ ہےکہ باسی کهانا ہو ، میل کچیل پسینے کی بد بو والاجسم ہو، یا میلا لباس ہمیں پژمردگی کا احساس دلاتا ہے.نہا دهو کر ستهرا لباس پہننے اور خوشبو لگانے سے طبیعت ہشاش بشاش ہو جاتی ہے. جسم اور لباس دونوں ہی ستهرے ہونا لازمی ہیں. گندے میلے بدبودار بدن پہ شاہی لباس بهی پہن لیا جائے تو طبیعت میں بشاشت نہیں آسکتی ، قیمتی عطر سے  معطر  لباس کے باوجود.انسان اپنے بدن کے  میل کچیل کو محسوس کرتا رہے گا. اسی طرح معطر پانی سے غسل بےکار ہے اگر گندا میلا بد بو دار لباس ہی پہننا ہے. بدن اور لباس دونوں صاف  ستهرے ہونا لازمی ہے.
مؤمن کی زندگی محض صاف ستهری نہیں ہوتی بلکہ پاک و صاف  ہوتی ہے. پاک ہونا، صاف ستهرے ہونے سے افضل تر  یے.اورایمان لانے کی شرائط میں شامل ہے. عموماً انسان  صفائی پسند ہوتے ہیں لیکن مؤمن کے لئے پاکیزگی فرض ہے. اس فرض کی ادائیگی زندگی کے ہر سانس سے منسلک ہے.وقت کا کوئ لمحہ، زندگی کا کوئ پہلو اس  پاکیزگی سے مبرا نہیں ہو سکتا. مومن اور کافر و مشرک کے درمیان  کلمہ توحید "لا اله الله” ہی واحد کسوٹی ہے.. الله تعالی کی نظر میں مشرک "نجس ” ہے اگر چہ اس نے صفائ ستهرا ئ کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے ہوں. گویا کہ پاکیزگی باطن سے تعلق رکهتی ہے  عقیدہ اور زندگی کا نظریہ  شرک کی نجاست سے پاک ہو تو روح ہشاش بشاش ہوسکتی ہے.روح الله کا "أمر ” ہے.الله خود پاک ہے پاک چیزوں کو پسند فرماتا ہےاور اس کے سب اوامر و نواہی پاکیزگی کی طرف راہنمائ کرتے ہیں.باطن کی پاکیزگی اخلاصِ نیت کے ساته مشروط ہے. افکار پاک ہوں گے تو اقوال بهی پاکیزہ ہوں کے اور انسان جو بولتا ہے وہی اس کے اعمال میں ڈهل جاتا ہے.اور اعمال  ہی کے عوض ہر انسان گروی رکها ہوا ہے.(.کل ءامری بما کسب رهین)
بدن اور لباس دونوں کا صاف ہونا برابر اہمیت رکهتا ہے تاکہ انسان کے مزاج پہ خوشگوار اثرات مرتب ہوں.تن کی زینت اور پردہ پوشی لباس سے ہے.اسی طرح ہمارا  بدن روح کا لباس ہے. بدن اور روح کی پاکیزگی بهی لازم و ملزوم ہے.. روح کی پاکیزگی مومن کے لئے بہت زیادہ اہمیت رکهتی ہے اسی طرح جیسے کہ بدن اور لباس دونوں کا پاکیزہ ہونا اہم ہے. . اگر انسان کا بدن اور جسم  میلا ہے پسینے سے بهیگا ہواتو ہے مگر ناپاک نہیں ہے   روح پہ گناہوں کی میل نہیں ہے تو ایسا انسان مطمئن ہوگا اس لئے کہ اطمینان اور سکون روح کے اطمینان  سے  حاصل ہوتا ہے. اور روح کو  الله رب العزت سے نسبت ہے( فنفخت فیه من روحی ) اسی لئے قلب و روح کو الله تعالى کی یاد سے ہی قرار ملتا ہے (الا بزکر الله تطمئن القلوب )
الله سبحانہ و تعالیٰ  نے اپنی محبت ان لو گوں کے لئے واجب کر دی جو پاک زندگی گزارتے اور رجوع الی الله کو اپنا شعار بناتے ہیں.( ان الله یحب التوابين و یحب المتطهرین )
ظاہری نجاستیں پانی سے دور ہوتی ہیں،وضو، غسل سے انسانی جسم کا ہر عضو ناپاکی اور نجاست سے نجات حاصل کر لیتا ہے شرط یہ ہے کہ نیت محض   صاف  ستهرا ہونے کی نہ  ہو بلکہ پاک و مطهر ہونے کی ہو.  پاکی حاصل کرنے کے لئے  پانی مطهر ہو  جہاں وضو یا غسل کیا جا رہا ہو وہ جگہ پاک ہو صابن میں ناپاکی کا شبہ  نہ ہو.جو برتن استعمال ہوں وہ پاک ہوں . پہر بدن کو پاک کر کے اس کو جو لباس پہنایا جائے وہ پاک ہو.غرض پاکیزگی مومن کی جبلت میں شامل کر دی گئ ہے.
. انسان کا روحانی وجود تقوی سے منسلک ہے.کافر ، مشرک کا روحانی وجود بیمار بے چین رہتا ہے. مادی وجود اگر چہ صحت کے تمام اصولوں پہ پورا اترتا ہو.اسی طرح مومن ومسلم کا روحانی وجود تقوی کے پیمانے کے لحاظ سے معتبر قرار پاتا ہے.(ان اکرمکم عند الله اتقاکم)جس طرح ظاہری بدن طبعی کمزوریاں رکهتا ہے.اور اس کو وضو اور غسل کی ضرورت پڑتی ہے.اسی طرح بشری کمزوریوں کی بناء پر روح کو بهی غسل اور وضو کی ضرورت پڑتی ہے.اور جب تک روح کی نجاست دور نہ کی جائے مومن بے قرار رہتا ہے.انسان کا اصل جوہر اس کی روح ہے جیسے کہ لباس زندہ وجود کا خاصہ ہے اسی طرح  زندہ بدن کا خاصہ اس کی روح ہے.روح بهی بیمار اور.نا پاک ہو جاتی ہے.اس کی  بیماری کا علاج قرآن مجید ہے (فیه شفا ء للناس)اس کی نا پاکی وہ گناہ ہیں جو سرزد ہوتے رہتے ہیں .کچه گناہ کبیرہ ہیں کچه صغیرہ کوئ حقوق العباد سےتعلق رکهتے ہیں کوئ حقوق الله سے.. ان گناہوں کی نجاست سے نجات” توبہ النصوح” کے وضو اور رجوع الی اللہ کے غسل سے ملتی ہے. جب بدن اور لباس دونوں پاک صاف معطر و مطهر ہونے سے طبیعت ہشاش بشاش ہوتی ہے تو اپنی روح اپنے باطن کی نجاستوں  سے ہم غافل کیوں ہیں؟دن رات گناہوں کی نجاست روح کو ناپاک کرتی رہتی ہے.جس طرح گندے بدن کی بد بو سے لباس بهی متاثر ہوتا ہے اسی طرح گناہوں کی  نجاست سے جسم پر بهی  برے اثرات مرتب ہوتے ہیں.  ایسا نہ ہو کہ روح کی طہارت میں تاخیر  زندگی کے آخری لمحات  شروع کردے جب روح کے وضو اور غسل کا موقع نہ رہے گا . جب قبر کے صندوق میں  روح کا لباس (بدن) اہتمام سے دهو نے(آخری غسل) کے بعد رکه دیا جائے گا اور روح اپنے  رب کے حضور حاضر کر دی جائے گی.
اپنے اصل وجود (روح)کو توبہ و انابت کے وضو اور  غسل سے پاکیزہ کرنے اور اعضاء و جوارح کو اعمال صالحہ سے  مزین کرنے کی مہلت تیزی سے ختم ہو رہی ہے.  جب تک دونوں وجود پاک و مطهر نہ ہوں گے مال یا اعمال کی کوئ نیکی یا عبادت قبول نہ ہوگی ، آخروی کامیابی بارگاہ الہی میں قبولیت کے ساته مشروط ہے.
ان الله یحب التوابين و یحب المتطهرین .

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s