رزق حلال (4)

"رزق حلال”
پاکیزہ زندگی کے حصول کا  بنیادی نکتہ اور فلسفہ رزق حلال سے وابستہ ہے. رزق سےمراد ہر وہ نعمت ہے جو  انسان کو زندگی گزارنے کے لئے ملی ہے  اور جو اس نعمت یا رزق کو قائم رکهنے  اور تقویت و بقا   کے مواقع فراہم کرنے کا ذریعہ  ہے وہ بهی بجائے خود ایک نعمت ہے. یعنی رزق در  رزق کا سلسلہ ہے جو الله سبحانه وتعالى نے آدم اور اولاد آدم کو  ودیعت کر دیا ہے..  اور حلال سے مراد رزق   یا نعمت کے حصول اور  استعمال میں  منعم حقیقی (الله تعالی ) کی فرماں برداری اور رضا مقدم رکهنا  ہے.اولاد آدم رزق (نعمتوں ) کا شمار کرنے سے عاجز ہے. (وإن تعدوا نعمت الله لا تحصوها )ان نعمتوں کی شکر گزاری ہی اخروی کامیابی کی دلیل ہے اور ان کی شکر گزاری نعمتوں کا صحیح استعمال ہے اور یہی ان کا حق ادا کرنا بهی ہے.
زندگی  ، مہلت عمر ،وقت خود ایک عظیم نعمت ہے اور یہ سب گزارنے کے لئے آزادئ انتخاب، شرف انسانی کا رزق  ہے.اس رزق کا حلال ہونا صراط مستقیم ہے.اور یہ اس رزق سے بہتر ہے جو  لوگ گمراہیوں میں تلاش کرتے ہیں. جو شرف انسانی کے لئے حرام ہے(و رزق ربک خير مما یجمعون )         و
دماغ،  ایک نعمت  ہے  افکار و خیالات   اس کا رزق ہے مثبت اور صالح افکار رزق حلال ہے . منفی خیالات، کفر و شرک منافقانہ باغیانہ افکار  دماغ کے لئے رزق حرام ہے . بصارت کا حلال رزق بصیرت کی نگاہ اور سماعت کا رزق,حلال، حق بات سننا ہے. زبان کا رزق,حلال  حق بولنا ہے.ہاته پاؤں کا حلال رزق ان کا حق کے لئے  استعمال  ہونا ہے.اور باطل کاموں میں ان سب کا ملوث ہونا حرام ہے. اس  لئے کہ  اپنے خالق کی فرماں برداری اشرف المخلوق کے حسب حال اور نافرمانی اسے زیب نہیں دیتی..رشتے ناطے کا رزق، حقوق وفرائض کی  محبت ایثار اور حق کے ساته ادائگی ہے،  حسب  نسب اور سسرالی رشتوں کا تقدس اور عمر، مرتبے کا لحاظ رکهنا انسانی رشتوں کے تعلقات کا جائز،حلال  اور لازمی رزق  ہے. حقوق العباد میں خیانت،بغض،کینہ  حسد رکهنا ناجائز اور حرام  ہے،اس لئے کہ اخلاق کریمانہ ہی  دراصل نفس انسانی کا رزق ہے …مال و دولت، اقتدار سب الله کی طرف سے عطا کردہ نعمتیں ہیں اور ان سب کے حصول اور استعمال میں  حرام و حلال کا  فلسفہ کام کرتا ہے.
چونکہ انسانی جسم  کو طاقت اور صحت غزا سے  حاصل ہوتی ہے اس لئے پیٹ میں جانے والا ہر لقمہ (حلال و حرام) اپنے ظاہری و باطنی ، روحانی اور جسمانی صحت و تندرستی پہ اثرات  رکهتا ہے اسی لئے اکل وشرب انسانی زہن اور پهر اسکے نتیجے میں نفسیات اور کردار پہ پوری طرح اثر انداز ہوتا ہے. الله الرزاق نے کهانے کی چند چیزوں کو حرام قرار دیا ان میں  یہی حکمت کام کر رہی ہے. انسان  اپنی خوراک ،لباس اور دیگر ضروریاتِ زندگی کے لئے  جو مال  حاصل کرتا ہے  وہ  حلال طریقہ سے کمایا ہوگا تو اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے. حرام کا ایک پیسہ باقی حلال کو بهی ناپاک  کردے گا. الله تعالى پا ک ہے اور پاک لوگوں اورپاک صدقات و اعمال کو قبول کرتا ہے،اور حرام سے پلے ہوئے نا پاک تن و توش  تو جہنم کے ہی قابل ہوں گے.
عقل وفہم کا رزق علم ہے .  یہ بهی حلال اور حرام  ہوتا ہے.وہ علم جو شرف انسانی کو” أحسن تقویم "کے مدارج طے کرائے وہ حلال علم ہے.جو” أسفل سافلین "کی پستیوں کی طرف لے جائے وہ  حرام  ہے. قرآن مجید کے ذریعے الله تعالی  عقل والوں سے مخاطب ہے اور علم والوں کے درجات الله کی نظر میں دوسروں سے زیادہ ہیں.
دل کا رزق ” الله کی یاد ” ہے.ایسی یاد جو  بے چین و بے قرار رکهے. اٹهتے بیٹهتے سو تے جاگتے، کروٹ بدلتے ،کهاتے پیتے، معاملات زندگی کو نپٹا تے دل  اس کی یاد میں بے کل ہو. کسی پل اس کا خیال دور نہ ہو .اس  کو راضی کرنے کا کوئ نہ کوئ جتن دل تلاش کرتا رہے.اس کی یاد میں آہیں بهر نے والا (اواہ منیب) ہو،اس سے ملاقات کی تڑپ دل.مہجور کو گرمائے رکهے. یہی "قلب سلیم "ہے. جب مال کام آئے گا نہ اولاد تو دل کا یہی  رزق کام آئےگا.
یوم لا ینفع مال و لا بنون إلا من اتی الله بقلب سلیم.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s