حدیث نمبر 27

تم میں سے کوئی اس وقت تک (اعلیٰ درجے کا) مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بهائی کے لیے وہی پسند نہ کرے، جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

حدیث نمبر 26

جب الله تعالی کسی کی بهلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی نیک نامی کر دیتا ہے۔ آپ سے پوچها گیا کہ اس سے کیا مراد ہے؟ فرمایا "الله تعالى اسے وفات سے قبل نیک عمل کی توفیق دیتا ہے حتیٰ کہ اس سے متعلقہ افراد اس سے راضی ہو جاتے ہیں۔

حدیث نمبر 25

سیدنا أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو نصیحت کی کہ "غصہ نہ کیا کرو”۔

حدیث نمبر 24

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” یقیناً آج یہ دور ہے جس میں علماء زیادہ اور خطباء کم ہیں۔۔۔ ایسی صورت حال میں جس شخص کو جوعلم و معرفت ہے اس میں سے دس فی صد بهی چهوڑ دے گا تو گمراہ ہوگا۔ مگر ایک زمانہ اس کے بعد بهی آنا ہے جس میں خطباء زیادہ اور علماء برائے نام ہوں گے۔ اس دورمیں جو شخص اپنے علم کے مطابق دس فی صد کو بهی تهام لے گا تو نجات پا جائے گا۔”

حدیث نمبر 23

رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان مروی ہےکہ”کوئی شخص اپنے مہمان کے لیے ایسا تکلف نہ کرے جس کی وہ استطاعت نہیں رکهتا۔”

حدیث نمبر 22

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "اپنے آپ کو ہر اس معاملے سے بچا کر رکهو جس کی وجہ سے بعد میں معذرت کرنی پڑے۔”

حدیث نمبر 21 

مسند احمد 191/1 میں مستند حدیث کے مطابق حضورﷺ نے ارشاد فرمایا :
"جب عورت پانچ وقت کی نماز ادا کرے، رمضان کے روزے رکهے، اپنے خاوند کی اطاعت گزاری کرے، اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرے، تو اسے کہا جائےگا کہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔”

حدیث نمبر 20

سیدنا ابن عباس (رض)سے رسول الله صلى الله عليه وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے ” اے قریشی جوانو، تم لوگ زنا کا ارتکاب نہ کرنا جو لوگ عفت و پاکدامنی کے ساتھ جوانی گزاریں گے وہ جنت کے مستحق ہوں گے۔”