سورہ الانفال کا آئینہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
سورہ الأنفال 8
مدینہ طیبہ کی سرزمین میں اس وقت نظام معیشت و معاشرت اور نظام سیاست مرتب ہوچکا تها.مسلمان جو مختلف مقامات  میں منتشر تهے اکثر ہجرت کرکے دار لإسلام میں جمع ہو چکے تهے..اس صورتحال سے قریش کو اپنی تجارتی راستوں پہ جو مدینہ کے آس پاس تهے مشکلات  کا خدشہ  تها . اور  نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم نے بهی انہی تجارتی  راستوں پہ دستے گشت کے لئے  مقرر کئے ہوئے  تهے.. قریش کا تجارتی  قافلہ 2 ہجری کو شام سے مکہ جاتے ہوئے اس علاقے کے قریب  پہنچا جو مدینہ کی زد میں تها تو ممکنہ  خطرے اور مستقل خوف نے ابو سفیان کو مجبور کیا کہ وہ مکہ سے کچھ لوگوں کو اپنی مدد کے لئے  طلب کر لے. مکہ میں یہ خبر طوفان بن کے  پہنچی تو غم و غصہ لہر دوڑ گئ سارے مشرک  اپنے تکبر اور انا کے نشے میں مست  اس نو زائدہ اسلامی ریاست کو ختم کرنے نکل کهڑے یوئے…اور یہ امت مسلمہ کا پہلا  عملی جہاد  اور ایمان کی آزمائش کا مرحلہ تها. دوسال کی نئی چهوٹی سی  بستی گنتی کے لوگ بے سروسامانی اور مقابلے میں صدیوں پرانا  تہزیبی غرور.مال و دولت اور نفری کی کثرت. .مگر الله رب العزت  نے مسلم امت کو  سرخرو  کیا.قریش نے منہ کی کهائی..
الله کی مدد اس وقت  آئی اور پوری شان کے ساته آئی جب مسلمان اپنی جان، مال ،گهر بار،  قابلیتیں.صلاحیتیں پوری ایمانی کیفیت  کے ساتھ میدان میں لے آئے. .ہهر الله تعالى کے نبی نے عجزو الحاح کے ساته دعا  فرمائی تو الله نے فرشتوں سے ان کی مدد فرمائی. اور حق کا بول بالا ہوا.
جنگ کے قواعد اور جنگی قیدیوں کے  مسائل مال غنیمت کے بارے میں  ہدایات  دی گئیں..
بدر کے معرکے سے مسلمانوں کو یہ سبق دیا گیا کہ کامیابی کا دارومدار کثرت افراد، مال و دولت پہ نہیں ہے،اخلاصِ عمل،الله کے دین کی سربلندی کا جزبہ وسائل کا ہر ممکن اہتمام لازمی ہے،تیر مسلمان   چلائیں گے.کمان سے تیر نکلے گا تو اس کو نشانے پہ لگانے کے لئے فرشتے بهیجے جائیں گے ..
امت مسلمہ نے آج سارا کام فرشتوں پہ چهوڑ رکها ہے اپنے حصے کا کام کرنے سے انکار ہے..مگر الله سے مدد کا انتظار ہے..صرف  دعاؤں پہ زور ہے. ساری امت کعبہ شریف کے سامنے آہ وزاری کرکے مدد مانگتی رہے تو  بهی مدد نہیں آ ئےگی.اگر دین کے غلبے اور کافروں کے  نیست و نابود کرنے کا یہی طریقہ کار آمد ہوتا تو نبی سے بڑه کے کس کی دعا مستجاب ہوسکتی ہے؟نبی نےتو دین کو غالب کرنے کے لئے ہجرت کی. اسلامی ریاست بنائی. میدان  میں اترے صفیں ترتیب دیں تیر کمان پہ چڑها ئے تلوار میان سے نکالی اورپهر مدد کے لئے پکارا.مٹهی بهر ریت  آٹهانی اور پهینکنی پڑتی ہے،اس کا ہر زرہ کس کی آنکھ میں جانا ہے یہ اللہ کا کام ہے
وما رمیت اذ رمیت ولكن الله رمی
ساری امت مسلمہ کے سامنے ایک سوال ہے
کیاہم اپنے حصے کا کام کررہے ہیں؟الله کا وعدہ تو سچا ہے. وہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرنے والا نہیں ہے.
"اے ایمان والو؛ اگر تم (اپنے حصے کا کام)تقوی  اختیار کروگےتو  الله تمہارے  لئے کسوٹی بہم پہنچادےگا اور تمہاری برائیوں کو تم سے دور کرےگا اور تمہارے قصور معاف  کرے گا  الله بڑا فضل فرمانے والا ہے. .”29
امت مسلمہ کے سامنے  یہ آیت ہے
"الله اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جهگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی.اور تمہاری ہوا اکهڑ جائے گی ،صبر (یعنی استقامت )سے کام لو. بے شک الله صبر کرنے والوں کے ساته ہے. .46
دشمنوں سے غافل نہ ہو اور دفاعی اسلحہ تیار رکهو ،اپنا رعب قائم رکهو.آئت60 میں بتایا گیا ہے کہ دشمنوں کو خوف زدہ کرنے لئے جو بهی انتظام کروگے جو بهی مال خرچ کروگے وہ اللہ کی راہ میں ہی خرچ ہوگا اور اس کا پورا اجر دیا جائے گا اور کسی پہ ظلم نہ ہوگا.
گویا ہمارا ایٹمی قوت ہونا اور اس کے لئے خرچ کرنا ہمارا قومی و ملی  فریضہ  ہے..
اللهم الف بین قلوبنا و أصلح زات بیننا واهدنا سبل السلام و نجنا من الظمات الی النور آمین ..
طالب دعا بشری تسنیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s