خالی دامن

’’تمہارا کیا خیال ہے، کل کی دعوت کے بارے میں؟‘‘ فرح نے اپنی بہن صبا سے پوچھا۔
’’توبہ ہے! کل تو اتنا بدمزہ کھانا بنایا تھا بھابھی نے میں تو کھائے بغیر ہی آگئی۔‘‘ صبا نے برا سا منہ بنا کر کہا۔
’’ہاں میں بھی یہی کہہ رہی تھی۔‘‘ فرح نے پرجوش ہوکر کہا پھر ان دونوں خواتین نے اپنی بھابھی کے بارے میں اس کے ہاں کھائے ہوئے کھانے کے مابعد اثرات یہ بحث شروع کی لیکن دونوں نے محسوس ہی نہ کیا کہ وہ بھاابھی کا ’’مردہ جسم‘‘ نوچ نوچ کر کھانے میں کچھ بھی کراہت محسوس نہیں کر رہی ہیں۔ بھابھی اور اس کے کھانے کی ہر ڈش میں کؤی نہ کوئی خرابی کا احساس اتنا مستحکم تھا کہ بھابھی کی کوئی بھی خوبی احساس کی گرفت سے دورر ہوتی جا رہی تھی۔ جب ’’مردار‘‘ کھانے کی عادت پختہ ہو جاتی ہے تو ہر چیز میں اس مردار خوری کا ذائقہ ہی چٹخارے دار معلوم ہوتا ہے۔
ایک اور منظر میں لین دین پر دل کے ارادے ظاہر ہو رہے ہیں ’’سارہ! میری ساس چاہتی ہے کہ میں اپنے زیور میں سے کوئی چیز اپنی نیند کو تحفہ دے دوں‘‘ اس نے ماتھے پر ہاتھ مارا اپنی دوست کو دیکھا اور پرعزم لہجے میں اپنا فیصلہ سنایا۔‘‘ میں تو مر کر بھی اسی کمینی کو اپنی کوئی چیز نہ دوں چاہے وہ ٹوٹی جوتی ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
اور پھر ٹوٹی جوتی بھی نہ دینے کا عزم کرنے والی نے اپنی نند کو اپنے بہت سے نیک اعمال منتقل کر دیئے۔ وہ جتنی برائی، بدزبانی، مغلظات، الزام لگا سکتی تھی اس پر لگائے۔ اس کو محسوس بھی نہ ہوا، یاد بھی نہ رہا کہ وہ اپنی کتنی قیمتی عبادات اپنے اعمال نامے سے نند کے اعمال نامے میں منتقل کرتی جا رہی ہے۔ وہاں وہ اپنی نند کو راضی کرنے کے لیے ہر قیمتی چیز دینے کو تیار ہوگی۔ مگر وہاں تو ہاتھ بھی خالی ہوگا اور دامن بھی۔ ساری نیکیاں اپنے وہ متعلقین لے گئے ہوں گے جن سے دشمنی تھی۔ جس کو کبھی کچھ نہ دیا سوائے دل دکھانے کے۔ زبان کی تیزی، بدلحاظی اور بے مروتی کے اس شاخسانے کا ادراک آج نہ ہوا تو پھر کب ہوگا؟
انسان سمجھتا ہے وہ اپنے دشمن سے بدلہ لے رہا ہے۔ جس سے دل راضی نہیں اس کو محروم کر رہا ہے۔ دل کی بھڑاس نکال رہا ہے۔ مگر کتنا نادان ہے کہ جس کو معمول سا حق دینے پر دل تنگ ہے۔ اسی کو بن مانگے ’’جواہرات‘‘ دے کر تہی دامن ہوتا جا رہا ہے۔ یہ دشمنی تو اپنے آپ سے ہے۔ واقعی انسان بڑا ظالم اور جاہل ہے۔ وہ دوسروں پہ نہیں اپنے آپ پر ظلم کر رہا ہے۔
اپنی جان پر ظلم کا چلن کیسے ختم ہو؟ اپنی کمائی، اپنی اخروی دھن دولت کی حفاظت کیسے ہو؟
انسان کے لئے اپنے تمام حواس اور بدن کے اعضاء میں زبان کی اہمیت جتنی زیادہ ہے اس کی حفاظت اتنی ہی اہم ہے اور کمزور انسان کے لئے اس کے ساتھ درست اور ایمانی رویہ رکھنا بھی اتنا ہی مشکل ہے۔ مشکل امر پہ کامیابی کی ضمانت بھی زیادہ ہے۔ جنت کی ضمانت کے لیے ۔۔۔۔۔۔ کی حفاظت کرنے کا ایک ساتھ حکم دیا گیا، عزت و عصمت ۔۔۔۔۔۔ کی حفاظت کرنے والے کے لیے جنت کی ضمانت ہے۔ تو زبان کی حفاظت ۔۔۔۔۔۔ کرنے والے کے لیے بھی اس کے ساتھ، اسی محفل میں جنت کی ضمانت دی گئی ہے۔ ایک لحاظ سے زبان کی حفاظت اور بھی مشکل امر ہے کہ اس کے مواقع وافر ہیں۔ فون، انٹرنیٹ، موبائل ۔۔۔۔۔۔ آسان کر دیا ہے اورمعاشرے میں ہر طرف مردار خوری ۔۔۔۔۔۔ ہے۔ ہر طرف ایک عجیب سی سڑانڈ اور بساند ہے جس سے ۔۔۔۔۔۔ کھلا گیا ہے۔ تازگی کی جگہ پژمردگی نے لے لی ہے۔
آئیے اپنے آپ کو ظلم سے بچائیں، خود پہ مہربان ہو جائیں۔ اپنی دولت کی حفاظت کریں۔ معاشرے میں حسن پیدا کریں۔
*۔۔۔ سب سے پہلے نیت میں اخلاص پیدا کریں۔ اللہ تعالیٰ سے استقامت کی دعا کریں۔
*۔۔۔ استغفار کریں۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کو پردے میں رکھنے کی استدعا کریں۔ پھر توبہ کریں کہ آئندہ اس گناہ سے بچنے کے عملی اقدامات کروں گی۔ خالی استغفار کی تسبیح پڑھ لینے سے کام ادھورا رہتا ہے جب تک انابت و توبہ کے ذریعے عملی اقدام کرکے نہ دکھایا جائے۔
*۔۔۔ جن کی برائیاں نظر آتی ہیں، ان کی اچھائیاں بھی تلاش کریں اور ان کی خوبیوں کا ان لوگوں کے سامنے اظہار کریں جن کے سامنے لوگوں کی برائیاں کی تھیں۔
*۔۔۔ جن کی برائیاں کی ہیں، دل دکھایا ان سے معافی مانگیں، اگر وہ معاف نہ کریں تو ان کے ساتھ احسان کا رویہ رکھیں۔ اصلاح کا عمل جتنا خلوص نیت سے ہوگا اللہ تعالیٰ کی مدد بھی اسی حساب سے شامل ہوگی۔
*۔۔۔ ان کو تحائف دیئے جائیں۔ گزشتہ برے سلوک کی تلافی کے لیے حسن سلوک کیا جائے۔ ہوسکتا ہے اس کام میں اپنے حسن اخلاص نیت کا یقین دلانے میں بہت وقت لگ جائے۔ مگر صبر و استقامت سے نیکی پہ قائم رہا جائے۔
*۔۔۔ جن کے ساتھ برے سلوک کی تلافی ممکن نہ ہو ان کے درجات بلند کرنے کی دعا کی جائے۔ اس سلسلہ میں ایک مسنون دعا بھی ہے۔ اس دعا کو ہر رات یا ہر نماز کے بعد پڑھا جائے۔ جن کو ہم نے تکلیف دی ان کو جب رب کا تقرب مل جائے گا تو وہ ہمارے خلاف دعویٰ دائر نہ کریں گے ان شاء اللہ۔ ’’اے اللہ! یہ ایک عہد ہے میرے اور آپ کے درمیان، میں جانتا / جانتی ہوں کہ آپ عہد کی پابندی کرنے والے ہیں، تو پھر عرض یہ ہے کہ اے اللہ بے شک میں ایک کمزور انسان ہوں، میں نے اسی کمزوری کے تحت کسی مومن کو تکلیف دی ہو۔ برا بھلا کہہ دیا ہو یا اس کو سزا دے دی ہو، یا اس پر لعنت کی ہو، تو میری درخواست ہے کہ اس کے بدلے میں تو اس کو رحمت، پاکی اور اپنی قربت کا ذریعہ بنا دے اپنا تقرب عطا کر دے۔‘‘ (حزب الاعظم)
*۔۔۔ جن لوگوں کو بہت زیادہ غیرمحتاط باتیں کرنے کی عادت ہے، ان سے میل جول کم کر دیں۔ وقت کا کوئی بہتر استعمال تلاش کریں۔
*۔۔۔ جب کوئی کسی کی برائی کرنے لگے تو اس کو روک دیں۔ اس بات سے توجہ ہٹانے کی پوری کوشش کریں۔ کسی اور طرف دھیان لگائیں۔
*۔۔۔ دو لوگوں نے کسی تیسرے کی بات کرنی ہو تو دونوں ایک دوسرے کو پہلے باور کرائیں کہ ہم نے برائی نہیں کرنی ہے الا یہ کہ شرعی احکامات کے مطابق ہو۔ جب ہم کسی نیک کام کا ارادہ لوگوں پر ظاہر کرتے ہیں تو پھر لوگ ہمیں مکمل طور پر خامیوں سے پاک دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں وہ ایک ہی جست میں چاہتے ہیں کہ ہم برائیوں سے خود تو پاک ہو جائیں۔ یہ رویہ اکثر معاندانہ ہوتا ہے۔ مقصد یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنے گریبان میں پہلے جھانکو، ہر طریقے سے ہماری کمزوریاں گنوائی جاتی ہیں۔ انسان، انسان ہی رہے گا وہ فرشتہ نہیں بن سکتا۔ انسانی کمزوریاں ظاہر ہوتی رہیں گی، لوگوں کے منفی رویہ سے دل برداشتہ نہ ہوں۔ مولانا مودودیؒ نے کتنی اچھی مثال دی کہ جب ایک برتن کو بہت سارے لوگ مانجھنے لگیں تو اس کی صفائی اس قدر زیادہ بہتر ہو جائے گی اور اسی پہ میل آتے ہی صفائی ہوتی رہے گی۔
*۔۔۔ جب کسی سے ملاقات کے لیے جانا ہو تو اللہ تعالیٰ کے حضور درخواست کریں جو کہ ایک مسنون دعا کی شکل میں ملتی ہے۔ ’’اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتی / آتا ہوں کہ میں کسی کو بہکاؤں یا مجھے کوئی بہکائے، خود لغزش کھاؤں یا دوسرے کو لغزش میں مبتلا کروں، کوئی ظلم مجھ پر کرے یا میں کسی پر ظلم کروں، میں کسی کے ساتھ نادانی کی بات کروں یا کوئی اور میرے ساتھ نادانی کی بات کرے۔‘‘
*۔۔۔ کسی کی برائی کا تذکرہ ناگزیر ہوو تو اشارے کنایے میں نام لئے بغیر بات کی جائے۔ مسنون طریقہ بھی یہی ہے کہ۔۔۔ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے۔۔۔ آج کل لوگ یہ کہنے لگے ہیں یا سوچنے لگے ہیں۔ یعنی بات کرنے کا طریقہ ایسا ہو کہ کسی خاص شخص کی طرف نام کا تذکرہ نہ ہو، دھیان نہ جائے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اعمال صالحہ کرنے اور ان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

One Comment Add yours

  1. reshma نے کہا:

    Mashallah may allah give barakah in ur efforts. Its simple n precise npractical. May Allah guide us

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s